سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور ان مفکرین اسلام میں شمار ہوتے ہیں جن کی رحلت سے پاکستان اور سارا عالم یکساں طورپر رنج و غم میںڈوبا۔ اس وقت فکری اور ذہنی اعتبار سے ملت بڑی بے بسی کی حالت میں خطرناک موڑ پر کھڑی تھی۔ الحاد ، اشتراکیت، قادیانیت زوروں پر تھی۔ مسلمان نوجوانوں کے پاس کوئی لائحہ عمل نہ تھا۔ بے راہ روی بڑی شدت سے پھیل رہی تھی۔ اس نازک مرحلے پر سید مودودیامید کی کرن ثابت ہوئے ۔ انہوں نے اپنے دلنشین اور جاذب نظر اندازمیں نوجوانوں کو مخاطب کیا۔ انہوں نے تجدید و احیائے دین اور اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طورپر پیش کیا۔ سید مودودی کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے مسلم نوجوانوں بالخصوص طلبا کی طرف توجہ مبذول فرمائی اور انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کی تنظیم میں شامل کر کے دین اسلام کا بالعموم اور شمع رسالتۖ اور ختم نبوتۖ کا بالخصوص پروانہ بنا دیا۔ آج نوجوان نسل میں جتنی فکری بیداری آئی ہے وہ تمام تر اسلامی جمعیت طلبہ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور اس کا سہرا سید مودودیکے سر ہے۔ اگر اسلامی جمعیت طلبہ کی تنظیم تشکیل نہ پاتی تو اللہ جانے ہماری نوجوان نسل کا کیا حشر ہوتا اور ہمارا معاشرہ کن خوفناک گمراہیوں کا شکار ہو چکا ہوتا۔ راقم السطور کو گزشتہ چھیاسٹھ برس سے جمعیت میں پیدا ہونے والی اسلامی و سیاسی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا اتفاق ہوتا رہا۔ نوجوان بھارت سبھا، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ، خاکسار تحریک اور اس قسم کی بے شمار تنظیموں اور تحریکوں کا تجزیہ کرنے کا موقع ملا ۔ قیام پاکستان کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کے خلوص دینی محبت اور تہذیبی سرگرمیوں سے میں بہت متاثر ہوا۔ مجھے ان نوجوانوں کے پاک اور نیک عزائم سے بڑی دلچسپی اور ہمدردی بھی رہی۔ جمعیت کی دعوت اور تبلیغی اجتماع میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ بہت سے صاحب علم نوجوانوں نے قرآن و سنت اور سیرت طیبہۖ کیے پیغام کو طلبہ تک پہنچایا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے تربیتی اجتماعات ، دینی تربیت کے اعتبار سے نہایت مفید ثابت ہوئے۔راقم السطور نے اسلام سے وابستگی اور ذوق و شوق کے ایسے کئی مناظر دیکھے جن کی یاد جیتے دم تک ہمیشہ تازہ رہے گی۔ہمارے ان طلبہ نے آڑے وقت میں اسلام کی شان اور آن برقرار رکھنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور بعض مواقع پر اسلام کی سربلندی کیلئے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے جن کی داستان ہماری تحریک احیائے اسلام کا سنہری باب ہے۔ حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو نوجوانوں کی تن آسانی ہمیشہ رلاتی رہی۔ سید مودودی مرحوم نے اس تن آسانی کو سخت کوشی میں تبدیل کرنے کی تدبیر نکالی اور جس آہ و سحر کو حضرت علامہ اقبال دیکھنے کے آرزو مند تھے ، سید مودودی نے وہ آہ و سحر نوجوانوں میں عملاً پیدا کردی۔ یوں سمجھئے کہ سید مودودی نے اسلامی جمعیت طلبہ کی تنظیم کر کے علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر پوری کر دی اور اس کے ساتھ ہی ملت اسلامیہ کو ہولناک تباہی و ہلاکت سے بچا کر احیائے دین کی تحریکوں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ سید مودودی نے نوجوانوں کو اسلام کا نہایت سلیس ، عام فہم لٹریچر فراہم کیا۔ جمعیت کا ہر رکن بالعموم اسلامی عقائد اور اخلاق کا مبلغ دکھائی دیتا ہے اور گھر گھر پھر کر دین کی تبلیغ کرنے اور تعلیمی اداروں میں یہ نوجوان اسلام کے اخلاقی اعلیٰ اقدار کے حامل نظر آتے ہیں۔ ان نوجوانوں نے سارے ملک میں بے شمار اسلامی لائبریریاں قائم کیں اور اکثر نوجوانوں کے ہاتھ میں تفہیم القرآن کے نسخے نظر آنے لگے۔ سید مودودی نے ہمارے بزرگوں، نوجوانوں اور عام لوگوں میں اسلامی فکر و نظر، ذوق و عمل اور شوق عبادت پیدا کر کے وطن عزیز میں اسلامی معاشرے کے قیام کی راہ ہموار کی۔ سید مودودی کا یہ بڑا شاندار کارنامہ ہے کہ جدید دور میں اسلام اور ملت اسلامیہ کی بے لوث اور بے بہا خدمت کے ساتھ عربی و اسلامی علومی کے ابلاغ کی جو خدمت کی ہے وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ سید مودودی 1903ء بمطابق 1321ھ میںریاست حیدرآباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اٹھارہ برس کی عمر میں صحافی زندگی کا آغاز کیااور جمعیت علمائے ہندکے روزنامہ “الجمعیت” کے مدیر رہے۔ 1920 میں جب ملعون گستاخ رسولۖ راج پال نے حضورۖ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ‘رنگیلا رسول’ کتاب لکھی تو تحریک خلافت کے ممتاز رہنماء مولانا محمد علی جوہر نے جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کاش کوئی مسلمان اسلام میں جہاد کی ضرورت اور اہمیت بیان کرے چنانچہ مولانا مودودی نے الجہاد فی السلام لکھی ۔ علامہ اقبال نے اس کتاب کو بہترین قرار دیا اور انہوں نے اسے پڑھ کر فرمایا کہ آج تک اس سے اچھی کتاب تصنیف نہیں ہوئی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 1932ء میں حیدرآباد سے ماہنامہ ترجمان القرآن جاری کیا تو علامہ اقبال ، سید نذیرنیازی مرحوم اور میاں محمد شفیع (مدیر ہفت روزہ اقدام لاہور) سے پڑھوا کر سنتے اور بے حد تحسین فرماتے۔ انہیں سید مودودی کی تحریروں میں گویا اسلامی مطلوب مل گیا تھا۔ انہوں نے سید مودودی کو لاہور منتقل ہونے کیلئے کئی خطوط تحریر کئے۔ انہی دنوں میں جمال پور تحصیل پٹھان کوٹ کے مخیر مسلمان چودھری نیاز علی نے خدمت دین کیلئے وسیع رقبہ وقف کر دیا ۔ چودھری نیاز علی کے مشورہ کرنے پر علامہ محمد اقبال نے سید مودودی کا نام لیا کہ وہ اس کام کیلئے انتہائی موزوں شخصیت ہیں۔ انہوں نے سید مودودی سے خط و کتابت کی اور انہیں جمال پور (پٹھان کوٹ ) آنے کو کہا۔ سید مودودی 1938 میں جمال پور آئے مگر اپریل 1938 میں علامہ اقبال رحلت فرماگئے۔ سید مودودی کیلئے علامہ اقبال کی رحلت بہت بڑا صدمہ تھا۔علامہ اقبال سید مودودی کی تصنیف الجہاد فی السلام کے متعلق کہتے تھے کہ مصنف نے اسلام کا صحیح تصور پیش کیا ہے ۔علامہ نے مسلمانوں کو اس کتاب کے مطالعے کیلئے قائل کیا۔ بقول علامہ اقبال ، سید مودودی نے اپنی علمی زندگی کی ابتدا میں الجہاد فی السلام لکھ کر اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوا یا تھا۔ سید مودودی نے قوم کی رہبری نہ صرف قلم کے ذریعے کی بلکہ وہ حقیقی معنوں میں داعی حق اور اسلام کے رہنما تھے۔ ان کی زندگی اور کردار اقبال کے شعر کے مستعار تھی ۔
نِگاہ بلند، سخن دل نواز، جاں پْرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
سید مودودی کی تصانیف میں قرآن پاک کی تفسیر تفہیم القرآن، الجہاد فی السلام، تجدید احیائے دین، تعلیمات، تفہیمات، مسئلہ قومیت، مسئلہ جبر و قدر اہم ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف کا مولانا مسعود علی نے عربی میں بہت عمدہ ترجمہ کیا۔سید مودودی کی عظمت کا احساس ان کی تصانیف کے مطالعہ سے ہو جاتا ہے لیکن ان کی عظمت و جلالت کا منظر راقم السطور نے اپنی آنکھوں سے قذافی اسٹیڈیم لاہوروسیع و عریض میدان میں 25 ستمبر کو دیکھا جہاں ان کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے کیلئے ملک بھر سے ہر طبقے کے لوگ ، بوڑھے، بڑے چھوٹے، نوجوان سیلاب کی صورت میں قطار اندر قطار امڈے چلے آرہے تھے۔ بلاشبہ یہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں برصغیر پاک و ہند کے علاوہ بیرون ممالک سے ممتاز شخصیات اور اسلامی رہنماؤں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی کو اہل خانہ کی خواہش پر منصورہ اچھرہ میں ان کے اپنے گھر میں جہاں وہ عصر کے وقت مجلس میں شریک ہوتے تھے، اسی مقام پر سپرد خاک کیا گیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ اور ارفع مقام عطا کرے۔ آمین ثمہ آمین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں