باسفورس کے سیاہ پانیوں پر چاند کی روشنی ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہی تھی۔ محلوں کے دروازے بند تھے، گلیوں میں خاموشی اتر چکی تھی اور مینار آسمان کی طرف یوں دیکھ رہے تھے جیسے صدیوں سے کسی بھولی ہوئی صدا کے منتظر ہوں۔شہر سو رہا تھا، مگر تاریخ جاگ رہی تھی۔پھر ایک دن اچانک وہ ہوا جس کا انتظار ایک پوری نسل نے کیا تھا۔مینار سے آواز بلند ہوئی۔ اللہ اکبر، یہ صرف اذان نہ تھی، یہ ان لوگوں کیلئے محض چند الفاظ نہ تھے جنہوں نے برسوں تک اپنی مذہبی روایت کو محدود ہوتے دیکھا تھا یہ ان کے حافظے میں محفوظ ایک آواز کی واپسی تھی اور اس تبدیلی کا محور ترکی کا وزیراعظم عدنان میندریس تھا۔مگر تاریخ کے عجیب کھیل دیکھیے کہ جس شخص کے سیاسی دور کو بعض لوگوں نے مذہبی آزادی کی واپسی سے جوڑا وہی شخص چند سال بعد اقتدار سے محروم قیدی اور بالآخر پھانسی کے تختے پر کھڑا تھا۔ کہانی کیا ہے آئے جانتے ہیں۔ عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد ترکی ایک نئی ریاست کی تعمیر میں مصروف تھا۔پرانی سلطنت کے ملبے سے ایک جدید جمہوری نظام وجود میں آ چکا تھا ایک طرف جدید ترکی کی ریاستی شناخت تھی دوسری طرف وہ مذہبی روایت جس نے صدیوں تک اس معاشرے کی روحانی زندگی کو تشکیل دیا تھا۔اسی ماحول میں 1946ء میں ڈیموکریٹک پارٹی وجود میں آئی۔ عدنان میندریس اس نئی سیاسی قوت کے نمایاں رہنماء تھے۔پھر 14 مئی 1950ء کا دن آیا۔انتخابات ہوئے۔نتائج نے ترکی کی سیاست کا رخ بدل دیا۔ڈیموکریٹک پارٹی کامیاب ہوئی جلال بایار صدر بنے اور عدنان میندریس وزیراعظم۔یہ ایک اہم جمہوری انتقالِ اقتدار تھا۔ پھر عدنان میندریس نے صدر سے اصرار کرکے قانون پاس کروا لیا کہ عربی زبان میں اذان پر عائد پابندی ختم کی جائے۔ 16 جون 1950ء یہ وہ تاریخی دن تھا جب پھر میناروں نے وہ زبان دوبارہ سنائی جس میں نسلوں نے نماز کیلئے پکار سنی تھی۔ذرا سوچیئے۔ایک مؤذن مینار پر کھڑا ہے۔پھر وہ پکار اٹھتا ہے۔اللہ اکبر۔ یہ آواز پتھر کے مینار سے نکلی مگر اس کی بازگشت لوگوں کے دلوں تک پہنچی۔تاریخ کے بعض فیصلے سرکاری دستاویزات میں چند سطروں سے زیادہ نہیں ہوتے مگر قوموں کے حافظے میں وہ پورے عہد کی علامت بن جاتے ہیں ۔ میندریس حکومت نے مذہبی زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی تبدیلیاں کیں۔ دینی پروگراموں کیلئے ریڈیو پر گنجائش بڑھی، مذہبی تعلیم کو دوبارہ جگہ ملی اور 1951ء سے امام خطیب اسکولوں کے نظام کو فعال کیا گیا۔یہ تبدیلیاں اس طبقے کیلئے خاص اہمیت رکھتی تھیں جو سمجھتا تھا کہ جدید ریاست کا مطلب اپنی مذہبی شناخت کو ترک کرنا نہیں ہونا چاہیے۔اسی زمانے میں عثمانی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی 1952ء میں ترکی واپس آنے کی اجازت دی گئی۔یہ بھی تاریخ کا عجیب رنگ تھا۔جن خاندانوں کے بزرگ کبھی انہی محلوں میں سلطنت کے فیصلے کرتے تھے ان کی اولاد برسوں کی جلاوطنی کے بعد وطن واپسی کی خاطر حاکم وقت کی اجازت کی منتظر تھی۔تاریخ کبھی دروازے بند کرتی ہے اور کبھی انہی دروازوں کی چابیاں بھی واپس کردیتی ہے۔لیکن میندریس کی حکومت صرف مذہبی معاملات تک محدود نہ تھی ۔ زراعت، سڑکوں، بجلی، مشینری اور دیہی ترقی پر توجہ دی گئی۔ معاشی سرگرمیوں اور نجی شعبے کو فروغ دینے کی کوشش ہوئی۔ دیہی علاقوں کے ایک بڑے محروم طبقے کو احساس ہوا کہ اقتدار کے ایوانوں تک ان کی آواز کی رسائی بھی ہو سکتی ہے اقتدار صرف پھولوں کی سیج نہیں ہوتا کبھی اپنے ساتھ آزمائشیں بھی لاتا ہے۔1950ء کی دہائی کے آخری برسوں میں معاشی مشکلات بڑھیں۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پریس اور سیاسی آزادیوں کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔پھر تاریخ نے ایک اور کروٹ لی۔27 مئی 1960ء فوج نے منتخب حکومت ختم کرکے وزیراعظم عدنان میندریس کو گرفتار کرکے یاسی اڈا لے جا کر انکے خلاف مقدمات چلانے شروع کر دئیے۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا منظر تھا جس میں اقتدار کی بلندی اور زوال ایک ہی فریم میں دکھائی دیتے تھے۔کچھ ہی برس پہلے وہ ملک کے منتخب وزیراعظم تھے ۔ اب ایک جزیرے پر پابند سلاسل عدالت کے سامنے کھڑے تھے اور پھر 17 ستمبر 1961ء کو عدنان میندریس کو پھانسی دے دی گئی۔ ان کے ساتھ وزیر خارجہ فاتح رشدی زورلو اور وزیر خزانہ حسن پولاتکان کو بھی سزائے موت دی گئی ۔ ایک وزیراعظم دنیا سے رخصت ہوگیا۔مگر تاریخ اسے بھلا نہ سکی۔ گردش وقت رواں رہی۔ ترکی نے اپنے ماضی کی عظمت رفتہ کی کھوج شروع کی۔ 1990ء میں میندریس اور ان کے دونوں ساتھی وزرا کے بعد از مرگ قومی و قانونی اعزازات بحال کئے گئے۔ ان کے جسدِ خاکی استنبول منتقل کیے گئے اور ریاستی اعزاز کیساتھ دوبارہ تدفین کی گئی۔تاریخ کا پہیہ واقعی عجیب ہوتا ہے۔کبھی وہ انسان کو اقتدار سے قبر تک لے جاتا ہے اور کبھی اسی قبر سے اس کی یاد کو دوبارہ قومی حافظے میں واپس لے آتا ہے۔عدنان میندریس کے عہد کو سمجھنے کیلئے صرف ان کی مذہبی پالیسیوں یا صرف ان کی سیاسی مخالفت کو دیکھنا کافی نہیں۔ یہ اس ترکی کی داستان بھی ہے جو اپنی جدید ریاستی شناخت، مذہبی روایت، عوامی مطالبات ، سیاسی آزادی اور جمہوری اداروں کے درمیان ایک راستہ تلاش کررہا تھا۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ میندریس کا نام آج بھی ترکی کی تاریخ میں ایک سوال کی طرح موجود ہے ۔ باسفورس آج بھی بہتا ہے۔استنبول کے محل آج بھی کھڑے ہیں۔مینار آج بھی آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ہیں۔اور ان میناروں سے آج بھی اذان کی صدا بلند ہوتی ہے۔شاید کسی رات باسفورس کے کنارے کھڑا کوئی مسافر جب فضا میں اللہ اکبر کی ندا سنتا ہے تو وہ اسے صرف ایک مذہبی پکار سمجھ کر آگے بڑھ جائے ۔ مگر تاریخ جانتی ہے کہ بعض آوازوں کے پیچھے پوری صدیوں کی داستان ہوتی ہے۔عدنان میندریس چلا گیا۔ اس کا اقتدار ختم ہوگیا ۔ پھانسی کا پھندا بھی اپنا کام کرگیا۔مگر اس کے کیے گئے کاموں کو وقت کی گرد بھی دھندلا نہ سکی ۔ تاریخ کے سینے میں کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو موت سے بھی زیادہ طویل عمر پاتے ہیں اور شاید باسفورس کی لہریں آج بھی رات کے سناٹے میں یہی کہتی ہیں۔حکومتیں بدل جاتی ہیں، تخت خالی ہوجاتے ہیں، حکمران رخصت ہوجاتے ہیں مگر جو آواز کسی قوم کے حافظے میں گھر کرلے، اسے زمانہ ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں کرسکتا۔استنبول کے مینار آج بھی کھڑے ہیں اور جب فجر کی پہلی روشنی باسفورس کے پانی پر اترتی ہے اور میناروں سے اذان بلند ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ خود گواہی دے رہی ہو۔ کچھ آوازیں دبائی جاسکتی ہیں مٹائی نہیں جاسکتیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں