بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 19.3°C
Tuesday, 29 September 2026 | پاکستان: 18 ر بیع الثانی 1448

امن کا راستہ، جنگ نہیں مذاکرات!

Tuesday, 29 September, 2026

دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں فوجی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، مگر امن کا دائرہ اسی رفتار سے وسیع نہیں ہو سکا۔ جدید میزائل، ڈرون، مصنوعی ذہانت، سائبر جنگ، ایٹمی ہتھیار، معاشی پابندیاں اور بڑی طاقتوں کی اتحادی صف بندی نے ریاستوں کی جنگی صلاحیت ضرور بڑھا دی ہے، لیکن جنگ ختم کرنے کی سیاسی صلاحیت آج بھی مذاکرات، سفارتکاری اور سیاسی سمجھوتے ہی سے پیدا ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس نے اس تضاد کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔ نیویارک میں جمع ہونیوالے عالمی رہنما ایسے وقت میں گفتگو کر رہے ہیں جب غزہ، ایران اور اسرائیل، روس اور یوکرین، یمن، سوڈان اور دیگر بحران عالمی سیاست کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں ۔ اس سال جنرل اسمبلی کا مرکزی موضوع اعتماد کی بحالی، تبدیلی کے انتظام اور سب کے لیے مثر اقوام متحدہ کے تصور کے گرد گھوم رہا ہے۔ گویا خود عالمی ادارہ تسلیم کر رہا ہے کہ موجودہ بحران صرف جنگوں کا نہیں بلکہ عالمی اعتماد کے ٹوٹنے کا بھی بحران ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افتتاحی مباحثے سے خطاب میں دنیا کی موجودہ کیفیت کو واضح الفاظ میں بیان کیا۔ ان کے مطابق عالمی تقسیم کی دراڑیں گہری ہو رہی ہیں، جنگیں طویل ہو رہی ہیں، شہری نشانہ بن رہے ہیں، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، امدادی کارکن جانیں گنوا رہے ہیں اور بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ گوتریس نے طاقت کے استعمال کے بجائے قانون، تعاون اور سفارت کاری کو عالمی نظام کی بنیاد بنانے پر زور دیا۔فلسطین کے مسئلے پر انہوں نے غزہ کی تباہ کن صورت حال، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ محض عارضی جنگ بندیاں پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ ان کے پیغام کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ کشیدگی کم کی جائے، مکالمہ آگے بڑھایا جائے، جنگ روکی جائے اور سیاسی حل کی طرف بڑھا جائے۔گوتریس کیلئے یہ خطاب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ان کی دوسری مدت بطور سیکریٹری جنرل 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ اس پس منظر میں ان کا پیغام محض کسی ایک بحران پر تبصرہ نہیں بلکہ تقریبا ایک دہائی کے سفارتی تجربے کا خلاصہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ آج مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا میں جنگیں موجود ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ طاقت کے مراکز بڑھ رہے ہیں، عالمی اعتماد کم ہو رہا ہے اور موجودہ عالمی ادارے بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق پوری طرح مثر ثابت نہیں ہو رہے۔81ویں جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمن نے بھی امن اور مذاکرات کے اسی تصور کو اپنی صدارت کے اہم پیغامات میں شامل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امن محض خواہش نہیں بلکہ تعمیر کرنے والی چیز ہے اور یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مذاکرات کو تباہی پر ترجیح دینے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق دنیا بھر کے لوگ اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ صرف موجود ہے یا مثر طور پر کام بھی کر رہا ہے۔ جب سلامتی کونسل اہم معاملات پر مثر کارروائی سے قاصر رہتی ہے تو جنرل اسمبلی کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جنرل اسمبلی سے خطاب اس بحث کا ایک مختلف پہلو سامنے لاتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کیا، امریکی عسکری طاقت کو نمایاں کیا، تاہم ساتھ ہی ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان بھی برقرار رکھا اور روس اور یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کی ضرورت کا ذکر کیا۔ ایران کے معاملے میں ان کا لہجہ سخت تھا، لیکن مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ یہ صورت حال موجودہ عالمی سیاست کی ایک بنیادی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑی طاقتیں فوجی دبا کو سفارت کاری کا ذریعہ سمجھ سکتی ہیں، مگر آخرکار کسی بھی پیچیدہ تنازع کا مستقل اختتام سیاسی انتظام کے بغیر ممکن نہیں۔ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرق وسطی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تنازع کا اثر صرف تہران، تل ابیب یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہتا بلکہ خلیج، بحیرہ احمر اور عالمی تجارت تک پہنچتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں کشیدگی کا مطلب صرف جنگی خطرہ نہیں بلکہ توانائی، جہاز رانی، بیمہ، درآمدی لاگت اور عالمی قیمتوں پر دبا بھی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کی اہم شریانیں قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ انہیں تصادم کے مراکز نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں کیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ آج کی جنگیں جغرافیائی حدود کی پابند نہیں رہیں۔ تہران اور تل ابیب کے درمیان داغا جانے والا میزائل صرف دو ممالک کے درمیان تصادم نہیں رہتا، اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی، سمندری تجارت اور عام صارف تک پہنچتے ہیں۔ خلیج میں کشیدگی بڑھے تو تیل کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں، بیمہ کے اخراجات بڑھتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں اشیائے ضروریہ مہنگی ہو سکتی ہیں۔ یوں ایک خطے کی جنگ ہزاروں میل دور رہنے والے عام شہری کی جیب پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔غزہ کا بحران اس عالمی بے یقینی کا سب سے دردناک باب ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وہاں جاری انسانی بحران نے شہری آبادی کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ گوتریس نے انسانی امداد کی فراہمی، شہریوں کے تحفظ اور دو ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فلسطین کے مسئلے نے ثابت کیا ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری تنازع کو محض عسکری کارروائیوں سے ختم نہیں کیا جا سکا۔ ہر نئی جنگ کے بعد تباہی بڑھتی ہے، مگر بنیادی سیاسی سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے غزہ کا مستقل حل بھی محض جنگ بندی تک محدود نہیں ہو سکتا بلکہ اسے قابل عمل سیاسی عمل سے جوڑنا ہوگا۔یمن بھی اسی حقیقت کی مثال ہے۔ تقریبا ایک دہائی تک جاری رہنے والی جنگ نے ملک کو شدید انسانی اور معاشی بحران سے دوچار کیا۔ 2022 میں قائم ہونیوالی جنگ بندی نے بڑے پیمانے کی لڑائی کو روکنے میں مدد دی، لیکن علاقائی کشیدگی نے اس نازک صورت حال کو مسلسل خطرے میں رکھا۔ یمن کا تجربہ بتاتا ہے کہ بیرونی طاقتیں فوجی مدد اور اسلحہ تو دے سکتی ہیں، لیکن پائیدار حل بالآخر مقامی سیاسی حقیقتوں اور باہمی مذاکرات ہی سے نکلتا ہے۔روس اور یوکرین کی جنگ دنیا کیلئے ایک اور تلخ تجربہ ہے۔ اس جنگ کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اس نے عالمی خوراک، توانائی اور دفاعی اخراجات کو متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے فوری جنگ بندی اور منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔دنیا کے لیے اصل خطرہ صرف جاری جنگیں نہیں بلکہ ان کا ایک دوسرے سے جڑ جانا بھی ہے۔ ایران اور اسرائیل کی کشیدگی مشرق وسطی کو متاثر کرتی ہے، اس کے اثرات یمن اور بحیرہ احمر تک پہنچتے ہیں، وہاں کی صورت حال عالمی بحری تجارت کو متاثر کرتی ہے، جبکہ روس یوکرین جنگ توانائی اور خوراک کے ذریعے دنیا کو متاثر کرتی ہے۔ یوں عالمی بحران ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔آج دنیا کو ایسے عالمی طرز فکر کی ضرورت ہے جس میں طاقت کا مقصد جنگ مسلط کرنا نہیں بلکہ جنگ روکنا ہو۔ امریکہ، روس، چین، یورپ، ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور ترکیہ اگر اپنی سیاسی اور سفارتی طاقت کو مذاکرات کے دروازے کھولنے کیلئے استعمال کریں تو وہ کامیابی مل سکتی ہے جو ہزاروں بم بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ جنگ شروع کرنا آسان، جاری رکھنا مہنگا، مگر ختم کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ مستقل امن تب ہی آتا ہے جب فریق ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے ساتھ رہنے کا راستہ تلاش کریں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *