آسٹریلیا کے اپوزیشن لیڈر اینگس ٹیلر نے حال ہی میں ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے امیگریشن کٹ کا باقاعدہ اعلان کیا ہے جس نے آسٹریلوی سیاست اور تارکین وطن کی برادریوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ قدامت پسند اپوزیشن اتحاد کا دعوی ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ سالانہ نیٹ اوورسیز مائیگریشن کو موجودہ 2 لاکھ 92 ہزار سے گھٹا کر صرف 1 لاکھ پر لے آئیں گے یعنی امیگریشن میں تقریبا دو تہائی کمی کریں گے ۔اس منصوبے کے تحت اگلے 4 برسوں میں عارضی ویزوں کی تعداد میں 6 لاکھ 50 ہزار کی کمی کی جائے گی اور عارضی گریجویٹ ویزوں پر سخت کریک ڈان ہوگا۔ آسٹریلیا کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں، لیبر حکومت، اپوزیشن اتحاد اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت ون نیشن اس وقت عوام کے بڑھتے ہوئے اینٹی امیگریشن جذبات کو کیش کرنے کیلئے مائیگریشن کم کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔ جب کسی ملک کی معیشت ہچکولے کھانے لگے اور جب حکمرانوں اور سیاستدانوں کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حقیقی حل نہ ہو تو سب سے آسان نزلہ تارکین وطن پر گرتا ہے ۔ آسٹریلیا اس وقت مہنگائی اور رہائشی مکانات کی شدید قلت سے گزر رہا ہے لیکن مقامی نظام کی ان خامیوں اور دہائیوں کی ناقص پالیسیوں کا ذمہ دار اب ان لوگوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے جو اپنا وطن، اپنی ثقافت اور اپنے پیارے پیچھے چھوڑ کر صرف ایک روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سرزمین پر اترتے ہیں۔ الیکشن کی آمد آمد ہے اور ووٹ بینک بچانے کی اس دوڑ میں تارکین وطن کو ایک بار پھر قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے تاکہ مقامی ووٹرز کی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں۔جدید آسٹریلیا کی بنیاد ہی تارکین وطن پر رکھی گئی تھی۔ جنوری 1788 میں برطانیہ کا پہلا بحری بیڑہ سڈنی پہنچا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ رضاکارانہ طور پر نہیں آئے تھے بلکہ برطانوی حکومت نے وہاں اپنی پینل کالونی یعنی قیدیوں کی بستی بنائی تھی اور برطانوی قیدیوں کو وہاں بسایا گیا تھا۔ پھر آسٹریلیا میں سونے کے ذخائر دریافت ہوئے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا۔ اس دور میں پہلی بار بڑے پیمانے پر چین اور برصغیر پاک و ہند بشمول موجودہ پاکستان کے لوگ آسٹریلیا پہنچے، جن میں اونٹ بان بھی شامل تھے جنہیں افغان کیمل مین کہا جاتا تھا۔ جب آسٹریلیا ایک خودمختار ملک بنا تو مقامی حکومت نے غیر ملکیوں، خاص طور پر ایشیائی باشندوں کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کیلئے وائٹ آسٹریلیا پالیسی نافذ کر دی اس نسل پرستانہ قانون کے تحت صرف یورپ اور برطانیہ کے سفید فام لوگوں کو آسٹریلیا آنے کی اجازت تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد آسٹریلیا کو اپنی معیشت چلانے اور دفاع کیلئے آبادی کی سخت ضرورت پڑی جس کیلئے انہوں نے پاپولیٹ اور پرش یعنی آبادی بڑھا یا مٹ جا کا نعرہ لگایا۔ آخرکار 1973 میں آسٹریلیا نے آفیشل طور پر وائٹ آسٹریلیا پالیسی کا مکمل خاتمہ کر کے کثیر الثقافتی کو اپنایا۔ اس کے بعد پوری دنیا، خاص طور پر ایشیا سے ہنرمندوں اور طلبہ کیلئے راستے کھلے۔ جب بھی اس آسٹریلیا کو معاشی بحران یا افرادی قوت کی ضرورت پڑی تو اس نے دنیا بھر سے تارکین وطن کو بلایا لیکن آج نظام حکومت گھر اور انفراسٹرکچر دینے میں ناکام ہو رہا ہے تو اسی تاریخ کو فراموش کر کے امیگریشن کو قومی خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کی موجودہ سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، ہسپتال اور رہائشی منصوبے آج کی آبادی کے لحاظ سے نہیں بلکہ دہائیوں پرانی منصوبہ بندی کے تحت چل رہے ہیں۔ حکومتوں نے ٹیکسوں کی مد میں تارکین وطن سے اربوں ڈالر تو سمیٹ لیے لیکن اس سرمائے کو نئے انفراسٹرکچر اور سستے گھروں کی تعمیر پر لگانے کے بجائے سیاسی مصلحتوں کی نذر کر دیا۔ اب جب دبا بڑھا ہے تو اپنی اس تزویراتی ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے سارا ملبہ ان طلبہ اور ہنرمندوں پر ڈال دیا گیا ہے جو خود خطیر فیسیں اور ٹیکس ادا کر کے اس نظام کو سہارا دے رہے ہیں۔ امیگریشن کو قومی خطرہ بنا کر پیش کرنے سے آسٹریلوی معاشرے کے کثیر الثقافتی تانے بانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ جب اعلیٰ ترین سیاسی ایوانوں سے تارکین وطن کے خلاف بیانیے کو ہوا دی جاتی ہے تو سڑکوں، بازاروں اور کام کی جگہوں پر نسل پرستی اور عدم تحفظ کا احساس جنم لیتا ہے۔ کل تک جن ہنرمندوں کو آسٹریلیا کا اثاثہ کہا جاتا تھا، آج انہیں مقامی آبادی کا حق مارنے والا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ خطرناک کھیل ہے جو وقتی طور پر ووٹ تو دلا سکتا ہے لیکن طویل مدت میں یہ آسٹریلیا کو ایک ایسا کٹھور معاشرہ بنا دے گا جہاں دنیا کا کوئی بھی بہترین دماغ آنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔مغربی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح آسٹریلیا کی معاشی ترقی کا انجن بھی تارکین وطن کے مرہون منت ہے۔ آسٹریلیا کی بزنس برادری اور ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ امیگریشن میں اچانک اور بڑی کٹوتی ملک کو شدید معاشی سست روی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس وقت آسٹریلیا کے شعبہ صحت، ہاسنگ اور تعمیرات ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت جیسے کلیدی شعبوں کو ہنرمند افرادی قوت کے شدید قحط کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں میں نرسز اور ڈاکٹرز سے لیکر سڑکوں اور مکانات کی تعمیر کیلئے درکار انجینئرز اور پلمبرز تک ہر شعبے کا پہیہ غیر ملکی ہنرمندوں کے دم سے ہی چل رہا ہے ۔ تارکین وطن آسٹریلیا پر بوجھ نہیں بلکہ وہ ملک کے ریونیو کا بڑا ذریعہ ہیں۔ آسٹریلیا آنیوالے نوجوان ہنرمند اور بین الاقوامی طلبہ نہ صرف مقامی ٹیکس کے نظام میں اربوں ڈالر کا حصہ ڈالتے ہیں بلکہ وہ ملک میں صارفین کی مانگ کو برقرار رکھ کر مقامی کاروباروں کو زندہ رکھتے ہیں۔ آسٹریلیا کی آبادی تیزی سے بڑھاپے کی طرف مائل ہے اور اس بوڑھی ہوتی ورک فورس کو سنبھالنے اور پنشن کے نظام کو سہارا دینے کیلئے آسٹریلیا کو نئے، نوجوان اور ٹیکس دینے والے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے میں سیاسی فائدے کیلئے امیگریشن کا گلا گھونٹنا دراصل آسٹریلیا کی اپنی معاشی شہ رگ پر چھری چلانے کے مترادف ہے ۔جب بھی معاشروں میں کوئی بڑا معاشی یا سماجی بحران جنم لیتا ہے تو سیاسی اور مذہبی پنڈت اپنے چند عارضی مفادات اور ووٹ بینک بچانے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یہ پنڈت عوامی مسائل کا کوئی حقیقی اور تعمیری حل تلاش کرنے کے بجائے انسانوں کے درمیان تفریق اور نفرت کی گہری خلیج پیدا کر دیتے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی قوم پرستی اور کبھی امیگریشن کے نام پر انسان کو انسان کے سامنے لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ کھیل عارضی طور پر تو ان کے سیاسی یا مذہبی ایجنڈے کو کامیاب کر دیتا ہے لیکن طویل مدت میں یہ معاشرے کے پرامن اور روادار تانے بانے کو یکسر بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ زمین پر کھینچی گئی مصنوعی لکیریں اور نظریاتی دیواریں انسانوں کو وقتی طور پر تقسیم تو کر سکتی ہیں لیکن انسانیت اور بقائے باہمی کے آفاقی اصولوں کو شکست نہیں دے سکتیں۔ اقتدار اور چند سستی تالیوں کیلئے انسانوں کو بانٹنے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ آسٹریلیا میں امیگریشن کی مجوزہ کٹوتی محض ایک پالیسی کا بدلا نہیں بلکہ اس عالمی رویے کا عکاس ہے جہاں حکمران اپنی انتظامی ناکامیوں کا ملبہ تارکین وطن پر ڈال دیتے ہیں۔ جب تک سیاسی اور مذہبی پنڈت اپنے چند عارضی مفادات کیلئے انسانوں کے درمیان تفریق اور نفرت کی یہ خلیج پیدا کرتے رہیں گے تو دنیا کا کوئی بھی معاشرہ حقیقی ترقی کا گہوارہ نہیں بن سکے گا۔ آسٹریلیا سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہنرمند تارکین وطن معیشت پر بوجھ نہیں بلکہ اس کے معمار ہیں اور بحرانوں کا حل انسانوں کو بانٹنے یا انہیں قربانی کا بکرا بنانے میں نہیں بلکہ نظام کی اصلاح اور بقائے باہمی کے آفاقی اصولوں کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں