چین نے ایک بار پھر لداخ سے متعلق بھارت کے اقدامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2019 میں قائم کیے گئے بھارتی مرکز کے زیرِ انتظام لداخ کو تسلیم نہیں کرتا۔ چین نے بھارت کے اس حالیہ فیصلے پر بھی تنقید کی جس کے تحت لداخ میں 28 مقامات اور جغرافیائی خطوں کو باضابطہ نام دیے گئے ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے ان مقامات کو سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کا حوالہ دیا گیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ ان میں بعض ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو متنازعہ ہیں یا چین کے مؤثر کنٹرول میں ہیں۔ بھارت کا یہ اقدام ‘غیر قانونی اور ناقابل قبول’ ہے اور اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔چین کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت کی سرحد کے مغربی حصے میں واقع متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔بھارتی وزارت داخلہ نے دو اکتوبر کو جن مقامات کے نام سرکاری طور پر درج کیے ان میں گوگرا اور ہاٹ سپرنگز کے علاقے بھی شامل ہیں، یہ دونوں مقامات 2020 میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فوجی تصادم کے اہم مراکز رہے تھے۔ایکچول لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب واقع یہ علاقے انڈین فوج کی گشت اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں،ان میں چاپ چھینگل درہ، کنشکا چوٹی، پرپیک گلیشئر، کرون پیر پہاڑ، علیشا گیری، شیکمیریک درہ، شکورگا وادی، زورآور چوٹی اور درا کارپو سمیت متعدد جغرافیائی مقامات شامل ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد 31اکتوبر 2019 کو لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ایک علیحدہ علاقہ بنا دیا تھا۔چین خطے کے بعض حصوںخصوصا چین اور بھارت کی سرحد کے مغرب میں واقع علاقوں پر بھارت کے علاقائی دعوئوں کو مسترد کرتا ہے۔ لداخ کے پہاڑی علاقے میں چین اور بھارت کے درمیان سرحد کے قریب مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں متنازع علاقوں سے فوجیوں کو واپس بلانے پر رضامندی کے بعد اپنی زمین چین کے حوالے کردی ہے۔ بھارت اور چین کی درمیان 2020 سے مغربی ہمالیہ میں سرحد پار تنازع جاری رہا، تاہم دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی فوجی اجلاسوں میں تناؤمیں کمی کے فیصلے کے بعد گوگرہ ہاٹ اسپرنگس کے متنازع علاقے سے فوجیوں کو واپس بلانا شروع کردیا۔جنگ بندی کے معاہدے کے تحت بفر زونز بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں کسی بھی فریق کے فوجیوں کو گشت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مقامی لوگوں اور علاقے کے منتخب نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ بفر زونز ان علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جو پہلے بھارت کے زیر انتظام تھے۔ہماری فوج ان علاقوں کو خالی کر رہی ہے جو ہرگز متنازع نہیں تھے جبکہ چینی افواج ان علاقوں میں تعینات ہیں جہاں عموماً بھارتی افواج کا گشت ہوتا تھا۔ بھارت نے 2021 کے معاہدے کے دوران پینگونگ جھیل کے آس پاس کے علاقوں سے دستبرداری کے لیے پہلے ہی زمین چھوڑ دی تھی۔ ہم نے پہلے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا تھا، پینگونگ تسو کے علاقے میں بھی ہماری فوج نے ایک بہت بڑا علاقہ کھو دیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہماری تشویش صرف چین کی دراندازی تھی لیکن اب ہماری حکومت خوشی سے ہماری زمین چین کے حوالے کر رہی ہے، اگر بھارت کا رویہ ایسا ہی رہا تو ہم مزید علاقہ کھو دیں گے۔ مقامی لوگ بھی اس دراندازی سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انہوں نے بڑے پیمانے پر ایسے علاقے کھو دیے ہیں جنہیں وہ اپنے مویشیوں کے چرانے کے لیے استعمال کرتے تھے، انہیں خدشہ ہے کہ اس سے ان کی روز مرہ زندگی کے اہم ذرائع متاثر ہوں گے۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 1000 مربع کلومیٹر کا علاقہ بغیر لڑے چین کے حوالے کردیا ہے۔ پینگونگ جھیل کے علاقوں میں پرتشدد جھڑپ کے بعد 5 مئی 2020 کو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تناؤ کا آغاز ہوا تھا، ایک ماہ بعد کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی جب دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی مارے گئے تھے۔تناؤ شدت اختیار کرنے کے بعد دونوں ممالک نے بھارے ہتھیار سے لیس دسیوں ہزار فوجی متنازع علاقے میں ایک دوسرے کے مقابل تعینات کرنا شروع کر دیے تھے۔ 2020 کا واقعہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ 1962 کے بعد اتنی بڑی تعداد میں فوج کا یہاں آنا لوگوں کے لیے پہلا تجربہ تھا۔ سرحد پر چین کے ساتھ اس طرح کا ٹکراؤ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پہلے صرف ڈیمچوک اور چومور ایریا میں چینی فوج کا کچھ سٹرکچر ہوتا تھا۔چوشول کے پاس جتنے بھی پہاڑ دکھائی دے رہے ہیں ہر جگہ فوج ہی فوج دکھائی دے رہی ہے ۔ مشرقی لداخ میں جہاں جہاں بارڈر ہے وہاں چین نے فائیو جی ٹاور لگا دیے ہیں۔ یہی نہیں اس نے پینگونگ سو جھیل پر دو پل تعمیر کر دیے ہیں۔ چین 2020 کے بعد سے اس خطے میں بہت زیادہ فوجی تعمیرات میں لگا ہوا ہے۔ اس سے واضح اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس موڈ میں ہے۔ لداخ دو بین الاقوامی سرحدوں سے گھرا ہوا ہے۔ مغرب میں پاکستان اور مشرق میں چین۔ 1962 کے بعد چین نے اس خطے میں پہلی بار اتنی بڑی جارحیت کی ہے۔ انھوں نے اس دراندازی میں ہماری بہت سے سرحدی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ پہلے انھوں نے اپنے چرواہوں کو ہماری چرا گاہوں میں بھیج کر کافی زمین ہڑپ کی۔ لیکن 2020 میں انھوں نے گلوان وادی، ڈیپسانگ، ہر جگہ زمینوں پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد پینگونگ سو میں اتنی مداخلت کی، اتنی زمین پر قبضہ کیا کہ اس جانب سے ان کی روشنیاں نظر آتی ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں