عالمی انتشار اور امریکی ساکھ کا بحران
امریکہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے مگر اس بار وجہ قیادت کی طاقت نہیں بلکہ پالیسیوں کا بوجھ ہے۔
امریکہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے مگر اس بار وجہ قیادت کی طاقت نہیں بلکہ پالیسیوں کا بوجھ ہے۔
طاقت اور قانون سازی کے مرکز اسلام آباد میں ون کانشٹیٹیوشن ایونیو اور اس طرز کے لاتعداد کیس صرف ریگولیٹری اداروں کی بدنیتی
وہ معاشرے جہاں چاپلوسی اور اشارہ کنایہ، میرٹ اور سچائی پر غالب آ جائیں، وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ
کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھارت کو اپنی سرزمین پر غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی میں مصروف ممالک کی فہرست میں شامل
ایک سال سے جب سے بھارت نے پہلگام سانحہ کو بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف بلا اشتعال حملے شروع
کے باوجود دشمنوں کا ساتھ دیا۔ رسولۖ اللہ پر جادو کیا۔رسولۖاللہ کو شہید کرنے کی کوشش کی۔ سازشوں کی وجہ سے مدینے سے
بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات حقیقت سے زیادہ طاقتور چیز تاثر ہوتا ہے اور جب یہ تاثر کسی بڑی طاقت کے سربراہ
اسرائیلی وزیرِاعظم اور اُن کی چالاک ٹیم نے کمال مہارت سے ایسا جال بُنا کہ امریکی صدر ٹرمپ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ
دنیا اس وقت ایک ایسے غیر معمولی جغرافیائی اور تذویراتی موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا روایتی توازن اپنی پرانی شکل میں
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق سال 2025 میں بھارت بھر میں مبینہ ماورائے عدالت واقعات میں کم از کم 50 مسلمان