

عصرِ حاضر کی ہنگامہ خیز سفارت کاری میں قوموں کو اکثر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں ایک جانب وقتی مفادات کی چمک دمک ہوتی ہے اور دوسری طرف اصول و اقدار کی وہ روشن شمع جو

آج کل فیس بک یوٹیوب اور دیگر میڈ میڈیا ذرائع میں عطا مری بلوچ اور انڈین اینکرز کا ٹاکرا دنیا بھر میں موجود اردو سمجھنے والوں کیلئے بہت دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے ۔انڈیا کے اینکرز اپنی ازلی چالاکی

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ اگرچہ ملک نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار کامیابیاں حاصل کیں، لیکن حالیہ برسوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد

وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے دن عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا جس کے دوران بیجنگ میں چینی صدر شی جنگ پن سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات

بھارت میں عیدالاضحی کے موقع پر ہندوتوا انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔فاشسٹ مودی سرکار کی اقلیت دشمن پالیسیوں نے بھارت میں سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان

دنیا آج جس بے یقینی، جنگی کشیدگی، دہشت گردی اور انسانی بحرانوں کے دور سے گزر رہی ہے، اس میں امن کا قیام محض ایک خواہش نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ضرورت بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن

ڈیوڈ ایٹنبرو، دنیا کے سب سے زیادہ قابل احترام قدرتی تاریخ دانوں اور ماحولیاتی مفکرین میں سے ایک، کئی دہائیوں سے انسانیت کو فطرت کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں۔ ان کا

قومیں صرف سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اپنے مضبوط، فعال اور انسان دوست اداروں سے پہچانی جاتی ہیں۔ ریاست کا اصل حسن تب نمایاں ہوتا ہے جب اس کے ادارے عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ

آئزن ہاور آخری امریکی صدر تھے کہ جن کی تائیوانی صدر سے براہ راست بات چیت ہوئی تھی اور اب ٹرمپ اس کے خواہاں تھے اور 14 بلین سے زائد ڈیل کے بھی۔ مگر چین نے تائیوان پر اپنی ریڈلائن

دفاع، وقار اور سفارت کاری: تاریخ کے اوراق جب خاموشی اور وقار کے ساتھ پلٹے جاتے ہیں تو 28 مئی 1998ء پاکستان کی قومی زندگی کا ایک ایسا تابناک اور باوقار لمحہ دکھائی دیتا ہے جو ہمیشہ عزت و افتخار