
مکرمی!پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے دن بدن اشیائے خورد و نوش اور تمام بنیادی ضرورت کی اشیاءمہنگی ہوتی جا رہی ہیں ۔ اس سے قبل بھی حکومتوں نے کئی کوششیں کیں کہ
موجودہ نگران حکومت کا کوئی اور کارنامہ ہو یا نہ ہو مگر ایک کارنامہ تاریخ میں ضرور لکھا جائے گا کہ اس نے خوابید ہ قوم کو جگا دیا اور اس طرح جگایا کہ یہ اپنے بیڈ رومز میں نکل
سینٹر حافظ حسین احمد شروع سے مجھے پسند ہیں اور وہ بھی انور مقصود کی طرح لگی لپٹی کے بغیر بات کہہ دیتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون ناراض ہوتا ہے انکی دلچسپ باتیں بعد میں
گزشتہ سے پیوستہ 1999 اور 2000 میں معاشی سروے کی بنیاد پر پرویز مشرف نے پیرس کلب سے ملاقات کی اور پاکستان کو اس طوفان سے نکالا جو ملک کی مکمل معیشت کو اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا رفتہ
ورلڈ آف اسٹیٹکس نے دنیا میں مہنگائی کے حوالے سے سر فہرست ممالک کے نام جاری کیے ہیں جس کے مطابق پاکستان مہنگائی کی شرح کے حوالے سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے ۔ورلڈ آف اسٹیٹکس کے مطابق پاکستان
آج کل بجلی اور سوئی گیس کے اتنے زیادہ بل آتے ہیں کہ اس کیلئے رقم کا انتظام کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔پاکستان میں 11 کروڑ لوگ غُربت کے لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یعنی ان11 کروڑ
اگر ہم غور کریں تو اس وقت حکومتی اور اپوزیشن تمام سیاسی پارٹیاں جس میں پی پی پی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ(ن)، مسلم لیگ (ق)، جمعیت العلمائے اسلام ،ایم کیو ایم اور دیگر اور سیاسی پارٹیاں شامل ہیںاقتدار کے
زندگی تھی یہ پیغمبری وقت بھی دیکھ لیا، محلات اور قلعوں میں غلام مشعلیں لے کر دوڑ رہے ہیں، شہنشاہوں کو راستے دکھائی نہیں دے رہے ،مفادات کی ہوس نے گلیاں تنگ کر دیں۔ ملکائیں اور شہزادیاں کنیزوں کو ڈھونڈ
اسلام آباد: وزارت خزانہ نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کردی ، وزارت خزانہ کی جانب ے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں اضافے کاامکان ہے بنیادی اشیاءکی طلب اور رسد میںفرق کے باعث
نفع، تنخواہ، اجرت وہی مگر اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوچکاہے۔ مہنگائی نے پاکستانیوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔غریب و سفید پوش طبقے کےلئے جینا مشکل ہوچکا ہے۔ ہر سو مہنگائی کا طوفان ہے، معاشی بے یقینی ہے،