بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.8°C
Thursday, 08 October 2026 | پاکستان: 27 ر بیع الثانی 1448

اقوام متحدہ، امن کی ترغیب صرف لفاظی تھی یا حقیقت؟

Thursday, 8 October, 2026

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ میں فلسطین، کشمیر اور پانی سمیت عالمی بحرانوں پر پاکستان کا موقف پیش کیا گیا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اکیاسی واں اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب دنیا جنگوں، علاقائی کشیدگی، معاشی بے یقینی اور باہمی عدم اعتماد کے کئی دائروں میں گھری ہوئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی تصور کو ایک جملے میں سمیٹ دیا کہ جنگ کی بجائے امن، محاذ آرائی کی بجائے مکالمہ اور جبر کی بجائے تعاون۔ ان کے خطاب کا آغاز بھی امن ہی سے ہوا۔ وزیراعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کی اقوام متحدہ کے منشور سے وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن پاکستان کے قومی مزاج اور خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور اور سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا راستہ قرار دیا اور یاد دلایا کہ پاکستان سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران بھی تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کیلئے کام کرتا رہا ہے ۔وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال کو عالمی امن اور معیشت دونوں کیلئے خطرناک قرار دیا۔ ان کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی نے انسانی جانوں کے ساتھ عالمی تجارت اور توانائی کے راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو انہوں نے عالمی معیشت کی اہم شریانیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تصادم کے چوک پوائنٹس نہیں بننا چاہیے۔ شہباز شریف نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کیلئے اسلام آباد کے کردار کو نمایاں کیا اور مشکل حالات میں سفارتکاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور مکہ مکرمہ کو مبینہ ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاع، استحکام اور امن کیلئے اجتماعی عزم ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونیوالی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے پاکستانی مسلح افواج کی قیادت اور کارکردگی کو سراہا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ان کے مطابق بروقت سفارتی کوششوں نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان مزید بڑی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ بھارت اس بیانیے کے بعض اہم حصوں، خصوصاً 2025 کی کشیدگی میں تیسرے فریق کی ثالثی کے دعوے کو مسترد کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے پانی کو ہتھیار بنانے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔ یہ بیان خطاب کے نمایاں ترین حصوں میں شامل تھا۔ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فلسطینی بچوں ہند رجب اور وفا عقیلہ کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی ضمیر سے سوال اٹھایا کہ کیا غزہ میں پیدا ہونے والے بچے کو بھی وہی زندگی، مستقبل اور خواب کا حق حاصل نہیں جو دنیا کے کسی دوسرے بچے کو حاصل ہے۔ پاکستان نے ایک آزاد، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل قرار دیاجس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی حدود پر ہوں اور القدس شریف اس کا دارالحکومت ہو۔وزیراعظم نے دہشتگردی کو بھی عالمی امن کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا اور پاکستان کی انسانی و معاشی قربانیوں کا ذکر کیا۔ افغانستان کے حوالے سے ان کا مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔یہ خطاب صرف جنگ اور تنازعات تک محدود نہیں رہا ۔ وزیراعظم نے پاکستان کی معاشی بحالی، ساختی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کا ذکر کیا اور زراعت، صنعت، معدنی وسائل، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتیں دینے کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیا۔ موسمیاتی تبدیلی کے باب میں انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان عالمی گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے لیکن موسمیاتی تباہ کاریوں کے اثرات بھگتنے والے ممالک میں نمایاں ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی مالی اعانت اور لاس اینڈ ڈیمیج کے وعدے پورے کریں۔آخر میں وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عالمی ادارے زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ بن سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتماد صرف الفاظ سے بحال نہیں ہوتا بلکہ عمل اور رویے سے پیدا ہوتا ہے اور پھر خطاب ایک یاد رہ جانے والے جملے پر ختم ہوا کہ جنگ ایک انتخاب ہے اور امن بھی ایک انتخاب ہے۔ پاکستان نے محاذ آرائی کی بجائے مکالمے، جبر کی بجائے تعاون اور جنگ کی بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔اقوام متحدہ میں تقریر ختم ہوئی تو اس کے بعض حصے نیویارک سے نکل کر واشنگٹن تک پہنچے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب سے تقریباً 87 سیکنڈ کا ایک کلپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔ اس کلپ میں شہباز شریف ٹرمپ کی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران بروقت مداخلت کا شکریہ ادا کرتے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے ویڈیو کے ساتھ الگ سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ پیشرفت اس لیے بھی قابل توجہ بنی کہ پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے میں امریکی کردار کے بارے میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے بیانیے مختلف رہے ہیں۔ چنانچہ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم کے خطاب کا یہ حصہ شیئر کیا جانا فوری طور پر سفارتی اور سیاسی بحث کا موضوع بن گیا۔ اسی طرح ہال میں موجود فلسطینی نمائندوں اور سفارتکاروں نے وزیراعظم کی تقریر کو سراہا اور اسے اپنے پلیٹ فارمز پر شیئر کیا، جو پاکستانی قوم کی طرف سے فلسطینی کاز کے ساتھ یکجہتی کا مظہر ہے۔ یوں شہباز شریف کا اقوام متحدہ کا خطاب محض ایک تقریر نہیں رہا۔ اس میں کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ سوالات، پانی کے تحفظ، مشرق وسطی میں سفارت کاری، دہشت گردی، معیشت اور موسمیاتی انصاف سمیت پاکستان کے متعدد بنیادی مقف ایک ہی عالمی اسٹیج پر سامنے آئے۔ اور اختتام پر پیغام بھی وہی رہا جس سے خطاب شروع ہوا تھا کہ دنیا کے پاس جنگ کا راستہ بھی ہے اور امن کا راستہ بھی، انتخاب بہرحال کرنا ہی ہوگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *