بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 13 August 2026 | پاکستان: 2 ر بیع الاول 1448

نئے سال کا تقاضا…خود احتسابی سے فکری انقلاب

Monday, 12 January, 2026

عدمِ مساوات، کرپشن، بے روزگاری، نفسانفسی، میرٹ سے انحراف، مہنگائی اور انصاف کے حصول میں مسلسل رکاوٹوں نے ہمارے معاشرے کو فکری، ذہنی اور روحانی انتشار کی ایسی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے جہاں ہر سمت بے چینی، اضطراب اور بدسکونی کی فضا طاری نظر آتی ہے۔ عام آدمی جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اب مسائل کے ایسے بھنور میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنے کی راہیں مسدود دکھائی دیتی ہیں۔ ہر شخص سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے مگر یہ تلاش اکثر غلط سمتوں میں بھٹک کر مزید پریشانیوں کو جنم دیتی ہے۔کہیں مہنگے ترین نجی ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے ہاتھوں لٹنے کا شکوہ سنائی دیتا ہے تو کہیں حکیموں اور عطائیوں کے نسخوں پر آخری امیدیں باندھ لی جاتی ہیں۔ کہیں نام نہاد عاملوں، جعلی روحانی معالجوں اور تعویذ گنڈوں کے فریب میں آ کر لوگ اپنی جمع پونجی اور ذہنی سکون دونوں قربان کر دیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان تمام تر محرومیوں اور استحصال کے باوجود ہم خود احتسابی سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم حالات کو کوستے ہیںاورنظام کو برا کہتے ہیںمگر اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ہم بظاہر محبِ وطن ہونے کے دعوے دار ہیں۔قومی غیرت اور حب الوطنی کے جذبات سے بھی سرشار دکھائی دیتے ہیں مگر جب ووٹ کی صورت میں اپنی اجتماعی قوت استعمال کرنے کا وقت آتا ہے تو ذاتی مفادات ،وقتی لالچ اور گروہی وابستگیوں کے ہاتھوں اپنی ہی تقدیر کا سودا کر بیٹھتے ہیں۔ یوں ہم نادانستہ طور پر اپنے معاشی، سماجی اور اخلاقی قتلِ عام کے اسباب خود پیدا کرتے ہیں اورپھر سارا ملبہ دوسروں پر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ حالات خراب ہیںبلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔اگر واقعی دل میں جینے کی امنگ موجود ہے، اگر پُرسکون، خوشگوار اور باوقار زندگی گزارنے کی خواہش سچی ہے اور اگر ربِ کائنات کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں سے حقیقی معنوں میں فیض یاب ہونا مقصود ہے تو اس کا واحد راستہ خود اپنی ذات سے آغاز کرنا ہے۔ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ تبدیلی باہر سے نہیں اندر سے آتی ہے۔ اپنے خیالات، احساسات اور جذبات کے زاویے بدلنا ہوں گے۔ نئے سال 2026 کا استقبال محض آتش بازی، تقاریب یا رسمی دعاؤں سے نہیں بلکہ اس کیلئے نئے عزم، تازہ ولولے، مضبوط ارادے اور سچے عہد کی ضرورت ہے۔یہ نیا سال اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں کو سینے سے لگائے رکھنے کی بجائے انہیں شعوری طور پر پسِ پشت ڈالیں اور مستقبل کے حسین خوابوں کی عملی تعبیر کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کریں۔ زندگی کی گاڑی اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک ہم پیچھے لٹکتے ہوئے بوجھ اتار نہیں دیتے۔ ہمیں یہ حقیقت مان لینی چاہیے کہ ماضی واپس نہیں آتامگر حال اور مستقبل ہمارے اختیار میں ضرور ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی مثبت ، تعمیری اور دیرپا تبدیلی پیدا کریں جو محض ہمارے الفاظ یا نعروں تک محدود نہ ہوبلکہ ہمارے طرزِ عمل، ہمارے فیصلوں اور ہماری ترجیحات میں واضح طور پر نظر آئے۔ ایسی تبدیلی جو نہ صرف ہماری اپنی زندگی کو بہتر بنائے بلکہ ہمارے اہلِ خانہ، دوست احباب اور اردگرد کے معاشرے پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرے۔ انسانیت، برداشت، دیانت اور سچائی کی خوشبو جب فرد سے پھوٹتی ہے تو پورا ماحول معطر ہو جاتا ہے۔
آئیے! اس تبدیلی کا آغاز اسی لمحے سے کریں ۔ تفکرات، انتشار، پژمردگی، اداسی، ، نمائش پرستی، بناوٹ، تصنع، فضول و لاحاصل خواہشات، خودغرضی اور منفی سوچ کو دل و دماغ سے نکال باہر کریں۔ ان تمام رویّوں کو ترک کر دیں جو ہماری توانائی کو زائل کرتے ہیں اور ہمیں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ گزرے ہوئے تلخ تجربات اور ناکامیوں کو یادداشت کے کسی گوشے میں دفن کر دینا ہی دانش مندی ہے کیونکہ ان کا بار بار تذکرہ نہ تو حال سنوارتا ہے اور نہ مستقبل کو روشن کرتا ہے ۔ انسان جب ماضی کے بوجھ سے آزاد ہوتا ہے تو اسے پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ زندگی کتنی ہلکی، کتنی سادہ اور کتنی خوبصورت ہو سکتی ہے۔ غم اسی وقت تک غم رہتا ہے جب تک ہم اسے بار بار محسوس کرنے پر مصر رہتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، اگر کسی لغزش نے زخم دیا ہے، اگر کبھی الزام یا تہمت کا سامنا کرنا پڑا ہے تو ان سب کو دل کی تختی سے حذف کر دینا ہی عقل مندی ہے۔ ان یادوں میں نہ خوشی ہے، نہ راحت بلکہ صرف اذیت اور اضطراب ہے۔اگر کبھی ناعاقبت اندیشی کے باعث نقصان اٹھانا پڑا ہے، اگر شہرت، وقار یا اعتماد کو دھچکا لگا ہے اور یہ خوف دل میں بیٹھ گیا کہ اب دوبارہ سنبھلنا ممکن نہیں تو یہ سب وہم اور تصور کے سائے ہیں جن کی کوئی ٹھوس حقیقت نہیں۔ ان سایوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی بجائے انہیں شعوری طور پر ذہن سے مٹا دینا ہو گا۔ زندگی کا نیا باب ایک صاف، شفاف اور روشن صفحے سے شروع کریں اور یہ عہد کریں کہ آئندہ اس صفحے کو مایوسی اور منفی سوچ کے داغوں سے محفوظ رکھیں گے۔ یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ انتشار، پراگندگی اور منفی جذبات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا خواہ وہ کتنے ہی ضروری یا ناگزیر کیوں نہ محسوس ہوں ۔ افسوس، رنج، پشیمانی اور غصے کو اتنی قوت دینا کہ وہ ہماری قوتِ عمل کو مفلوج کر دے دراصل خود اپنے مستقبل سے دشمنی کے مترادف ہے۔ متفکر چہرہ، افسردہ دل، مضطرب طبیعت اور تلخ مزاجی اس بات کا اعلان ہیں کہ ہم نے خود پر اختیار کھو دیا ہے اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔جو کچھ بھی ناپسندیدہ، تکلیف دہ اور سکون کو برباد کرنے والا ہے اسے ذہن سے باہر نکال پھینکنا ہو گا۔ وقت کم ہے اور کرنے کے کام بہت زیادہ ہیں۔ اس قیمتی وقت کو مایوس کن خیالات، لاحاصل تجزیوں اور بے فائدہ شکایتوں میں ضائع کرنے کی بجائے کسی مثبت، تعمیری اور بامقصد کام میں صرف کرنا ہی دانش مندی ہے۔ خوشی کا انتظار کرنے کی بجائے خوشی کی تلاش میں نکلیںاور جب اسے پا لیں تو اسے مضبوطی سے تھام لیںتاکہ وہ کسی لمحے بھی ہاتھ سے نہ نکلے۔ہماری اجتماعی حالت اس بدسلیقہ عورت کی مانند ہو چکی ہے جو گھر کا کوڑا کرکٹ باہر پھینکنے کی بجائے اسے کونوں کھدروں میں جمع کرتی رہتی ہے۔ ہم نے چھوڑ دینے کی صلاحیت کھو دی ہے۔ہم اپنے اعصاب کو اس قدر تناؤ میں رکھتے ہیں کہ کسی چیز سے دستبردار ہونا ہمیں شکست محسوس ہوتا ہے۔ ہم اُن صدمات کا ماتم کرتے رہتے ہیں جو کب کے ہماری زندگی سے نکل چکے ہوتے ہیں اور یوں موجودہ لمحے کی خوشیوں اور سہولتوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ اسے خوشی کے ساتھ جینے کی کوشش کی جائے۔ سالِ نو 2026 پر کیے گئے عہد اگر محض الفاظ نہ ہوں بلکہ عملی شکل اختیار کر لیں تو صحت و تندرستی، خوشی و مسرت، سکھ و چین، آرام و سکون، کامیابی و کامرانی اوراطمینانِ قلب خود ہمارے قدم چومیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم خود کو بدلنے کا حوصلہ پیدا کریںکیونکہ قومیں اور معاشرے اسی وقت بدلتے ہیں جب افراد بدلنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *