بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 29.2°C
Wednesday, 08 July 2026 | پاکستان: 23 محرم 1448

اسرائیلی ریشہ دوانیاں،امن معاہدہ

Wednesday, 8 July, 2026

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے کے بارے میں ثالث پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ معاہدے کو سبوتاثر کرنے والے بہت ہیں۔ امریکہ دراصل اسرائیل کے جال میں پھنس کر اپنے ملک سے ہزاروں میل دور ایران پر حملہ آور ہوا اور اسرائیل کو بچانے کےلئے اپنی ساری فوج کو جنگ کی بھٹی میں دھکیل دیا۔ اگر یہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہوتی اور خلیجی عرب ممالک و امریکہ اس میں شریک نہ ہوتے تو بقول صدر ٹرمپ اسرائیل دو گھنٹے میں ختم ہو جاتا۔ اسرائیل کو اس حقیقت کا علم تھا اور نیتن یا ہونے بڑی چالاکی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے شیشے میں اتارا۔ اس نے ٹرمپ کے مخالف صدر جو بائیڈن سے ان کے آخری دور حکومت میں ملاقات سے انکار کر کے صدر ٹرمپ کی قربت حاصل کی اور صدر ٹرمپ سے صدر بننے سے پہلے اور بعد میں مسلسل ملاقاتیں کر کے ان کو ایران پر حملہ کرنے پر تیار کیا تاکہ دنیا کی نظریں اسرائیل کے غزہ پر ہونےوالے انسانی ظلم سے ہٹائی جا سکیں۔ اسرائیل نے جو قیامت فلسطینی عرپوں پر غزہ اور اس کے نواحی علاقوں میں ڈھائی ہے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔اقوام متحدہ کی آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں جان بوجھ کر بچوں کا قتلِ عام کیا جس کے ان کو متعدد ثبوت ملے ہیں کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور قتل کیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ان کی رائے کو قائم کرنے کے ثبوت ہیں کہ اسرائیلی حکام اور فوج نے فلسطینیوں کے بڑے گروپ کو ختم کرنے کے لیے غزہ میں قتلِ عام کیا۔ اس کمیشن کی تین رکنی ٹیم نے قبل ازیں ستمبر 2025 میں بھی اسرائیل کو فلسطینی قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جبکہ اسرائیل نے ان کے موقف کو مسترد کر دیا تھا۔ اب اپنی تازہ رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے باقاعدہ ملٹری آپریشن کی وجہ سے فلسطینی بچوں کی اموات واقع ہوئیں اور وہ زخمی ہوئے بڑی تعداد میں۔ لہٰذا اسرائیلی حکام نے غزہ میں قتلِ عام کا جرم کیا ہے۔ لہٰذا بین الاقوامی برادری میں اسرائیل پر جنگی جرائم کے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے مشورے جاری ہیں اور نیتن یاہو کو فلسطینیوں کے قاتل کے طور پر عدالت میں لانے کےلئے مشورے جاری ہیں ۔ ان تمام جرائم کی سزا سے بچنے کےلئے اور مقامی طور پر اسرائیل میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کےلئے نیتن یاہو نے امریکہ کو ایران جنگ میں اپنے ساتھ شریک کر لیا۔ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حملے کے پہلے مرحلے میں ایرانی قیادت کی ہلاکت کے بعد ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایران میں حکومت تبدیل ہو جائے گی۔ نئی حکومت اسرائیل اور امریکہ کی حمایت میں ہو گی۔ مگر اس کے برعکس ایران کے رہبرِ اعلی سید علی خامنا ئی ان کی اہلیہ، علی رانجھانی، فوج کے سربراہ، اور دیگر اعلی عہدیداروں کی شہادت کے باوجودایران میں عوام کی طرف سےحکومت کے خلاف کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا بلکہ اعلی قیادت کی شہادت نے ایرانی عوام کو متحد کر دیا اور جنگ کے دوران ایرانی عوام نے بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگی طیاروں کی بمباری کے دوران سڑکوں پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو باور کروا دیا کہ ایرانی عوام متحد ہے اور حکومت کی تبدیلی دشمنوں کی خام خیالی ہے ۔ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کے بعد اور پاکستان کے پرزور اصرار پر امن معاہدہ طے پانے کے دوران اسرائیل کی حد درجہ کوشش رہی کہ ایران امریکہ امن معاہدہ طے نہ پا سکے اس لیے اس نے ہنستے بستے لبنان پر بمباری شروع کر دی۔ امریکی کاوشوں سے واشنگٹن میں تین مرتبہ اسرائیل لبنان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا مگر اسرائیل نے لبنان پر بمباری ختم نہیں کی۔ ایران ایک غیرت مند دوست کی طرح لبنان کے ساتھ کھڑا رہا اور امن معاہدے کی بنیادی شرط رکھی کہ اسرائیل لبنان پر بمباری بند کرے اور امریکہ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے اس کی گارنٹی دے۔ لہٰذا جب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات آگے بڑھتے اسرائیل لبنان پر بمباری شروع کر دیتا اور ایران مذاکرات اور امن معاہدے سے پیچھے ہٹ جاتا۔ اس صورتحال نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں نیتن یاہو کی قدر و منزلت میں کمی کر دی اور امریکہ کو یقین ہو گیا کہ اسرائیل امریکہ کو جنگ کی دلدل میں پھنسانا چاہتا ہے۔ جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی امریکہ میں مقبولیت کا گراف گرتا جا رہا تھا اور ڈیموکریٹ پارٹی کانگریس میں صدر ٹرمپ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہی تھی۔ آنےوالے وقت میں صدر ٹرمپ کو اندازہ ہو جائےگا کہ اسرائیل نے ان کی کمر میں خنجر گھونپا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر امریکہ کا سپر پاور کا تاثر ختم ہو گیا۔ امریکہ امن معاہدے کی تکمیل کےلئے مکمل طور پر ایران کا مرہونِ منت ہو چکا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں بھی ایرانی وفد کمرہ مذاکرات سے احتجاجا اٹھ کر چلا گیا اور امریکی نائب صدر سمیت امریکی وفدمنہ دیکھتا رہ گیا۔ اس تمام ہزیمت کا ذمہ دار اسرائیل اور خصوصا نیتن یاہو ہے جس نے اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کےلئے حسبِ سابق امریکہ کو استعمال کیا اور اپنی دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کی بین الاقوامی سطح پر پوزیشن کو کمزور کر دیا۔ امریکہ کے نیٹو اتحادی اس سے دور ہو گئے اور امریکہ کی جنگ میں اس کا ساتھ دینے سے انکاری رہے۔ اسرائیل کی ریشہ دوانیاں امریکہ کی سبکی کا باعث بنیں جس کےلئے ضروری ہے کہ امریکہ اپنی اسرائیل پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور غزہ میں فلسطینی قتلِ عام کی شفاف انکوائری کی حمایت کرے

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *