بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.4°C
Tuesday, 25 August 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الاول 1448

امریکا میں بھارتی تارکینِ وطن کیخلاف کریک ڈاؤن

Tuesday, 25 August, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں ۔ان کارروائیوں کے تحت امریکا سے 4 ہزار 800 سے زائد بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے جبکہ امیگریشن حکام کی گرفتاریوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی امیگریشن نافذ کرنیوالے ادارے نے گزشتہ ماہ ریکارڈ 51,000 افراد کو گرفتار کیا تھا ۔ادارہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 2,000 گرفتاریاں کر رہا ہے جبکہ اگست کے پہلے ہفتے میں اوسطاً 4 ہزار 200 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق گزشتہ سال 3,567 بھارتی شہریوں کو امریکا سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا جو 16 سال کی مدت کی سب سے زیادہ تعداد تھی، رواں سال کی پہلی ششماہی میں ہی مزید 1,273 بھارتی شہری ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔بھارتی ایشیائی تارکینِ وطن میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔امریکی تنظیم اسٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ کے مطابق جنوری 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران گرفتار کیے گئے 14 ہزار 402 ایشیائی باشندوں میں تقریباً 28 فیصد بھارتی تھے۔ اسی عرصے میں 6,218 ایشیائی افراد کو ملک بدر کیا گیا جن میں بھارتی شہریوں کا حصہ بھی تقریباً 28 فیصد رہا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار میں بھی بھارتی باشندے ایشیائی اور بحرالکاہل کے جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد میں گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔حالیہ واقعات میں طویل عرصے سے امریکا میں مستقل رہائش رکھنے والی بھارتی شہری وینکاٹا واسام سیٹی بھی شامل ہیں جنہیں گرین کارڈ کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، بھارتی خاتون 2013ء سے امریکا کی قانونی مستقل رہائشی ہیں اور ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی پہلے عدالت میں مسترد ہو چکی تھی، اسی طرح جاز موسیقار پریتیش والیا کو بھی گرفتار کیا گیا تاہم انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا ہدف سالانہ 10 لاکھ افراد کو ملک بدر کرنا ہے تاہم امیگریشن ادارے کے مطابق 2025ء میں تقریباً 4 لاکھ افراد کو ملک بدر کیا گیا۔ امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مزید 30 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن ملک چھوڑ چکے ہیں جن میں تقریباً 22 لاکھ افراد کی رضاکارانہ واپسی بھی شامل ہے۔ امریکہ میں ہزاروں تارکین وطم بچوں کو ملک بدری کے نئے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ قانونی معاونت کا معاہدہ ختم ہو رہا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ والدین یا سرپرست کے بغیر امریکہ آنیوالے تارکین وطن بچوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، وہ امیگریشن عدالت میں اپنی قانونی نمائندگی سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کے باعث ان کی ملک بدری کا خطرہ بڑھ جائیگا ۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت پر پیدا ہو رہی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی خدمات فراہم کرنیوالے اداروں کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے دے رہی ہے۔جمعہ اس معاہدے کا آخری دن ہے جس کے تحت وفاقی حکومت اْن بچوں کو قانونی خدمات فراہم کرتی تھی جو والدین یا سرپرست کے بغیر امریکہ میں داخل ہوتے ہیں۔حکومت یہ خدمات ملک بھر میں موجود قریباً 100 قانونی اداروں کے نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کرتی تھی، جو لگ بھگ 20 ہزار بچوں کو قانونی معاونت فراہم کر رہے تھے۔ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ وہ اس معاہدے کو کیوں ختم ہونے دے رہی ہے، تاہم یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی کو تیز کر دیا ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے ہی سال میں تارکین وطن بچوں کو بھی ملک سے نکالنے کے ہدف میں شامل کر لیا گیا تھا۔اس معاہدے کے تحت قانونی اداروں کو یہ اجازت حاصل تھی کہ وہ حکومتی فنڈ سے چلنے والے شیلٹرز میں جا کر بچوں کو ان کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہ کریں اور امیگریشن عدالت میں کارروائی کے دوران ان کی براہِ راست نمائندگی کریںلیکن معاہدہ ختم ہونے کے بعد، خدمات فراہم کرنیوالے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ پیر سے کیا صورتِ حال ہوگی یا آیا وہ ان شیلٹرز میں اپنے کلائنٹس سے مل سکیں گے جہاں یہ بچے رہ رہے ہیں یا نہیں۔سٹاریلا ایل پاسو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر میلیسا لوپیز نے اس ہفتے کے آغاز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ‘ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں کہ اگلے ہفتے ان بچوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں قانونی نمائندگی ملے گی یا نہیں۔ حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ذمہ داری کون سنبھالے گا ۔ ‘ ان کی تنظیم اس وقت مغربی ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں 243 بچوں کی نمائندگی کر رہی ہے جو سرپرست کے بغیر امریکہ میں مقیم ہیں ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *