امریکہ میں آرایس ایس کے سربراہ کی تقریرسے قبل ہندوتوا نظریہ کیخلاف امریکی سیاستدان اور عوام میدان میں آگئے۔ میئر نیویارک زہران ممدانی نے ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کو تفرقہ پسند قراردے دیا۔ آر ایس ایس سے وابستہ یہ گروہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اورعیسائیوں کیخلاف تشدد میں ملوث ہے۔ امریکہ میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اورعیسائیوں کیخلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دیا ہے۔ بھارت میں سیاسی اثر و رسوخ کی حامل مودی کی جماعت بی جے پی بھی انتہا پسند آر ایس ایس کے نظریے پر ہی وجود میں آئی ۔ عالمی تجزیہ کار جیفرلو کرسٹوف کے مطابق بھارت میں من پسند نصاب سے جامعات پر حاوی انتہاپسند آر ایس ایس کے غلبہ کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اس سے قبل امریکا میں قائم تین سکھ تنظیموں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کو امریکامیں داخلے کی اجازت نہ دیں۔ آر ایس ایس بھارت میں مذہبی اقلیتوں کیخلاف تشدد، امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔امریکن سکھ کاکس کمیٹی، سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی ایسٹ کوسٹ اور امریکن گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے 20 اگست کو ایک خط میں یہ مطالبہ کیا۔ یہ خط 25 اگست کو موہن بھاگوت کے متوقع دورہ امریکاسے قبل لکھا گیا۔ تنظیموں نے 29 اگست کو میڈیسن سکوائر گارڈن میں مجوزہ تقریب کا بھی حوالہ دیا۔سکھ تنظیموں نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ کو امریکامیں داخل ہونے کی اجازت دینے اورانہیں عزت دینے سے ایک ایسے وقت میں انتہائی خطرناک پیغام جائے گا جب بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں اس تنظیم کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ایسی تنظیموں کے رہنمائوں کو سفارتی مراعات یا اعلیٰ سطح تک رسائی فراہم نہ کرے جن پر مذہبی اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔یہ پیش رفت امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے آر ایس ایس کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کے چیئرمین آصف محمود نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں اور ا س سے منسلک تنظیمیں عیسائیوں اور مسلمانوں سمیت مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں۔یو ایس سی آئی آر ایف نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے اور اپنی جائزہ رپورٹس میں بھارت کو ”خصوصی تشویش کا حامل ملک” قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔آر ایس ایس کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی سرپرست تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ اسے اپنی ہندوتوا نظریے اور مذہبی اقلیتوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے طویل عرصے سے تنقید کا سامنا ہے ۔ امریکی سکھ تنظیموں کے اس مطالبے نے آر ایس ایس کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے اور اقلیتی برادریوں میں ان خدشات کو اجاگر کیا ہے جن کے مطابق بھارت سے باہر بھی ہندوتوا سیاست کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے۔ یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ کئی دہشت گردانہ معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے۔ اس کی بنیاد 27 ستمبر 1925ء کو ناگپور میں ڈالی گئی تھی۔ 2014 تک اس کی رکنیت 50 لاکھ سے 60 لاکھ ہے۔اس کے بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوار ہیں۔ یہ ہندو سوائم سیوک سنگھ کے نام سے بیرون ممالک میں سرگرم ہے، وہاں سے خطیر رقم چندہ لایا جاتا ہے۔ یہ بھارت کو ہندو ملک گردانتی ہے اور یہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے۔ بھارت میں برطانوی حکومت نے ایک بار اور آزادی کے بعد حکومتِ ہند نے تین بار اس تنظیم کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا نام سرفہرست ہے۔ 1927 ء کے ناگپور فساد میں اس کا اہم رول رہا ہے۔ 1948 ء کو اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڈ سے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا۔ 1969ء کو احمد آباد فساد، 1971 ء کو تلشیری فساد اور 1979 ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں ملوث رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو اس تنظیم کے اراکین (کارسیوک) نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دیا۔ آر ایس ایس کو مختلف فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے پر تحقیقی کمیشن کی جانب سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں