بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 22.6°C
Monday, 07 September 2026 | پاکستان: 26 ر بیع الاول 1448

بلوچستان میں تہہ در تہہ بھارتی سا زشیں

Monday, 7 September, 2026

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ” بیانے” کا بھی ہے۔ جان کاروں کے مطابق بعض حلقے اپنے مذموم عزائم کی خاطر حقیقی شکایات کو بنیاد بنا کر ایسا سیاسی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جس میں ریاست کو”غیر ملکی قبضہ”قرار دیا جاتا ہے ۔اور اس ضمن میں بھارت عرصہ دراز سے اپنی مذموم سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔دو سری طرف یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بلوچستان میں صحت کا شعبہ وسیع جغرافیہ، منتشر آبادی، دشوار گزار راستوں، محدود وسائل اور سکیورٹی مسائل کے باعث عرصہ دراز سے غیر معمولی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں صوبے کے متعدد دور افتادہ علاقوں میں شہریوں کو ڈاکٹرز، ہنگامی طبی امداد، حفاظتی ٹیکوں اور زچہ و بچہ کی بنیادی نگہداشت کیلئے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔اسی ضمن میں 30 اگست کو ایک چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے صوبے کے صحت کے شعبے کی صورتحال، حکومتی اقدامات اور درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی اور اس میں زچہ و بچہ کی صحت صوبے کے اہم مسائل میں شامل ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 198 رپورٹ کی گئی ہے۔ بچوں کی اموات اور کم ویکسینیشن کوریج بھی تشویش کا باعث ہیں ۔ صوبے میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج تقریباً 38 فیصد رہنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ویکسینیشن پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے اوردور دراز آبادیوں تک موبائل ٹیموں، کمیونٹی کارکنوں اور مسلسل آگاہی کے ذریعے رسائی بڑھانا ضروری ہوگا۔یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ حکومت بلوچستان نے صحت کی سہولیات بہتر بنانے کیلئے 11 بڑے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد طبی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور علاج کو عوام کے قریب لانا ہے۔ بینظیر ایمبولیٹری اینڈ ایمرجنسی سروس بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے بنیادی اور زچہ و بچہ کی صحت کی خدمات کو کمیونٹی کی سطح تک وسعت دی جا رہی ہے ۔ طبعی ماہرین کے بقول یہ ماڈل خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ہے جہاں بڑے ہسپتال فوری طور پر قائم کرنا ممکن نہیں۔ہنگامی طبی امداد کیلئے ٹراما سینٹرز اور پیپلز ایئر ایمبولینس جیسے اقدامات بھی اہم ہیں ۔بلوچستان میں طویل فاصلے اور دشوار گزار راستوں کے باعث حادثات یا سنگین بیماری کی صورت میں مریض کو بروقت ہسپتال پہنچانا مشکل ہو تا ہے۔اس تناظر میں زمینی ایمبولینس کے ساتھ فضائی طبی سہولت ایسے مریضوں کیلئے قیمتی وقت بچا سکتی ہے جنہیں فوری علاج درکار ہو۔ اس نظام کی مؤثریت کیلئے تربیت یافتہ عملہ، مناسب آلات اور ضلعی سطح پر بہتر رابطہ ضروری ہے۔ٹیکنالوجی صحت کے شعبے میں نئی گنجائش پیدا کر رہی ہے۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دور دراز علاقوں کے مریضوں کو ڈاکٹروں سے رابطے کی سہولت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ نظام ان علاقوں کیلئے خاص طور پر مفید ہو سکتا ہے جہاں ماہر ڈاکٹرز کی مستقل موجودگی ممکن نہیں ۔ ابتدائی تشخیص، طبی مشاورت اور مریض کی رہنمائی آن لائن دستیاب ہونے سے غیرضروری سفر، اخراجات اور وقت میں کمی آسکتی ہے۔ تاہم اس کیلئے قابل اعتماد انٹرنیٹ ، بجلی اور تربیت یافتہ مقامی عملہ بھی ضروری ہوگا ۔صحت کے انتظام میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی ایک اہم قدم ہے۔ 40 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز کے پروفائل اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کیلئے AI پر مبنی ہیومن ریسورس مینجمنٹ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں مسئلہ صرف ڈاکٹرز کی مجموعی کمی نہیں بلکہ ان کی غیر مساوی تقسیم بھی ہے۔ بعض شہری علاقوں میں طبی عملہ نسبتاً زیادہ ہے، جبکہ دور دراز اضلاع میں ضرورت کے مطابق ڈاکٹرز دستیاب نہیں۔ بہتر ڈیٹا کی بنیاد پر تعیناتی اور افرادی قوت کی منصوبہ بندی اس خلا کو کم کر سکتی ہے۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی کیلئے بروقت ڈیٹا کی فراہمی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔بلوچستان میں صحت اور بیماریوں سے متعلق محدود معلومات پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم کو متاثر کرتی ہیں۔ ڈیجیٹل ریکارڈ، باقاعدہ نگرانی اور اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ اس عمل کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔۔ بعض علاقوں میں ایمبولینسز اور ادویات لے جانے والی گاڑیوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے سے ہنگامی خدمات اور طبی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والا نقصان بھی مریضوں کی منتقلی اور ادویات کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس صورتحال میں صحت کا نظام امن و امان، مواصلاتی ڈھانچے اور محفوظ سپلائی چین سے الگ ہو کر مؤثر طور پر کام نہیں کر سکتا۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بلوچستان کے صحت کے شعبے میں اصلاحات کی سمت موجود ہے، لیکن اصل کامیابی عملدرآمد کے تسلسل سے وابستہ ہے۔ نئے منصوبوں کے ساتھ موجودہ مراکز صحت کو فعال، ادویات کی دستیابی یقینی، طبی عملے کی حاضری مؤثر اور ایمرجنسی نظام قابل اعتماد بنانا ہوگا ۔ اگر وسائل کو درست ترجیحات کے ساتھ استعمال کیا جائے اور ٹیکنالوجی کو زمینی ضروریات سے جوڑا جائے تو بہتری ممکن ہے ۔آخرکار بلوچستان کے عوام کو معیاری اور بروقت صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے۔ نئے منصوبے، بڑھتا ہوا بجٹ، ہیلتھ کارڈ، ٹیلی میڈیسن، ایئر ایمبولینس اور AI پر مبنی انتظامی نظام مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ان اقدامات کا فائدہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ صوبے کے دور افتادہ ترین علاقوں تک بھی پہنچے۔ بہتر منصوبہ بندی، ڈیٹا، نگرانی، محفوظ راستوں اور مضبوط طبی نظام کے ذریعے بلوچستان میں صحت کی سہولیات کو زیادہ قابل رسائی، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔ایسے میں قابل توجہ امر یہ ہے کہ اگرچہ حکومت کے تمام ادارے اس ضمن میں اپنی بساطت کے مطابق خدمات انجام دے رہے ہیں مگر اس ضمن میں بہت کچھ کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔توقع کی جانی چاہیے کہ سبھی متعلقہ حلقے اپنی ذمہ داریاں احسن ڈھنگ سے انجام دیں گے ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *