امریکہ کے معروف تحقیقی ادارے Pew کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ میں 50 سے زائد فیصد عوام نے بھارت کیخلاف منفی جذبات کا اظہار کیا ہے جس کے بعد بھارتی مقبولیت 2008 کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی۔ Pew عالمی سطح پر سیاسی حقائق اور اعداد و شمار کی تحقیق کے سب سے زیادہ معتبر اداروں میں شمار ہوتا ہے ۔ سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اقوام عالم میں صرف 45 فیصد افراد بھارت کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں ۔ امریکہ کے 56 فیصد نوجوان بھارت کے شدید مخالف ہیں۔اس طرح دو دہائیوں میں بھارتی مقبولیت میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔ آسٹریلیا میں بھی بھارت کی مقبولیت گر کر 44 فیصد کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔امریکی عوام کا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر سے اعتماد 5 سال میں آدھا رہ گیا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ہندو قوم پرستی اور زہریلے آن لائن کلچر کے باعث بھارت کا بین الاقوامی امیج شدید متاثر ہوا۔ امیج خراب ہونے سے امریکی خارجہ پالیسی اور دو طرفہ تعلقات سخت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس پر بھارتی امیج کی تنزلی کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت کے بری شہرت سے امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل کواڈ اتحاد کو شدید جھٹکا لگے گا۔ مسلمانوں اور عیسائیوں پر مظالم کے باعث امریکی سیاسی دھڑے بھی بھارت کے خلاف ہو گئیہیں۔ ہندو قوم پرستی اور تنقید نگاروں پر حملوں نے عالمی سطح پر بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیاـ بھارتی ٹرول آرمی کے زہریلے آن لائن رویوں اور گالی گلوچ نے ملک کا امیج تباہ کر دیا۔بدترین انفراسٹرکچر اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے بھارت کے نام نہاد شائننگ امیج کا جنازہ نکال دیا۔ امریکی نوجوانوں میں بھارت کے خلاف منفی سوچ زیادہ غالب ہے، جہاں 18 سے 29 سال کے 56% نوجوان بھارت کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ پڑوسی ممالک اور عالمی سطح پر ملا جلا رجحان عالمی سطح پر 36 ممالک کے بیالیس ہزار سے زائد افراد سے رائے لی گئی، جس میں شدید تضاد دیکھا گیا۔ پاکستان میں بھارت کے خلاف سب سے زیادہ منفی جذبات پائے گئے، جہاں 91فیصد عوام بھارت کے بارے میں منفی اور صرف 7فیصد مثبت رائے رکھتے ہیں۔سری لنکا میں بھارت کیلئئے سب سے زیادہ مثبت جذبات دیکھے گئے جہاں 79فیصد عوام بھارت کے حق میں ہیں۔برطانیہ اور کینیا میں بھی 71 فیصد لوگ بھارت کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔مجموعی طور پر، عالمی سطح پر بھارت کی تصویر کافی منقسم نظر آتی ہے جہاں دنیا بھر میں اوسطاً 45 فیصد لوگ مثبت اور 41 فیصد لوگ منفی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ تصویر دھندلانے لگی ہے۔ اور عالمی سطح پر بھارتی امیج تیزی سے خراب ہورہا ہے۔عالمی رائے عامہ کے سروے کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھارت میں مضبوط عوامی حمایت حاصل ہے تاہم عالمی سطح پر ان کے بارے میں مجموعی رائے منفی توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ نتائج گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے سال 2025 کے اختتامی سروے میں سامنے آئے، جس میں 58 ممالک کے 57 ہزار 864 بالغ افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ سروے کے مطابق دنیا بھر میں 25 فیصد افراد نے مودی کے بارے میں موافق جبکہ 37 فیصد نے ناموافق رائے ظاہر کی جبکہ 38 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ مودی کے بارے میں نہیں جانتے یا کوئی رائے نہیں رکھتے۔ اس طرح مودی کا عالمی سطح پر خالص موافقت اسکور منفی 12 رہا۔ سب سے زیادہ مثبت رائے بھارت میں ریکارڈ کی گئی جہاں خالص موافقت اسکور مثبت66 رہا، جبکہ منفی رائے رکھنے والے ممالک میں ایران، جنوبی کوریا،ڈنمارک، یوکرائن، اور پاکستان شامل ہیں۔برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں صرف سبزی خور کھانے پیش کیے جانے پر بھارت میں سیاسی بحث شروع ہوگئی ۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر عالمی رہنماؤں کے لیے تیار کیے گئے عشائیے کے مینو میں گوشت، مچھلی اور انڈے سے تیار کردہ کوئی ڈش شامل نہیں تھی۔ مینو میں بھارت کے مختلف علاقوں کے روایتی سبزی خور کھانے شامل کیے گئے۔ عشائیے میں پنیر، دال، سبزیوں، باجرے اور دیگر مقامی اجزا سے تیار کردہ مختلف پکوان پیش کیے گئے، جبکہ میٹھے میں روایتی بھارتی ڈیزرٹس بھی شامل تھے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے دوطرفہ ملاقات کے بعد برکس کے سرکاری عشائیے میں شرکت نہیں کی جبکہ سوشل میڈیا پر یہ زیرِ گردش رہا کہ اجلاس میں مبینہ طور پر ناقص کھانا کھانے کی وجہ سے بعض عالمی رہنماؤں کی طبیعت متاثر ہوئی۔مکمل سبزی خور مینو پر بھارتی اپوزیشن کی جانب سے تنقید سامنے آئی۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ بھارت کی بڑی تعداد نان ویجیٹیرین کھانا کھاتی ہے اور بھارتی نان ویج کھانے بھی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔کانگریس کے ایک اور رہنما وارث پٹھان نے کہا کہ حکومت ویجیٹیرین کھانوں کو ضرور فروغ دے، بھارتی فوڈ کلچر کو صرف سبزی خور کھانوں تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔دوسری جانب بھارتی وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن کے اعتراضات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب کانگریس کھانے کے مینو پر بھی سیاست کررہی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق عشائیے میں سبزی خور پکوان پیش کرنے کا مقصد بھارت کے مختلف خطوں کے روایتی کھانوں اور ثقافتی تنوع کو عالمی رہنماؤں کے سامنے پیش کرنا تھا۔بھارت میں کھانے پینے کی ترجیحات مذہبی اور ثقافتی پہلو بھی رکھتی ہیں، جس کے باعث سبزی خور اور نان ویجیٹیرین غذا کا معاملہ اکثر سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بنتا ہے۔برکس سربراہی اجلاس کے عشائیے کا سبزی خور مینو بھی اسی تناظر میں بھارت میں سیاسی بحث کا باعث بن گیا، جہاں حکومت اسے بھارتی ثقافت اور علاقائی کھانوں کی نمائندگی قرار دے رہی ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ملک کے متنوع غذائی کلچر کو نظر انداز کیے جانے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں