یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نے دنیا بھر میں اظہارِ رائے، فن اور ثقافتی تبادلے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن یہی پلیٹ فارم اکثر اوقات نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کے فروغ کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مختلف ممالک میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر مسلسل بحث جاری ہے، جبکہ اب ایک نئی تحقیق نے بھارت میں نفرت پر مبنی موسیقی کی صنعت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ **واشنگٹن ڈی سی** میں قائم غیر جانبدار تحقیقی ادارے سنٹرفاردی سٹڈی آرگنائزڈہیٹ کی جانب سے پندرہ جون دوہزارچھبیس کو جاری کی گئی رپورٹ پرافٹنگ فرام ہیٹ میوزک نے اس رجحان کو تفصیل سے اجاگر کیا ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ مذکورہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف نفرت انگیز بیانیے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز بیانات اب صرف جلسوں، ریلیوں یا سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود نہیں رہے بلکہ موسیقی کی شکل میں بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، جسے محققین نے **ہندوتوا پاپ میوزک کا نام دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس طرز کی موسیقی محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک منظم نظریاتی مہم کا حصہ بن چکی ہے، جس کا مقصد مخصوص مذہبی برادریوں کے خلاف منفی جذبات کو فروغ دینا، انہیں غیر انسانی انداز میں پیش کرنا اور معاشرے میں خوف، غصے اور تقسیم کو بڑھانا ہے۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق جب نفرت کو موسیقی جیسے مقبول ذریعے کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کا اثر زیادہ وسیع اور دیرپا ہو سکتا ہے، کیونکہ گانے آسانی سے نوجوان نسل تک پہنچتے ہیں اور بار بار سنے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق **یوٹیوب ** اس نوعیت کے مواد کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوٹیوب پر اٹھانوے فنکاروں کی جانب سے تیار کیے گئے دوسو سے زائد نفرت انگیز گانے موجود ہیں جو پلیٹ فارم کی اپنی پالیسیوں سے متصادم ہونے کے باوجود دستیاب رہے۔ مزید یہ کہ ان میں سے ایک سوچار گانوں میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف براہِ راست تشدد پر اکسانے یا دھمکی آمیز پیغامات شامل ہیں، جنہیں مجموعی طور پر ستانوے ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ اسی تناظر میں رپورٹ نے دیگر عالمی پلیٹ فارمز کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے گانے موجود پائے گئے جن میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سفارتی ماہرین کے بقول ان اعداد و شمار سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک پلیٹ فارم تک محدود نہیں بلکہ مختلف ڈیجیٹل کمپنیوں کو اپنی مواد کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے متعدد گانے مسلمانوں اور عیسائیوں کو دشمن، حملہ آور یا ملک کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ بعض گیتوں میں مبینہ طور پر انہیںبھارت سے نکالنے، ان کے خلاف کارروائی کرنے یا صرف ہندو ریاست کے قیام کی حمایت جیسے پیغامات بھی شامل ہیں۔ ایسی زبان نہ صرف نفرت کو فروغ دیتی ہے بلکہ معاشرتی کشیدگی اور ممکنہ تشدد کے لیے ماحول بھی پیدا کر سکتی ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا کمپنیوں نے اپنی پالیسیوں میں نفرت انگیز تقاریر، تشدد پر اکسانے اور مذہبی یا نسلی امتیاز پر مبنی مواد کی ممانعت کا واضح اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود اگر ایسے مواد کو لاکھوں افراد تک رسائی حاصل ہو رہی ہو اور وہ پلیٹ فارمز کی آمدنی کا ذریعہ بھی بن رہا ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مواد کی نگرانی کے موجودہ نظام کس حد تک مؤثر ہیں۔ مبصرین کے مطابق مصنوعی ذہانت، انسانی نگرانی اور مقامی زبانوں کی بہتر سمجھ کے بغیر ایسے مواد کی بروقت نشاندہی ممکن نہیں۔رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ نفرت انگیز موسیقی صرف ایک ثقافتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سماجی اور سیاسی اثرات بھی دور رس ہو سکتے ہیں۔ جب کسی مخصوص مذہبی یا سماجی گروہ کو مسلسل منفی انداز میں پیش کیا جائے تو معاشرے میں عدم برداشت، تعصب اور تقسیم بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ماضی کے کئی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نفرت انگیز بیانیے اگر بروقت نہ روکے جائیں تو وہ حقیقی دنیا میں تشدد اور سماجی تصادم کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔سفارتی ماہرین کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کیلئے یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ آزادی اظہار اور نفرت انگیز مواد کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتی ہیں۔ ایک جانب اظہارِ رائے کے بنیادی حق کا احترام ضروری ہے، تو دوسری جانب ایسے مواد کی روک تھام بھی ناگزیر ہے جو کسی مذہبی یا نسلی گروہ کے خلاف تشدد، نفرت یا امتیازی سلوک کو ہوا دے۔یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ اگر نفرت پر مبنی مواد کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو اس کے اثرات صرف آن لائن دنیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، بین المذاہب تعلقات اور عوامی امن پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ معاشرے کے سبھی طبقات اس حوالے سے اپنی انسانی ذمہ داریوں کو احسن ڈھنگ سے نبھائیں گے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں