گزشتہ سال معرکہ حق اورآپریشن بنیان مرصوص میں عبرتناک شکست کے بعدخطہ میں امن کے سب سے بڑے دُشمن ملک بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی روکنے اور بالائی علاقوں میں آبی ڈھانچے کی تعمیر تیز کرنے کے فیصلے نے پاکستان کے آبی انتظامی نظام میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، قانونی اور سفارتی پہلو¶ں سے ہٹ کر خصوصاً دریائے چناب میں پانی کے بہا¶ کے وقت اور مقدار پر اثر انداز ہونے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت پاکستان کے پانی، خوراک، توانائی اور معیشت کےلئے ایک سنگین چیلنج بن رہی ہے۔ پاکستان کا پن بجلی کا نظام، نہری زراعت اور مجموعی معاشی ترقی مغربی دریا¶ں سے آنےوالے مسلسل اور قابلِ پیش گوئی پانی کے بہا¶ پر استوار ہے ۔ زیریں کنارے کے ملک کی حیثیت سے پاکستان کا آبپاشی نظام، آبی ذخائر، زراعت، بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی بالائی علاقوں سے آنےوالے پانی کے مسلسل اور قابلِ اعتماد بہا¶ پر منحصر ہے، پانی کی مقدار یا وقت میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال قومی آبی، غذائی، توانائی، ماحولیاتی اور معاشی سلامتی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے حالانکہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیرِانتظام منعقدہ حالیہ واٹر کنونشن میںتمام ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ مشترکہ دریائی نظاموں کے انتظام اور شفافیت کو ”ون واٹر، ون وژن“ کے اصول کے تحت مزید مضبوط بنائیں لیکن فاشسٹ بھارت اس کے برعکس مسلسل آبی جارحیت کرتے ہوئے مغربی دریا¶ں پر بالائی علاقوں میں مختلف منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لارہا ہے اور رنبیر کینال کی توسیع ، چناب – بیاس لنک ٹنل سمیت نئے منصوبوں کےلئے بھی ٹینڈرز جاری کررہاہے اِسی طرح بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر کو مغربی دریا¶ں سے متعلق ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم کرنا بھی بند کر دیا ہے حالانکہ یہ معاہدے کی واضح ذمہ داری ہے ۔ گزشتہ سال کے سیلابی موسم میں بروقت معلومات نہ ملنے سے پاکستان کی سیلابی پیش گوئی اور ہنگامی تیاری متاثر ہوئی جس سے انسانی جانوں، اہم انفراسٹرکچر اور لوگوں کے روزگار کو بھی شدیدخطرات لاحق ہوئے۔ آبی معلومات نہ ملنے کی صورت میں نہروں کی تقسیم، سیلابی انتظام اور بروقت وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے ۔ لیکن سندھ طاس معاہدہ موجود ہونے کے باوجود بھارت لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، پانی جیسے بنیادی انسانی وسیلے کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انسانیت اور بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔گزشتہ روزجنوبی ایشیا کے امور کے ماہر مائیکل کوگیل مین نے بھی کہا کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار ملک ہے اور دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا¶ں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جو بھارت سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس تک سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کا نظام نہایت م¶ثر ثابت ہوتا رہا اور دونوں ممالک معاہدے میں موجود طریقہ کار کے ذریعے اختلافات کو پرامن انداز میں حل کرتے رہے ۔ ان کے مطابق اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس پر عالمی بینک بھی دستخط کنندہ ہے، جس سے اسے بین الاقوامی سطح پر مضبوط قانونی حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا عالمی برادری اور عالمی بینک موجودہ صورتحال کے حل میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کوئی بھی ملک اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ اگر کسی فریق کو اعتراض ہو تو اسے معاہدے میں موجود مذاکراتی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہئے۔اِسی طرح ماسکو میں یو ڈبلیو سی کے سائنٹیفک سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہاکہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ آج بھی مکمل طور پر م¶ثر اور قانونی طور پر نافذ العمل ہے اگر معاہدے کی یکطرفہ معطلی جاری رہی تو اس کے پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور انسانی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو دنیا میں مشترکہ آبی وسائل کے پرامن انتظام کی ایک کامیاب اور پائیدار مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آج بھی عالمی سطح پر ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے۔سند ھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کادوٹوک موقف ہے کہ معاہدے کے تحت پانی پر پاکستان کا حق ناقابلِ تنسیخ ہے اور یہ پاکستان کی زندگی کی علامت ہے جس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔عالمی برادری بھی سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کو تنازعات کی روک تھام کےلئے ناگزیر سمجھتی ہے جبکہ معاہدہ مکمل طورپر م¶ثر ہے اوربین الااقوامی معاہدے کوئی اختیارنہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہیں جنہیں ہرصورت پوراکرناکسی بھی ملک کیلئے ضروری ہوتاہے اورسندھ طاس معاہدے میں اگرکوئی تبدیلی ہوبھی تواُس میں دونوں ممالک کی رضامندی شامل ہوتی ہے ۔ بھارت کی جانب سے یہ صرف ایک معاہدے کی خلاف ورزی نہیں بلکہ پاکستان کیخلاف اعلانِ جنگ ہے ۔ سفارتکاری سے فریب کاری تک بھارتی آبی جارحیت اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ معاہدے کی مسلسل بے توقیری ہے۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ اقوام عالم کونہ صرف معاہدہ شکن بھارت کوعالمی کٹہرے میں کھڑاکرناہوگا بلکہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق مغربی دریاﺅں سندھ ،جہلم اور چناب کا غیرمحدود بہاﺅپاکستان کی جانب یقینی بنوانا ہوگا ۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں