ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہوا رہا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کا دورہ کیا انہون نے چین کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھی فون کیا اور تازہ صورت حال پر بات چیت کی ۔ سعودیوں کی اپیل پر چین نے ایران سے رابطہ کیا ایرآن نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کا انحصار امریکہ اور اسرائیل کے جنگ کے خاتمے پر ہے۔ ادھر چین اور روس کھل کر سامنے آ گئے ہیں انہوں نے امریکی کی طرف سے ایران کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانیوالی قرار داد کو ویٹو کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ایران پر امریکی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیدیا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ ایران امریکہ مسلے کا حل اسلام اباد معاہدے پر عملدرآمد میں ہے اور چین اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیراعظم کے کہنے پر ایران کے ساتھ جنگ شروع کی۔ دراصل وینیزویلا آپریشن کی کامیابی کے بعد ٹرمپ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایران میں موجودہ حکومت کے خاتمے کے بعد ایک ڈمی حکومت بنا کر تیل کے وسیع ذخائر پر قبضہ کر لیں گے لیکن ایران اس کے لئے سخت جان ثابت ہوا ۔ ایران کے اندر حکومت مخالف مظاہرے بھی کروائے گئے لیکن کامیابی نہ ملی۔ امریکی انسپیکٹر جنرل کی کانگرس میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران جنگ کے مجموعی اخراجات 92 کھرب 55 ارب روپے اور گولہ بارود پر 61 کھرب اور 79 ارب روپے ہیں ۔ اس پرائی جنگ میں امریکہ کے اربوں روپے خرچ ہوئے اور اس وقت اسے اسلحے کی کمی کا سامنا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے حوثیوں کے مکہ اور مدینہ پر حملوں کی شدید۔ الفاظ میں مزمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کے غم و غصے کی شدت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مکہ پر حملے کی کوشش ناقابل معافی ہے حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ معاہدہ جارہانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے اس سے متعلق آپریشنل تفصیلات پبلک نہیں کی جا سکتیں کسی فریق پر حملے کا ردعمل کیا ہو گا تینوں ممالک مل کر لائحہ عمل طے کریں گے۔ حوثیوں نے جنگ کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا ہے مکہ اور مدینہ پر حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی یے۔ اب سعودی فوج بھی ہوثیوں کے حملوں کا بھر پور جواب دے رہی ہے۔ادھر پوری دنیا میں تیل کی سپلائی کی صورت حال انتہائی گمبھیر ہوتی جا رہی ہے ہوثیوں نے سعودی عرب کی تیل سپلائی کرنے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچایا ہے جس سے یورپ کو سعودی پٹرول کی سپلائی معطل ہو گئی ہے اس پائپ لائین سے 40 لاکھ بیرل پٹرول روزانہ یورپی ممالک کو سپلائی ہوتا تھا۔ اس پائپ لائن کی مرمت پر دو تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہے اس پر ایرانی پاسداران انقلاب کا مکمل کنٹرول ہے۔ اب باب المندب بھی ہوثیوں کے کنٹرول میں ہے پٹرول کی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے پوری دنیا اس وقت سنگین معاشی بحران کا شکار ہے اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے رہے ہیں ۔گو حکومت نے 800 سی سی گاڑیوں ، رکشوں اور موٹر سائیکل کیلئے 100 روپے کی رعائتی سکیم کا اعلان کیا ہے لیکن جس رفتار سے پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس لحاظ سے یہ سکیم غیر موثر ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ٹوکن کیلئے لمبی لائنیں اور پٹرول پمپس 5 لیٹر سے کم پٹرول رعائیتی نرخوں پر دینے کیلئے تیار نہیں ۔ حکومت نے ایندھن بچت اسکیم کی منظورہ دی ہے جس کے تحت سمارٹ لاک ڈان لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شادی کی تقریب میں ون ڈش ہو گی کاروباری مراکز شادی ہالزز اور ہوٹلز 10 بجے کے بعد بند ہو جایا کریں گے۔ سرکاری گاڑیوں کیلئے پٹرول کی سپلائی تین ماہ کیلئے 50 فیصد۔ کم کر دی اور سرکاری گاڑیوں کو گراونڈ کر دیا جائے گا۔ بیرون ملک دوروں اور نئی گاڑیوں کی خرید پر پابندی ہو گی ۔ حکومت کی۔ اس بچت اسکیم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن اگر یہ بچت اسکیم مستقل طور پر نافذ کی جائے تو اس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑینگے۔ اس ریجن یعنی جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک انڈیا سری لنکا اور افغانستان میں پٹرول کی قیمتیں اتنی نہیں بڑھیں جس رفتار سے ہمارے ملک میں بڑھ رہی ہیں ۔ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے لیکن طالبان حکمرانوں نے پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا۔ انڈیا روس کے تیل پر گزارا۔ کر رہا ہے سری لنکا ڈیفالٹ کرنے کے باوجود معاشی طور پر سنبھل چکا ہے اس نے بھی مہنگے پٹرول کے بوجھ کو عوام پر منتقل نہیں کیا ۔ امریکہ ایران تنازع کے خاتمے کیلئے اب چین بھی میدان میں آ گیا ہے ایرانی قیادت قطر اور پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہے اور بیک چینل ڈپلومیسی بھی جاری ہے ۔ امریکی صدر فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ایران پر بھرپور حملہ کیا جائے یا جنگ کے خاتمے کا اعلان ہو۔ اس مسلے کا حل سفارت کاری اور اسلام آباد ڈیکلریشن پر عملدرآمد ہے تاکہ بحر ہرمز اور باب المندب کھلیں اور دنیا بھر میں تیل کی سپلائی بحال ہو پٹرول کی قیمتیں نیچے آئیں اور معاشی بحران کا خاتمہ ہو۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں