چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ جلوس نکالو، لاٹھیاں مارو، اب یہ حیثیت وکلا کی رہ گئی ہے۔سپریم کورٹ میں اراضی سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں بھی جھانکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ مجھے بولنے دیں، ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جج بول رہا ہے، ہمیں مداخلت کرنے دیں، مہذب معاشروں میں اختلاف رائے کا ایک خاص طریقہ ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست میں کہاں کہا گیا ہے کہ کس کے لیے ریلیف مانگ رہے ہیں؟ وکیل صاحب، درخواست میں یہ سب چیزیں کہاں لکھی ہیں؟درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شاید تحریر رہ گئی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں