بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.1°C
Monday, 24 August 2026 | پاکستان: 12 ر بیع الاول 1448

جمہوری استحکام، سب کی اجتماعی ذمہ داری

Monday, 24 August, 2026

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سینٹ اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف سے ملاقات میں ان سے انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں پارلیمان میں موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ اور تحریک انصاف کی رہنماں کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب بڑی پیشرفت ہے وطن عزیز اس وقت جن مسائل مشکلات اور بحرانوں سے دوچار ہے اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں اپنے پائوں پر ہم نے خود کلہاڑیاں ماری ہیں ملک کو درپیش مسائل کی جڑیں ماضی کے ادوار کے غلط فیصلوں میں پیوست ہیں قیام پاکستان کے فوری بعد بانیان پاکستان داغ مفارقت دے گئے جس سے نوازائیدہ ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع میسر نہیں آسکا اور یہاں ایک سیاسی خلا پیدا ہوگیا جبکہ سیاستدانوں کی اگلی کھیپ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے بجائے اسے اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرنے میں مصروف ہوگئی ہے جس سے ہمیں مضبوط سیاسی بنیادیں میسر نہ آسکیں تاہم الیہ یہ ہے کہ بعد میں آنیوالوں نے بھی اپنی ذمہ داری کا ادراک نہیں کیا اور غیر پسندیدہ سیاسی روایات کے تسلسل کو جاری رکھا 1990 کی دہائی اس ضمن میں ایک مثال کا درجہ رکھتی ہے جب یکے بعد دیگرے چار جمہوری حکومتوں کو رخصت کیا گیا اور نتیجتاً ملک آمریت کی کھائی میں اتر گیا 2006 میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کا میثاق جمہوریت پر اتفاق خوش آئند پیشرفت تھی جس میں مل کر آگے بڑھنے کا عہد باندھا گیا تھا اور مسائل کو جمہوری انداز سے پارلیمان کے اندر حل کرنے پر اتفاق کیا گیا مگر جب اقتدار جمہوری حکومتوں کے پاس آیا تو ماضی کے عہد و پیمان کو یکسر مسترد اور معاہدات کو فراموش کردیا گیا حصول اقتدار کیلئے دوبارہ غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا استعمال شروع ہو گیا جس کا خمیازہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا جمہوریت ایک سیاسی اخلاقی معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام ہے جس کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظرئیے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں لفظ جمہوریت کا ماخذ ایک یونانی لفظ ڈیماس کریٹاس ہے جس کے معنی عوام کی حکومت عوام کے ذریعے اور عوام کیلئے ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دونوں پہیے متضاد سمتوں میں چلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام اور سیاسی اداروں کی کمزوری کی صورت میں سامنے آیا ہے جمہوریت کیلئے شفاف انتخابات بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں پاکستان میں جمہوری عدم استحکام کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمار ی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی انتخابات کو عوامی رائے کے طور پر قبول کرتے ہوئے آزادانہ اور شفاف انتخابات کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہر جماعت انتخابات میں ہر صورت جیتنا چاہتی ہے اور اس کیلئے منفی حربے استعمال کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ملک میں اب تک ہونیوالے تقریباً تمام انتخابات دھن دھونس دھاندلی بے بنیاد الزام تراشیوں منفی پروپیگنڈے اور طاقتور حلقوں کی جانب سے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی خاطر اختیار کئے جانیوالے ہتھکنڈوں کے سبب غیر معتبر قرار پاتے رہے ہیں گزشتہ 47 سال کے دوران ملک میں ہونیوالے عام انتخابات کے نتائج کو کسی بھی سیاسی جماعت نے صدق دل سے قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے انتخابی نظام نہ صرف اپنی افادیت کھوتا جارہا بلکہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے 2008 کے بعد سے تین اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے مگر ملک خاطر خواہ ترقی نہ کر سکا سیاسی تسلسل تو قائم ہوگیا مگر سیاسی استحکام ایک خواب کی مانند ہے ہمارے ہاں مسائل کا ادراک سب کو ہے مگر ان کے حل کی جانب قدم بڑھانے کو کوئی تیار نہیں ملک کو اسوقت سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل المدت معاشی پالیسیوں اور میثاق جمہوریت یعنی ایک نئے عمرانی معاہدے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سیاسی تبدیلیاں معاشی عمل پر اثر انداز نہ ہوں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے یہ کام سیاسی اور ریاستی اداروں کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی انتشار نے ملک کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے اس کی مثال پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ملتی اس سیاسی انتشار کی وجہ سے خود سیاسی جماعتیں بہت بڑے خسارے میں ہیں سیاسی قائدین کی عوامی حمایت اور پسندید گی کے گراف میں کمی واقع ہو رہی ہے اور سیاسی کشیدگی کے ماحول کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے اعتماد اور توقعات کو بھی شدید ٹھیس پہنچی ہے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بے یقینی ہے اور یہ صرف عام آدمی کا مسئلہ نہیں سرمایہ کار اور صنعت کار طبقہ بھی اس بد اعتمادی کے ماحول سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے موجودہ حالات میں سیاسی قائدین کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ریاست کو سیاست پر ترجیح دیں’ سیاسی انتشار کا خاتمہ کریں اور قومی یکجہتی کا ایسا ماحول پیدا کریں جو ملک کو درپیش مسائل مشکلات اور بحرانوں سے نکالنے میں معاون ومدد گار ثابت ہو یقینا پاکستان اس وقت مشکلات سے دوچار ہے ۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ مذاکرات اور سیاسی افہام و تفہیم کے بغیر سیاسی اور جمہوری گاڑی چل نہیں سکتی سیاسی ہیجان کم ہوگا تو سماج بھی مضبوط ہوگا اور معیشت بھی تیزی سے مستحکم ہونے لگے گی پاکستان پون صدی مکمل کر چکا ہے اتنا وقت کسی قوم کو اپنی سمت متعین کرنے کیلئے کم نہیں ہوتا مگر ہماری قومی پیش رفت کو دیکھا جائے تو ہم آج بھی انہی مسائل سے نمٹ رہے ہیں جن سامنا قیام پاکستان کے کچھ عرصہ کے بعد ہی کرنا پڑ گیا تھا ملک میں جمہوری استحکام ایک اجتماعی ذمہ داری ہے سیاسی جماعتیں جب تک جمہوری اقدار کے احترام اور اصولوں کو اپنے منشور اور عمل کا حصہ نہیں بنا تیں اس وقت تک ملک میں جمہوری بقاء شفافیت اور استحکام ممکن نہیں ملک میں شفاف غیر جانبدرانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنا کر ہی جمہوری کایا کلپ ہوسکتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *