معروضی حالات میں اگر ہمارا قومی ترجیحات کا مزاج یہی عالم رہا تو شاید اگلے سو برس میں بھی یہاں سماجی و معاشی تبدیلی نہ آئے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں غربت کروڑوں انسانوں کی زندگی متاثرکر رہی ہے، مہنگائی نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے، نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے روزگار کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، لاکھوں پڑھے لکھے ملک سے بھاگنے کے چکر میں ہیں اور قومی معیشت قرضوں کے سہارے چل رہی ہے؛ لیکن قوم کی اجتماعی دلچسپیوں کا عالم یہ ہے کہ بنیادی مسائل پر سنجیدہ بحث کے بجائے تماشوں، افواہوں اور مشہور شخصیات کی نجی زندگیوں کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ عا آدمی پریشان ہے کہ بجلی کا بل اور بچوں کی فیس کیسے ادا کرے اور مہینے کا راشن کیسے خریدے۔ چھوٹا تاجر ٹیکسوں، کرایوں اور بجلی کے اخراجات سے نالاں ہے، کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کیلئے پریشان ہے اور عام آدمی علاج کے اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مگر جب موبائل فون کھولیے تو قومی زندگی کے یہ بنیادی مسائل اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کسی اداکار نے کیا پہنا، کس کا وزن بڑھ گیا، کس نے چہرے کی سرجری کروائی، کس یوٹیوبر کی شادی ہوئی، کس کا گھر اجڑ گیا، کس کی ویڈیو وائرل ہو گئی اور کس نے کس کے خلاف بیان دیا۔ہماری دلچسپی کا پیمانہ بھی عجیب ہے۔ کوئی متنازع ویڈیو سامنے آ جائے تو چند گھنٹوں میں ہزاروں تبصرے، لاکھوں مشاہدات اور بے شمار قیاس آرائیاں جنم لے لیتی ہیں۔ لیکن کسی عوامی مسئلے پر ٹھوس معلومات، اعداد و شمار اور ممکنہ حل کے ساتھ گفتگو شروع کی جائے تو اکثر لوگوں کی توجہ چند لمحوں میں منتشر ہو جاتی ہے۔ ہم خبر کی حقیقت جاننے سے پہلے اسے آگے پہنچانے میں جلدی کرتے ہیں، کسی کے کردار پر فیصلہ دینے میں دیر نہیں لگاتے، مگر اپنے حقوق کے بارے میں جاننے اور ان کیلئے منظم کوشش کرنے میں سستی دکھاتے ہیں۔ یہی رویہ معاشرے کو باشعور شہریوں کے بجائے تماشائیوں کے ہجوم میں بدل دیتا ہے۔اس رویے کا تعلق صرف موبائل فون سے نہیں۔ یہ ایک وسیع تر سماجی مسئلہ ہے۔ اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ملک گیر سماجی تبدیلی اس وقت آئیگی جب مہنگائی بہت بڑھ جائے گی، غربت ناقابلِ برداشت ہو جائے گی یا لوگ کسی حکمران سے مکمل طور پر مایوس ہو جائیں گے۔ حالاں کہ محرومی اور ناانصافی اپنی جگہ اہم عوامل ہیں، مگر ان سے خودبخود تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے لوگوں کو یہ باور کرناپڑتا ہے کہ ان کی مشکلات محض انفرادی بدقسمتی نہیں بلکہ اجتماعی مسائل بھی ہیں۔ انہیں اپنے حقوق کا شعور حاصل کرنا، مشترکہ مقاصد پر متفق ہونا اور تبدیلی کیلئے مستقل، منظم اور پُرامن جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ صرف غصہ کرنا، جلسہ کرنا، ریلی نکالنا یا دھرنا دینااور یا صرف نعرے لگانے سے تبدیلی نہیں ہوتی اور یا صرف ایک حکمران کو ہٹا دینا نظام کی اصلاح کی ضمانت نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے منظم شعوری جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔قرضوں کے بوجھ، مالیاتی دباؤ اور بیرونی ادائیگیوں کے مسائل کے درمیان پاکستان نے قرض لینے والے ممالک کے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی سربراہی بھی سنبھالی ہے۔ اکتوبر 2026 میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس منصب کو قبول کیا۔ اس پیش رفت کا مقصد قرضوں کے انتظام اور ترقیاتی مالیات کے تجربات میں تعاون بتایا گیا ہے۔ قرض لینے کا تجربہ اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ ہم قرض لینے والے دوسرے ممالک کے فورم کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔ یہ منصب بذاتِ خود کوئی منفی بات نہیںمگر کیا ہم اپنے تجربے سے ایسا سبق حاصل کر سکیں گے جو ہمیں قرضوں پر مسلسل انحصار سے نکالنے میں مدد دے؟ یا ہم اپنے تجربے کا جشن مناتے رہیں گے اور اصلاح کی ضرورت پسِ پشت ڈال دیں گے؟ قرض لینے کا تجربہ اگر قرض سے نکلنے کا راستہ نہ دکھا سکے تو اس تجربے پر فخر کا فائدہ کیا؟مشہور حکایت ہے کہ ایک بادشاہ رعایا پر نت نئے ٹیکس لگاتا تھا، مگر لوگ خاموش رہتے۔ ایک دن اس نے ایک پل بنایا اور اس پل سے گزرنے والوں پر ٹیکس کے ساتھ دو جوتے مارنے کا حکم بھی دے دیا۔ لوگ ٹیکس دیتے، جوتے کھاتے اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتے۔کچھ عرصے بعد رعایا کا ایک وفد دربار پہنچا۔ بادشاہ نے سمجھا کہ شاید عوام میں غیرت پیدا ہوگئی ہے اور وہ ظلم کے خلاف شکایت کریں گے، مگر وفد کے سربراہ نے عرض کیا، ”حضور! ہمیں ٹیکس یا جوتوں سے شکایت نہیں، صرف یہ درخواست ہے کہ پل پر جوتے مارنے والے سپاہیوں کی تعداد بڑھا دی جائے تاکہ قطار کم ہو اور ہم جلدی جوتے کھا کر اپنے کام پر پہنچ سکیں۔”بادشاہ حیران رہ گیا۔ رعایا ظلم ختم نہیں، اسے سہل بنانا چاہتی تھی، بلکل یہی حال ہمارے شہر نا پرساں کا ہے! جب کوئی قوم ظلم کے خاتمے کے بجائے اسے برداشت کرنے کے انتظامات بہتر بنانے لگے، جب وہ ناانصافی کی وجہ پوچھنے کے بجائے اس کے ساتھ گزارا کرنے کے طریقے تلاش کرے، اور جب وہ اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کے بجائے چند وقتی سہولتوں پر مطمئن ہو جائے تو تبدیلی کا راستہ مشکل ہو جاتا ہے اور جوتے کھانا ان کا قومی مزاج بن جاتا ہے اور وہ ظلم سہتے ہیں، مگر اس کے خاتمے کیلئے ضروری اجتماعی کوششوں سے گریز کرتے ہیں۔ ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تعلیم، صحت، انصاف، ماحول، مزدوروں کے حقوق اور شفاف حکمرانی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوال اٹھاتی ہے، سماجی کارکن عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور صحافی و اہلِ قلم طاقت ور حلقوں سے جواب طلب کرتے ہیں۔ یہی کوششیں امید کا چراغ ہیں۔ لیکن چند بیدار افراد کی موجودگی اور پوری قوم کی اجتماعی ترجیحات میں تبدیلی دو الگ باتیں ہیں۔ سماجی تبدیلی کا مطلب صرف سڑکوں پر نکلنا، نعرے لگانا یا کسی ڈی چوک یا عمارت کے سامنے احتجاج کرنا نہیں۔ حقیقی تبدیلی اس وقت شروع ہوتی ہے جب شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں، ووٹ دیتے وقت کارکردگی اور کردار کو اہمیت دیتے ہیں، عوامی نمائندوں سے سوال کرتے ہیں، قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں، اداروں کو جواب دہ بنانا چاہتے ہیں اور اپنے ذاتی اور انفرادی مفاد سے بالا تر ہو کر اجتماعی مفادکے لیے کام کرتے ہیں۔ ملک میں اگلے سو سال تک تبدیلیی نہیں آئیگی، اگر ہم اپنی ترجیحات تبدیل نہ کریں، قومی مسائل کو چند دن کی بحث بنا کر بھولتے رہیں، مشہور شخصیات کی نجی زندگیوں میں دلچسپی کو اپنے اجتماعی مستقبل سے زیادہ اہمیت دیں اور ظلم کے خاتمے کے بجائے اس کی قطار مختصر کرنے کی درخواست کرتے رہیں تو تبدیلی کی امید محض نعرہ بن کر رہ جائے گی۔تبدیلی اور ترقی کی ابتدا کسی محل کے دروازے پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتی ہے۔ جب شہری یہ سمجھنے لگیں کہ ان کے مسائل صرف ان کے ذاتی مسائل نہیں، جب وہ معلومات اور افواہ میں فرق کرنا سیکھیں، جب وہ اختلاف کے باوجود مشترکہ مقصد کیلئے کھڑے ہوں اور جب وہ وقتی تماشے کے بجائے مستقل اصلاح کو ترجیح دیں، تب تبدیلی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ قومیں صرف اس لیے نہیں بدل جاتیں کہ ان کے حالات خراب ہیں؛ وہ اس وقت بدلتی ہیں جب وہ اپنے حالات بدلنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ جوتے مارنیوالے سپاہیوں کی تعداد بڑھانی ہے یا اس نظام کو بدلنے کی کوشش کرنی ہے جو ہمیں جوتے کھانے پر مجبور کرتا ہے؟ ہمیں قطار چھوٹی کرنے کی درخواست کرنی ہے یا یہ پوچھنا ہے کہ آخر یہ سزا کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے؟ اگر ہم تماشوں میں مگن رہے اور اپنی تکلیفوں کو مقدر سمجھ کر قبول کرتے رہے تو ملک کی ترقی کے خواب دیکھنے سے پہلے ہمیں اپنے قومی مزاج کا علاج کرنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف ظلم کرنیوالوں سے نہیں ہارتیں، کبھی کبھی وہ اپنی خاموشی اور بے حسی سے بھی شکست کھا جاتی ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں