بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.8°C
Wednesday, 21 October 2026 | پاکستان: 11 جمادی الاول 1448

خیبر پختونخوا میں ایمر جنسی کا نفاذ اور گورنر راج

Wednesday, 21 October, 2026

خیبر پختونخوامیں بالآخر گورنر راج کے ساتھ ایمر جنسی کا نفاذ ہو گیا ،اس مقام کا حصول پی ٹی آئی نے بڑی جدوجہد سے ممکن بنایا ۔یہی کام مخالفین کو کرنا پڑتا تو وہ یقینا ناکام ہو جاتے ۔ پی ٹی آئی کا کے پی کے میں اقتدار کا سورج جو 2013ء میں نواز شریف کے فیصلے سے طلوع ہوا تھا 11اکتوبر2026ء میں غروب ہو گیا ۔کے پی کے میں ایمر جنسی کے نفاذ نے جہاں ایک دفعہ پھر ملک کے سیاستدانوں کی قابلیت و اہلیت پر سوالات اٹھائے ہیں وہاں بہت سے نئے سوالات کو بھی جنم دیا ہے ۔معزز قارئین سوال یہ نہیں کہ ایسا کیسے ہوا ۔َ۔۔؟سوال تو یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟کیا وفاق کو اس انتہائی اقدام پر حالات کے جبر کے باعث مجبور ہونا پڑا ۔غورو فکر ہی ایسا عمل ہے جو جذباتی سطح سے بلند ہو کر دیکھنے کی دعوت دیتا ہے ۔ سیاستدانوں کے ذاتی مفادات ،ان کے قومی خزانے کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھرنے اور ان کی عناد و دشمنی میںہمیشہ غریب عوام ہی اپنے حقوق سے محروم ہوئے ہیں ۔جب سیاستدانوں کی غلط روش کے باعث ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں تو عوام میں بھی یہی تاثر پیدا ہو جاتا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔عوام سمجھتے ہیں کہ مادر پدر آزاد رائج الوقت کرپٹ سیاست کو آلودگی سے پاک و صاف کرنے اور سیاست کے منہ زور گھوڑے کو لگام دینا ضروری ہے ۔کے پی کے میں دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر ایمر جنسی اور گورنر راج کا نفاذ متوقع تھا ۔یہی وجہ ہے کہ عوام کیلئے ہمیشہ کی طرح ایمر جنسی حیرت کا سبب نہ بنی ۔جہاں تک ایمر جنسی کے نفاذ کا تعلق ہے تو نہ صرف پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک میں یہ کوئی انہونی بات نہیں رہی ۔جمہوریت کے دعوے دار ملک میں اندار گاندھی نے ایمر جنسی نافذ کی اور وہ کچھ کیا جس کی آمریت بھی روادارنہیں ہوتی ۔بنگلہ دیش میں جمہوریت جمہور کے زیر اثر توڑ پھوڑ پر اتری تو وہاں بھی فوج کے تعاون سے ایمر جنسی لگا کر دو سال کیلئے عبوری حکومت قائم کر دی گئی ۔وطن عزیز تو ایمر جنسی اور مارشل لاء کے حوالے سے ہمیشہ خود کفیل رہا ۔جب کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہ چلائی جا سکے ،فتنہ و فساد اور انتشار ہو تو ہنگامی حالات میں آرٹیکل 232کے تحت ایمر جنسی کا نفاذ کیا جا سکتا ہے ۔ان دفعات کا مقصد غیر معمولی حالات میں ریاستی نظام کو برقرار رکھنا ہے ،نہ کہ سیاسی اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کو ئی آسان راستہ فراہم کرنا ۔انتخابی مینڈیٹ محض اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی علامت ہوتا ہے ۔کے پی کے ،کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جس حکومت کو ووٹ کا اختیار دیا ،اس فیصلے کا احترام جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے تا ہم منتخب حکومت بھی اس مینڈیٹ کو عوام کے تحفظ اور فلاح و بہبود کی ذمہ داری سے الگ نہیں کر سکتی اور اگر وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کر رہی ہو اور غیر ضروری معاملات میں الجھی رہے تو اس کا محاسبہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے ۔وفاق کا حالیہ ایمر جنسی کا فیصلہ 1973ء کے آرٹیکل 234،232کے کے تحت صوبے میں امن قائم کرنے کیلئے لیا گیا ۔معاملہ سیاست کا نہیں سلامتی کا درپیش تھا ۔وفاقی حکومت کا مطالبہ تھا کہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا ہم رکاب ہو ۔صوبائی حکومت اس پر آمادہ نہ ہوئی ۔عسکریت پسندوں کے بارے میں عمران خان ہمیشہ سے نرم گوشہ رکھتے تھے ۔حالیہ لانگ مارچ کے دوران تحریک انصاف نے جن علاقوں کو گزر گاہ بنایا ،جمعیت علمائے اسلام سمیت کوئی جماعت یہ ہمت نہیں کر سکتی کہ ان علاقوں میں کوئی جلسہ ہی کرے ۔تحریک انصاف نے ماضی میں اس ہم آہنگی سے خوب فائدہ اٹھایا اور اسے انتخابی مہم میں کسی مزاہمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔اسی وجہ سے وہ دہشتگردی کے معاملے میں مرکز سے اختلاف پر مجبور تھی ۔ایمر جنسی اور گورنر راج کا سامنا اسے لانگ مارچ کے نتیجے میں کرنا پڑا جو اس نے اپنے بانی کو رہا کرانے کیلئے شروع کر رکھا تھا۔لانگ مارچ میں شامل صوبائی قائدین اور رہنما کبھی وفاقی دارالحکومت کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے اور کبھی اسلام آباد کو سومنات بنانے کا اعلان کرتے نظر آئے ۔ صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی تا ہم صوبائی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے وفاق پر عدم تعاون کے الزامات عائد کرتی رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کے پی کے میں دہشت گردی خطرناک صورت اختیار کر گئی ۔وفاق بار بار صوبائی حکومت پر زور دیتا رہا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں وفاق سے تعاون کرے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اس معاملے کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے جوڑتی رہی ۔ریاستی ادارے وفاق کو خبردار کر رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے نتیجے میں دہشت گرد وفاقی دارالحکومت میں داخل ہو کر غیر معمولی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں ۔ان حالات میں حکومت نے پی ٹی آئی کے ذمہ داران کو متعدد بار اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان دشمن قوتیں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں اور ان کا خصوصی ہدف اسلام آباد ہے ،شدید تحفظات کے باوجود حکومت اور اسکے اتحادیوں نے معاملات کے سیاسی حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا لیکن کوئی نتیجہ خیز پیش رفت نہ ہو سکی ۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار کے بعد اتفاق رائے کی صور ت پیدا ہوئی ۔طے پایا کہ احتجاجی تحریک ختم کی جائے گی اور پی ٹی آئی کے بعض مطالبات جن میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج معالجے کیلئے پیش رفت شامل تھی لیکن یہ اتفاق رائے بعض عناصر کو قبول نہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد ایسی شرائط سامنے آ گئیں جنہیں حکومت کیلئے تسلیم کرنا ممکن نہیں تھا ۔یہی ڈیڈ لاک ایمر جنسی اور گورنر راج کے آئینی آپشنز پر پیش رفت کا باعث بنا ۔معزز قارئین ہمیں سوچنا یہ ہے کہ ایمر جنسی لگوانے میں کس نے کیا کردار ادا کیا؟ سارا الزام حکومت پر عائد کرنا کسی طور پر درست عمل نہیں ۔دہشتگرد ٹارگٹ حملوں اور خود کش دھماکوں سے معصوم انسانیت کا بے دریغ قتل کر رہے تھے ،حتیٰ کہ پاک آرمی کو خصوصی نشانہ بنایا جا رہا تھا ۔دکھائی ایسا دیتا تھا کہ اگر حالات کو کنٹرول نہ کیا جا سکا تو ملکی سا لمیت خطرے سے دوچار ہو سکتی تھی ۔ضرورت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ افہام و تفہیم کی سازگار فضا پیدا کرنے کیلئے تعاون اور معاونت پیدا کی جاتی ،بیرونی خطرات پر نظر رکھی جاتی لیکن حالات کو خراب تر کرنے میں ہی اپنا حصہ ڈالا گیا ۔کے پی کے میں پی ٹی آئی روز اول سے ٹی ٹی پی کیلئے کھلے عام اپنی حمایت کا اعلان کرتی رہی ہے ۔ریاست پاکستان کیخلاف بر سرپیکار گروہ کو جہاں افغان طالبان اور انڈین حکومت کی آشیر باد حاصل ہے ،سہیل آفریدی ہو یا علی امین گنڈا پور یا محمد خان انہوں نے صوبے کے عوام کی بھلائی کیلئے رتی برابر کام نہیں کیا ۔ مرکزی حکومت سے ملنے والے اربوں روپے خرد برد کر لئے ہیں ۔پولیس اور سیکورٹی کے دیگر اداروں کو موثر اور مضبوط بنانے کی بجائے پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کیخلاف باتیں کر کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں ۔ صوبہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی ،بد امنی اور انتہا پسندی کے سنگین نتائج بھگت رہا ہے ۔ درجنوں نہیں سینکڑوں افراد شہید کئے جا چکے ہیں ۔پولیس سیکورٹی اداروں، سیاسی کارکنوں ، اساتذہ ،طلبہ اور عام شہریوں نے اس جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ۔ ایسی حالت میں ریاست کی ذمہ داری شہریوں کی جان ومال کا تحفظ ہے۔دہشتگردی کے اعدادو شمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں ۔ 2021ء کے آخری پانچ ماہ میں 262 واقعات سے شروع ہونیوالا سلسلہ 2022ء میں 1,037 ، 2023ء میں 1,403،2024ء میں 2,181 اور 2025ء میں 3,774 واقعات تک پہنچ گیا جبکہ 2026میں 23 ستمبر تک 2,875واقعات رپورٹ ہوئے ۔ بہرحال ریاست نے ایک مشکل فیصلہ لیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ نیا سیاسی نظام عوام کو کیا ڈیلیور کرتا ہے اور امن وامان بحال ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ اس کا تعلق خارج سے بھی ہے ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *