بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 36.8°C
Friday, 10 July 2026 | پاکستان: 25 محرم 1448
خامنہ ای کی وصیت اور مشہدکیتاریخی، سیاسی اور مذہبی اہمیت

خامنہ ای کی وصیت اور مشہدکی تاریخی، سیاسی اور مذہبی اہمیت

Friday, 10 July, 2026

اسلام آباد:آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کردی تھی کہ انھیں حضرت امام رضاؑ کے جوار میں دفن کیا جائے اور شہادت کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے بھی اسی خواہش کی تائید کی جس کے بعد حکومت نے تدفین کے لیے مشہد کا انتخاب کیا۔ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں حضرت امام رضاؑ کے روضہ مبارک کے قریب کیے جانے کا فیصلہ صرف ایک خاندانی خواہش یا وصیت نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری مذہبی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت بھی موجود ہے۔مشہد صدیوں سے اہلِ تشیع کے لیے دنیا کے مقدس ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال کروڑوں زائرین یہاں حاضری دینے آتے ہیں۔
مشہد وہ شہر ہے جہاں آٹھویں امام علی بن موسیٰ الرضا کا مزار ہے جو شیعیت میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور مشہد ان کی جائے شہادت کے باعث پوری دنیا میں زائرین کی توجہ کا مرکز بھی ہے۔حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام اہلِ تشیع کے آٹھویں امام ہیں۔ آپ 818ء (203 ہجری) میں خراسان میں شہید ہوئے اور موجودہ مشہد میں مدفون ہیں۔ان کی تدفین تو اس وقت کے غیر آباد بیابان میں کی گئی تھی لیکن ان کی قبر کے گرد ہی آہستہ آہستہ آبادی ہونا شروع ہوئی اور ایک عظیم الشان شہر وجود میں آگیا جسے آج دنیا بھر میں مشہدِ مقدس کے نام سے جانا جاتا ہے۔لفظ مشہد کا مطلب ہی شہادت کی جگہ یا جائے مدفنِ شہید ہے۔
شیعیت میں مکہ، مدینہ، نجف اور کربلا کے بعد مشہد کو مقدس ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایران، عراق، پاکستان، بھارت، افغانستان، لبنان، آذربائیجان، بحرین اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر سے لاکھوں زائرین سال بھر یہاں آتے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق سالانہ دو کروڑ سے زائد افراد حضرت امام رضاؑ کے روضے کی زیارت کرتے ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی زائرین کی ہوتی ہے۔

 

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *