ایک اہم پیشرفت کے طور پرپاکستان اور جوہری توانائی کی عالمی نگران تنظیم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے 1200 میگاواٹ کے چشمہ -5 نیو کلیئر پاور پلانٹ کیلئے سیف گارڈ کے معاہدے پر دستخط کئے۔اس اقدام کا مقصد ملک کی توانائی کی سلامتی کو تقویت دینا اور بین الاقوامی عدم پھیلا ئوکے معیارات کے مطابق پلانٹ کے شفاف آپریشن کو یقینی بنانا ہے۔یہ معاہدہ نئی تنصیب کیلئے حفاظتی نگرانی کے اقدامات کے نفاذ کی جانب ایک اہم قدم ہے اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے عزم اور عدم پھیلائو کی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کے حوالے سے پاکستان پر عالمی برادری کے مسلسل اعتماد کا عکاس ہے۔مفاد پرست عناصر کے زہریلے پروپیگنڈے کے باوجود،حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے شروع ہی سے ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیا ہے اور عالمی برادری کے عدم پھیلا ئوکے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ ملک نے جنوبی ایشیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنے کیلئے بارہا مختلف تجاویز پیش کر کے عدم پھیلا کے مقاصد سے اپنی وابستگی ثابت کی ہے۔وقتا فوقتا پیش کی جانے والی یہ تجاویز صرف بھارت کے عدم تعاون پر مبنی رویے کی وجہ سے عملی شکل اختیار نہ کر سکیں؛بھارت نے مسلسل جارحانہ جوہری ہتھیاروں کا پروگرام جاری رکھا،جس سے پاکستان کے لیے وجودی خطرات پیدا ہوئے اور اسے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے اقدامات کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت نے اپنے پہلے جوہری تجربے کیلئے درکار’فیسائل میٹریل’سائرس’ری ایکٹر سے حاصل ہونیوالے استعمال شدہ ایندھن سے کشید کردہ پلوٹونیم کے ذریعے تیار کیا تھا ۔ ‘سائرس’کینیڈا کا فراہم کردہ 40 میگاواٹ کا تحقیقی ری ایکٹر تھا جس میں امریکہ کی فراہم کردہ’ہیوی واٹراستعمال کی گئی تھی۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بھارت کے اس اشتعال انگیز اقدام کے جواب میں کینیڈا نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کیلئے ایندھن اور پرزوں کی فراہمی معطل کر کے بھارت کو ایک طرح سے’انعام’ دیا ؛ حالانکہ یہ پلانٹ جوہری توانائی ایجنسی کی حفاظتی نگرانی میں تھا اور اس حوالے سے کسی بھی انحراف یا خلاف ورزی کی کوئی رپورٹ موجود نہیں تھی ۔ اسی طرح پاکستان کا جوہری توانائی کا پروگرام بھی وسیع ہے اور تمام متعلقہ پلانٹس اور منصوبے متعلقہ حفاظتی نگرانی کے نظام کے تحت ہیں۔یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ پاکستان 1957 سے جوہری توانائی ایجنسی کا بانی رکن رہا ہے اور جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر مرکوز وسیع شراکت داری برقرار رکھے ہوئے ہے۔اس تعاون اور عدم پھیلا کے ہدف کیلئے پاکستان کے عزم کاجوہری توانائی ایجنسی اور اس کی قیادت کی جانب سے بارہا اعتراف کیا گیا ہے۔اس پہلو کو خاص طور پر فروری 2023 میںجوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی کے دورہ پاکستان کے دوران اجاگر کیا گیا ، جب انہوں نے ملک بھر میں متعدد جوہری تنصیبات کا دورہ کیا اور باہمی تعاون کے اس نظام پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے اعلیٰ پاکستانی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور وزیراعظم و وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیںجن میں ملک اور اس کے پڑوسیوں کے فائدے کیلئے نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال بالخصوص زراعت اور طب کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاقِ رائے ہوا۔مسٹر گروسی نے ‘پاکستان سینٹر آف ایکسیلنس ان نیوکلیئر سیکیورٹی کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ وہ اس سہولت کے اعلیٰ معیار سے متاثر ہوئے ہیں اور مزید تعاون کے خواہاں ہیں۔’چشمہ-5’ کیلئے سیف گارڈ معاہدہ جو 2028 میں متوقع آغاز کے بعد ملک کا سب سے بڑا نیوکلیئر پاور پلانٹ بن جائے گا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کیساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا ایک اور ثبوت ہے۔اس موقع پر ، اٹامک انرجی کمیشن کی قیادت،سائنسدانوں،انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی محنت اور لگن کو سراہنا ضروری ہے جو اپنے تمام نیوکلیئر پاور پلانٹس کو محفوظ اور کامیاب طریقے سے چلاتے ہیں ۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن شاید واحد ادارہ ہے جو قومی توانائی کے مجموعی امتزاج میں جوہری توانائی کا حصہ بڑھانے کے ہدف کے حصول میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ ہمارے انجینئروں، سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وہ جوہری ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے اور توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کا یہ تسلسل برقرار رکھ سکیں۔
دوستی کی سرحد
پاکستان اور چین کی سرحد محض دو پڑوسی ممالک کو الگ کرنے والی ایک جغرافیائی لکیر سے کہیں بڑھ کر ہے۔گزشتہ دہائیوں کے دوران،یہ دوستی،امن،باہمی اعتماد اور تعاون کی علامت بن چکی ہے ۔ پاکستان اور چین کی سرحد اس بات کی ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ کس طرح پڑوسی ممالک جغرافیے کو شراکت داری اور مشترکہ خوشحالی کے موقع میں بدل سکتے ہیں ۔ لہٰذا پاکستان – چین بانڈری جوائنٹ کمیشن کا فعال ہونا ایک خوش آئند اور اہم پیشرفت ہے ۔ اس کمیشن کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا،جس نے سرحدی انتظام،مشترکہ سروے، تجارتی بہا اور عوامی سطح پر رابطوں کے حوالے سے قریبی ہم آہنگی کیلئے ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کیا۔اس میکانزم کی بنیاد 2013 کے بائونڈری مینجمنٹ سسٹم معاہدیپر رکھی گئی تھی اور اس کا مقصد مشترکہ سرحد کی دیکھ بھال اور انتظام سے متعلق عملی امور کو حل کرنا ہے ۔ اس کی اہمیت محض انتظامی انتظامات تک محدود نہیں ہے۔تجارت کو وسعت دینے،لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور علاقائی رابطوں کو مضبوط کرنے کیلئے ایک منظم اور موثر طریقے سے کام کرنیوالی سرحد ناگزیر ہے ۔ خنجراب کراسنگ پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے اور چائناپاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت تجارت اور رابطوں کیلئے وسیع تر اہمیت رکھتی ہے ۔دونوں فریقین کے درمیان بہتر ہم آہنگی سرحد پار تجارت کو مزید ہموار بنانے،سامان اور لوگوں کی نقل و حرکت کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان اور چین کے تعلقات کی اصل طاقت ان کے عوام کے درمیان قائم روابط میں مضمر ہے ۔ لہٰذا تعلیمی، ثقافتی، سیاحتی اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینے کیلئے مسلسل کوششیں کی جانی چاہئیں ۔ پاکستان اور چین نے سیاسی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے اپنے عزم کا بارہا مظاہرہ کیا ہے۔بانڈری جوائنٹ کمیشن کا فعال ہونا اس جاری سفر میں ایک اور عملی قدم ہے ۔ باہمی اعتماد،باقاعدہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور امن و ترقی کیلئے مشترکہ عزم کے ساتھ دونوں ممالک اپنی سرحد کو مواقع کے راہداری میں تبدیل کرنے کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ دونوں ممالک اپنے عوام اور وسیع تر خطے کے فائدے کیلئے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دیتے ہوئے اور اپنی دیرینہ دوستی کو مضبوط بناتے ہوئے باہمی اشتراک کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔
صارفین کے تاثرات سے متعلق سروے
وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ صارفین کے تاثرات کے سروے کے انعقاد کیلئے طریقہ کار، معیار اور شیڈول کو حتمی شکل دیں اور اسے بغیر کسی مزید تاخیر کے شروع کریں۔ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ سروے کے معیار کو نیپرا کے مقرر کردہ پیرامیٹرز سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ صارفین کی آرا کو حقیقی اور بامقصد اہمیت دی جا سکے۔اس عمل سے تقسیم کارکمپنیوں کی کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے صارفین کے اطمینان کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی ، اور اس کے نتائج مستقبل کی پالیسی سازی کیلئے ایک قیمتی معاونت ثابت ہوں گے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سروے کی منظوری کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اس عمل کا آغاز بلا تاخیر ہو سکے ۔ یہ سروے لازمی طور پر ہر چھ ماہ بعد منعقد کیا جانا ہے،اور سالانہ شیڈول میں گرمیوں کے موسم کے دوران کم از کم ایک سروے کا شامل ہونا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سروے محض ایک انتظامی رسمی کارروائی نہیں بلکہ صارفین کی فلاح و بہبود اور خدمت کیلئے حکومت کے عزم کا عملی اظہار ہے،جس کا مقصد عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں