بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21°C
Saturday, 19 September 2026 | پاکستان: 8 ر بیع الثانی 1448

کون یہ بھیانک کھیل کھیل رہا ہے؟

Saturday, 19 September, 2026

(گزشتہ سے پیوستہ)
تیسرا اور سب سے مہلک ایکٹ: 2013-15 اور سی پیک پالیسی ۔ 2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو بجلی کا شارٹ فال 7000 میگاواٹ تک پہنچ چکا تھا۔ حل کے طور پر 2015 کی پالیسی لائی گئی، جسے ماہرین 1994 کی پالیسی کا نیا ایڈیشن کہتے ہیں۔اس بار درآمدی ایندھن کا انحصار فرنس آئل سے ہٹ کر درآمدی کوئلے اوردرآمدی گیس پر کر دیا گیا ۔ سب سے بڑی تبدیلی سی پیک کے تحت چینی آئی پی پیز کا اضافہ تھا۔آج کی تصویر یہ ہے: ملک کی کل نصب شدہ صلاحیت تقریبا 42,500 میگاواٹ ہے جس میں سے تقریبا 52 فیصد حکومت کی ہے 36 فیصد سی پیک کے چینی پلانٹس کی ہے اور صرف 15 فیصد ان پرانے نجی آئی پی پیز کی ہے۔ مگر کپیسٹی پیمنٹ کا عذاب سب پر ہے۔ 2020 کی ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 10 سال میں صرف 26 گیس اور فرنس آئل والے آئی پی پیز کو ایک کھرب روپے سے زیادہ کپیسٹی پیمنٹ دی گئی۔ 2024میں صرف ایک سال کی کپیسٹی پیمنٹ کا تخمینہ 2.1کھرب روپے لگایا گیا، جس میں سے صرف 3.4 فیصد 2002 والے پلانٹس کا اور 4.3 فیصد 1994 والے پلانٹس کا تھا، باقی بڑا حصہ 2015 کے بعد لگنے والے پلانٹس اور سرکاری پلانٹس کا ہے۔سی پیک آئی پی پیز میں بڑے نام یہ ہیں: ساہیوال کول پاور (1320 میگاواٹ) – ہوانینگ شانڈونگ پورٹ قاسم کول پاور (1320 میگاواٹ) – پاور چائنا حب کول پاور (1320 میگاواٹ) – حبکو اور چائنا پاور ہب تھر کول کے پلانٹس – اینگرو ، چائنا مشینری سولر کا جھٹکا اور گرڈ کی موت ۔ ادھر سولر نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ حکومت نے خود نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ افزائی کی۔ امیر آدمی نے سولر لگا لیا، اس کا بل کم ہو گیا۔ مگر گرڈ کا خرچہ وہی رہا، کیونکہ آئی پی پیز کو تو کپیسٹی پیمنٹ دینی ہی ہے۔ اب وہ خرچہ غریب صارفین کے بلوں میں لائن لاسز اور سرچارج کی شکل میں ڈالا جا رہا ہے۔ دن میں بجلی وافر، شام میں سسٹم فیل۔ ہمارا بوسیدہ گرڈ اس اتار چڑھا کو سنبھالنے کے قابل ہی نہیں۔اصل بل کس چیز کا ہے؟یہ بل صرف بجلی کا نہیں ہے۔ یہ ان معاہدوں کا بل ہے جو بند کمروں میں کیے گئے تھے۔ایک غریب آدمی اگر دو سو یونٹ سے اوپر چلا جائے تو اسے اس طرح سزا دی جاتی ہے جیسے اس نے کوئی جرم کیا ہو۔ اس کا ٹیرف یکدم 200 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ یہ کسی تہذیب یافتہ ملک میں نہیں ہوتا ۔ اصل المیہ یہ ہے کہ جب ریاست کا سارا زور صرف اقتدار بچانے اور قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پر لگ جائے تو عوام کی بنیادی ضروریات پیچھے رہ جاتی ہیں۔ فیکٹری مہنگی بجلی سے نہیں چلتی، فیکٹری نہیں چلے گی تو روزگار کہاں سے آئے گا؟ روزگار نہیں ہو گا تو گھر کیسے چلے گا۔عوام کمزور نہیں، تھکی ہوئی ہے۔ جب صبح سے شام تک ایک ہی فکر ہو کہ بل کیسے دینا ہے، بچوں کی فیس کیسے دینی ہے، تو احتجاج اور سوال کا حوصلہ دم توڑ دیتا ہے۔ اسی تھکاوٹ پر یہ سارا نظام کھڑا ہے۔اس کھیل کا انجام تاریخ میں ہمیشہ دو ہی ہوتا ہے۔ یا تو نظام اندر سے بیٹھ جاتا ہے، جب لوگ بل دینا چھوڑ دیں، جب ہر کوئی گرڈ سے کٹ جائے تو خزانہ خالی ہو جاتا ہے اور پھر وہی اصلاحات مجبوری میں کرنی پڑتی ہیں جو آج ہٹ دھرمی سے نہیں کی جا رہیں۔یا پھر ایک وقت آتا ہے جب بھوک اور بے عزتی کا احساس روٹی کی فکر سے بڑا ہو جاتا ہے۔اقتدار کی ہوس میں اندھے لوگوں کا یہ سفر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بل دینے والا ہر شخص یہ سمجھتا رہے گا کہ یہ مسئلہ صرف اس کا اپنا ہے جس دن یہ درد اجتماعی درد بن گیا، اسی دن یہ بھیانک کھیل ختم ہونا شروع ہو جائیگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *