دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو
پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوستی کو مضبوط اقتصادی، دفاعی اور تعلیمی شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں،سفیر
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو کا نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ، میٹ دی پریس پروگرام میں شرکت ،این پی سی لان میں پودا بھی لگایا، نیشنل پریس کلب آمد پر صدر این پی سی عبدالرزاق سیال ، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ اور فنانس سیکرٹری عابد عباسی سمیت سینئر صحافیوں نے معزز مہمان کا استقبال کیا، اس موقع پر صدر این پی سی عبدالرزاق سیال نے معزز مہمان کوخوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان گہرے اور قریبی روابط ہیں، دونوں ممالک کے مابین صحافت، تعلیم، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے،سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد صحافیوں کا ایک اہم نمائندہ ادارہ ہے، جو صحافتی برادری کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ آزادیٔ صحافت، ذمہ دارانہ صحافت اور بین الاقوامی سطح پر صحافتی روابط کے فروغ کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ رومانیہ کے سفیر کی نیشنل پریس کلب آمد دونوں ممالک کے صحافتی حلقوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے، میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئےرومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکونے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط دوستانہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور تعمیری تعاون کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے ان تعلقات کو ایک نئی جہت دی جا سکتی ہے۔اپنے افتتاحی کلمات میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ نے 15 اکتوبر 1964 کو سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے صنعتی ترقی، تکنیکی تعاون اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دیا۔ ماضی میں رومانیہ نے پاکستان کی صنعتی ترقی، خصوصاً تیل، سیمنٹ اور کھاد کی صنعتوں میں تکنیکی مہارت اور تعاون فراہم کیا، جبکہ اب قابلِ تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعتی جدت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نئے مشترکہ منصوبوں کے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک نے دوطرفہ روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ رومانیہ کی وزیر خارجہ اونا سلویہ تویو اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے درمیان 14 اپریل اور 15 جون 2026 کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاس ہے۔ ان رابطوں میں سفارت کاری، مکالمے، تنازعات کے پُرامن حل اور باہمی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ سیاسی مشاورت کا اگلا دور 2027 میں منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔رومانیہ کے سفیر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم اس وقت تقریباً 156 ملین امریکی ڈالر ہے، تاہم یہ دونوں معیشتوں کی حقیقی صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ یورپی یونین کے رکن اور وسطی و مشرقی یورپ کے اہم صنعتی و تجارتی مرکز کی حیثیت سے رومانیہ پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے یورپی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان کی صنعتی صلاحیت، کاروباری سرگرمیاں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مہارت رومانیہ کی کمپنیوں کے لیے پرکشش امکانات رکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مارچ 2026 میں پورٹ آف کانسٹانتا اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس سے سمندری روابط، تجارتی راستوں اور جنوبی ایشیا و یورپ کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی بنیاد فراہم ہوئی ہے۔ اسی طرح اکتوبر 2025 میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور بخارسٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان بھی مفاہمت کی یادداشت طے پائی۔ اکتوبر 2026 میں پاکستانی کاروباری وفد کے رومانیہ کے دورے اور بخارسٹ میں پاکستان۔رومانیہ بزنس فورم کے انعقاد سے بھی دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو قریب آنے اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے کا موقع ملا۔ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو نے دفاعی تعاون کو بھی دوطرفہ تعلقات کا اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی حکام کے درمیان روابط، پیشہ ورانہ تبادلوں، فوجی تعلیم اور تربیت میں تعاون بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رومانیہ کے شہر گالاٹی میں واقع ڈیمن شپ یارڈز میں پاکستان نیوی کے لیے چار آف شور پٹرول ویسلز تیار کیے گئے۔ مستقبل میں فوجی طب، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں اور مشترکہ تربیتی سرگرمیوں میں تعاون کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ رومانیہ پاکستان کے ساتھ دفاعی اور ادارہ جاتی روابط کو ٹھوس مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے باہمی اعتماد اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے رومانیہ میں روزگار اور تعلیم کے مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی دونوں معاشروں کے درمیان نئے روابط قائم کر رہی ہے۔ رومانیہ قانونی تقاضوں اور یورپی یونین کے معیارات کے مطابق منظم افرادی قوت کی نقل و حرکت کا خیرمقدم کرتا ہے اور پاکستانی ہنرمند پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔تعلیم، سائنسی تحقیق اور تکنیکی جدت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یورپی پروگرامز ایراسمس پلس اور ہورائزن یورپ کے ذریعے پاکستانی اور رومانیہ کی جامعات، تحقیقی مراکز اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار زراعت ایسے شعبے ہیں جن میں دونوں ممالک مشترکہ تحقیق اور منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 20 نومبر 2025 کو رومانیہ کے سفارت خانے نے پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) اور رومانیہ کی سافٹ ویئر انڈسٹری ایسوسی ایشن (ANIS) کے تعاون سے پہلا پاکستان۔رومانیہ آئی ٹی فورم آن لائن منعقد کیا، جس میں دونوں ممالک کی 100 سے زائد آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔ فورم میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور آئی ٹی سروسز میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان رابطوں کو مشترکہ منصوبوں، کاروباری معاہدوں اور طویل مدتی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔ثقافتی اور عوامی روابط کا ذکر کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ اپریل 2026 میں پاکستان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی تصویری نمائش نے دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ اور دوستی کو اجاگر کیا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں رومانیہ کی اوپیرا گلوکارہ جورجیانا کوستیا گلوگا کے زیرِ اہتمام اوپیرا گائیکی کے کورسز اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد میں رومانیہ کی زبان کے کورسز کی تیاری بھی ثقافتی تعاون کے اہم اقدامات ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 23 مارچ 2026 کو رومانیہ کے نیشنل چیمبر کوائر ’’میڈریگل۔مارین کانسٹنٹن‘‘ نے پاکستان کے قومی ترانے کی پہلی پیشہ ورانہ کورل پیشکش ریکارڈ کی، جس کی ہدایت کاری آنا اونگورینو نے کی۔ اس منصوبے کے تحت قومی ترانے کی 1949 کی آرکیسٹرل ترتیب کو انسانی آوازوں کے ذریعے پیش کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا اور اس کی کورل شیٹ میوزک بھی تیار کی گئی۔ اسی طرح 10 جون 2026 کو نیشنل لائبریری آف پاکستان اسلام آباد میں ’’رومانیہ بُک شیلف‘‘ کا افتتاح بھی دونوں ممالک کے علمی و ثقافتی تعاون میں اہم پیش رفت ہے۔رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ مستقبل میں تعلیم، سائنس، ثقافت، میڈیا، نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون کے پروگراموں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر کام جاری ہے۔ ان میں رومانیہ کے سفارتی ادارے اور پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی، ریڈیو رومانیہ اور ریڈیو پاکستان، نیز دونوں ممالک کی قومی لائبریریوں کے درمیان تعاون کی تجاویز شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں رومانیہ کے اعزازی قونصل خانے بھی دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پشاور میں اعزازی قونصل موجود ہے، کراچی میں اعزازی قونصل نامزد کیا گیا ہے، جبکہ لاہور میں نئے اعزازی قونصل کی منظوری کا انتظار ہے۔ ان دفاتر کے ذریعے علاقائی سطح پر تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رومانیہ پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کی تاریخی دوستی کو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سفارتی تعلقات دونوں ممالک کو ایک مضبوط، متحرک اور نتیجہ خیز شراکت داری کی جانب بڑھنے کے لیے تجربہ اور اعتماد فراہم کرتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی، امن اور استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں