بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 17.8°C
Wednesday, 14 October 2026 | پاکستان: 4 جمادی الاول 1448

سڑکیں، پل اور بھوکی عوام

Wednesday, 14 October, 2026

راولپنڈی / اسلام آباد میں ان دنوں ہر طرف ترقی کا شور ہے۔ کہیں نئی سڑک کا افتتاح ہو رہا ہے، کہیں پل کا سنگِ بنیاد رکھا جا رہا ہے، کہیں انڈر پاس اور کہیں میگا پراجیکٹ کے اربوں روپے کے بورڈ آویزاں ہیں۔ ٹی وی اسکرینوں پر اشتہارات چل رہے ہیں کہ شہر بدل رہا ہے، ملک ترقی کر رہا ہے۔ مگر ذرا ان سڑکوں سے اتر کر اس گلی میں جائیے جہاں عام آدمی رہتا ہے، تو پتہ چلتا ہے کہ ترقی کی یہ چمک دمک اس کی زندگی تک پہنچی ہی نہیں۔آج جڑواں شہروں کا عام شہری ایک نہیں، کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔ سب سے بڑا محاذ مہنگائی کا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دال، سبزی، دودھ، ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ جو گھر مہینے بھر کا راشن 20 ہزار میں چلاتا تھا، آج 50 ہزار میں بھی پورا نہیں کر پا رہا۔ متوسط طبقہ قرضوں پر گزارہ کر رہا ہے اور غریب فاقوں پر۔دوسرا محاذ بے روزگاری کا ہے۔ ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوجوان دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں۔ راولپنڈی کے چوکوں میں صبح سویرے مزدور، مستری، دیہاڑی دار کھڑے ہوتے ہیں کہ شاید آج کسی کو ان کی ضرورت پڑ جائے۔ کئی دن خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑتا ہے۔ پرائیویٹ نوکریوں سے لوگ نکالے جا رہے ہیں، اور سرکاری نوکری کا حصول خواب بن چکا ہے۔تیسرا محاذ توانائی کا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت نے غریب کی کمر توڑ دی ہے۔ موٹر سائیکل والا سوچتا ہے کہ آج کام پر جائے یا پیٹرول بچائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے دوگنے ہو چکے ہیں۔ بجلی کا بل آتا ہے تو گھر میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ 300 یونٹ استعمال کرنے والا 30 ہزار بل کیسے دے؟ اوپر سے بجلی کی آنکھ مچولی، لوڈشیڈنگ نے گرمی میں جینا محال کر دیا ہے۔ گیس سردیوں میں غائب اور گرمیوں میں پریشر سے محروم۔ گھروں میں کھانا لکڑیوں پر پکانے کی نوبت آ گئی ہے۔چوتھا اور سب سے خطرناک محاذ بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی نے معاشرے میں چوری، ڈکیتی، فراڈ اور جرائم کو جنم دیا ہے۔ شہری خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد جو ملک کا دارالحکومت ہے، وہ احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ، کنٹینر اور سڑکوں کی بندش کا مرکز بن چکا ہے۔ روز ایک نئی کال، روز ایک نیا احتجاج۔ سڑکیں بند، انٹرنیٹ بند، کاروبار بند۔ نقصان کس کا؟ اسی مزدور کا، اسی ریڑھی والے کا، اسی طالب علم اور چھوٹے دکاندار کا۔اب آئیے اس سوال پر کہ کیا سڑک، پل اور انڈر پاس بنا دینا ہی قومی ترقی ہے؟یقینا انفراسٹرکچر ضروری ہے، اس سے انکار نہیں۔ مگر ترقی کا فلسفہ صرف کنکریٹ اور سریے سے نہیں بنتا۔ اگر ایک ارب روپے کا پل بن جائے اور اس پل کے نیچے بسنے والے ہزاروں خاندانوں کے بچے بھوکے سو رہے ہوں تو یہ ترقی نہیں، مذاق ہے۔سڑک اس کیلئے ہے جسکے پاس گاڑی ہے، موٹر سائیکل ہے۔ پل اس کیلئے ہے جو دفتر وقت پر پہنچنا چاہتا ہے۔ انڈر پاس اس کے لیے ہے جو ٹریفک سے بچنا چاہتا ہے۔ مگر اس شخص کا کیا جس کے پاس کھانے کو روٹی نہیں، بچے کو دینے کے لیے فیس نہیں، ماں کے علاج کے لیے دوائی کے پیسے نہیں؟ اس کے لیے یہ سڑک نہیں، صرف ایک تماشہ ہے۔ یہ اشرافیہ کی سہولت ہے، عوام کی ضرورت نہیں۔اشرافیہ کو صاف، کشادہ اور سگنل فری سڑکیں چاہئیں تاکہ ان کی بڑی گاڑیاں رکے بغیر گزر جائیں۔ انہیں خوبصورت انڈر پاسز چاہئیں تاکہ شہر کی تصویر اچھی لگے۔ مگر عام آدمی کو کیا چاہیے؟ اسے سستی روٹی، سستی بجلی، سستا پیٹرول، باعزت روزگار، بچوں کے لیے مفت تعلیم اور گھر میں بیمار کے لیے سستا علاج چاہیے۔حقی ترقی یہ ہے کہ مزدور کی دیہاڑی بڑھے، نوجوان کو ہنر اور روزگار ملے، کسان کو فصل کا پورا دام ملے، بجلی اور گیس سستی ہو، لوڈشیڈنگ ختم ہو، پیٹرول عام آدمی کی پہنچ میں ہو۔ حقیقی ترقی یہ ہے کہ شہری رات کو سکون سے سو سکے، اسے ڈر نہ ہو کہ صبح اس کی نوکری رہے گی یا نہیں۔حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ قومیں سڑکوں سے نہیں، خوشحال گھروں سے بنتی ہیں۔ اگر گھر میں فاقہ ہے تو باہر کی چمکتی سڑک کسی کام کی نہیں۔ اگر نوجوان بے روزگار ہے تو میگا پراجیکٹ کا بورڈ اس کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نمائشی ترقی کے بجائے انسانی ترقی پر سرمایہ لگایا جائے۔ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے، بے روزگاری کے لیے انڈسٹری اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دیا جائے، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دیا جائے، لوڈشیڈنگ کا مستقل خاتمہ کیا جائے، سیاسی عدم استحکام کو مذاکرات اور برداشت سے ختم کیا جائے اور بدامنی پر قابو پایا جائے۔ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ ترقی جس میں عوام شامل نہ ہو، وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ سڑکیں رہ جاتی ہیں، پل کھڑے رہتے ہیں، مگر بھوکے عوام جب سڑکوں پر نکلتے ہیں تو بڑے بڑے تخت گرجاتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *