کالم

عالمی تنہائی اور اندرونی انتشار ۔۔۔!

نریندر مودی جب 2014میں پہلی مرتبہ بھارت کے وزیرِ اعظم بنے تو ان کے حامیوں نے انہیں ایک نیا "ہندوستانی خواب” دینے والا رہنما قرار دیا۔ مودی کا نعرہ تھا: "سب کا ساتھ، سب کا وکاس” یعنی سب کے ساتھ ترقی۔ ان کی انتخابی مہم میں کرشماتی تقریریں، معاشی خوشحالی کے وعدے اور عالمی سطح پر بھارت کو ایک "ابھرتی ہوئی طاقت” کے طور پر پیش کرنے کی باتیں شامل تھیں۔ ابتدائی چند سالوں میں بظاہر بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کچھ بہتر ہوئی، سرمایہ کاری بڑھی اور مودی نے مختلف ملکوں کے ساتھ تجارتی اور دفاعی معاہدے کیے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ان کے فیصلے اور بیانات ایک ایسے راستے پر چل پڑے جس نے نہ صرف بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ اندرونی طور پر بھی ملک کو تقسیم، عدم برداشت اور عدم تحفظ کی طرف دھکیل دیا۔مودی کی حکومت نے ابتدا میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی مگر کچھ سالوں بعد صورتحال بدل گئی۔ٹرمپ دور میں بھارت اور امریکہ نے دفاعی معاہدے کیے مگر تجارتی پالیسیوں پر اختلافات پیدا ہوئے۔ 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف لگا دیا جس کے جواب میں بھارت نے بھی امریکی درآمدات پر سختیاں کیں۔ مودی کا جھکا روس کی طرف بڑھ گیا، خاص طور پر توانائی اور دفاعی سودوں میں، جس سے امریکہ میں ناراضگی پیدا ہوئی۔ بھارت امریکہ تعلقات میں پیدا ہونے والی اس دراڑ نے بھارت کی مغربی دنیا میں وہ پوزیشن کمزور کر دی جو گذشتہ دہائی میں بڑی محنت سے بنی تھی۔کینیڈا میں ایک سکھ رہنما کے قتل پر بھارت پر براہِ راست الزام لگایا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات تقریبا منقطع ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ یورپی یونین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خاص طور پر کشمیر اور اقلیتوں کے حوالے سے بھارت پر شدید تنقید ہوئی۔پاکستان کے ساتھ تعلقات تو پہلے ہی کشیدہ تھے مگر نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات میں سرد مہری پیدا ہوئی۔ چین کے ساتھ لداخ سرحدی تنازع نے بھارت کی فوجی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ کیا ۔ مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کی سیاست میں ہندو قوم پرستی ایک اہم عنصر ہے۔ اس سوچ کے اثرات بھارت کے آئینی سیکولر ڈھانچے پر براہِ راست پڑے۔
مودی حکومت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی، اس فیصلے کے بعد وہاں کرفیو، مواصلاتی پابندیاں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں نے بھارت کے جمہوری تشخص پر سوالیہ نشان لگا دیا۔انڈیا میں سی اے اے قانون کے تحت مسلمان پناہ گزینوں کو شہریت کے عمل سے خارج کر دیا گیا،اس اقدام نے ملک بھر میں شدید احتجاج کو جنم دیا اور کئی شہروں میں فسادات ہوئے۔ انڈیا میں مذہبی تشدد اور لِنچنگ واقعات بھی رونما ہوئے ۔گائے کے گوشت کے مسئلے پر مسلمانوں کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ عیسائی اور دلت برادری بھی حملوں کا شکار ہوئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر بارہا تشویش کا اظہار کیا مگر مودی حکومت نے اکثر خاموشی اختیار کی۔ اس سے معاشرتی انتشار اور شہری بیچینی پیدا ہوگئی۔مودی کے دور میں میڈیا کی آزادی محدود ہوئی، تنقیدی صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا اور اختلافِ رائے کو "ملک دشمنی” کے مترادف قرار دینے کا رجحان بڑھا۔مودی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے بڑے میڈیا ہاسز پر دبا ڈال کر بی جے پی کے حق میں بیانیہ مضبوط کیا اور تنقیدی آوازوں کو دبا دیا۔”گوڈی میڈیا”کی اصطلاح بھارت میں عام ہو گئی ہے، جو حکومت نواز چینلز کیلئے استعمال ہوتی ہے ۔ مودی دور میں عوام میں خوف اور عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئے۔اقلیتوں کے ساتھ ساتھ لبرل ہندو طبقہ بھی یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ ملک میں آزادانہ اظہار اور اختلاف کی گنجائش کم ہو گئی ہے۔مودی نے ابتدا میں معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے بڑے وعدے کیے مگر کچھ فیصلے معیشت پر منفی اثر ڈال گئے۔2016 میں اچانک بڑے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا گیا، جس سے غیر منظم معیشت کو شدید نقصان پہنچا ۔ جی ایس ٹی نظام نافذ کیا،اگرچہ اس کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان بنانا تھا مگر اس کے پیچیدہ قوانین نے چھوٹے کاروباری طبقے کو مشکل میں ڈال دیا۔بے روزگاری اور مہنگائی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح پچھلی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا۔مودی کی حکومت نے بھارت کو عالمی سطح پر ایک جارح اور غیر لچکدار ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔ داخلی طور پر اقلیتوں اور مخالف طبقات میں خوف کی فضا نے ملک کے اتحاد کو کمزور کیا ہے ۔سفارتی محاذ پر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں دراڑ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑھتی کشیدگی، بھارت کے مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔اگر بھارت کو دوبارہ ایک مضبوط اور باعزت مقام حاصل کرنا ہے تو اسے سیکولر آئین، جمہوری اداروں اور عالمی سفارت کاری میں لچکدار اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پالیسی کی طرف لوٹنا ہوگا۔
قارئین کرام! یہ بات ایک تلخ حقیقت کے طور پر تسلیم کرنی چاہیے کہ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور عالمی مقام کا انحصار امن، استحکام اور داخلی ہم آہنگی پر ہوتا ہے۔جب کوئی سیاسی رہنما اپنی مقبولیت بڑھانے، ووٹ بینک مضبوط کرنے یا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے جنگی ماحول پیدا کرتا ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود اس ملک کو ہی ہوتا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت کے بعض اقدامات اور بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ اپنی سیاست کی دکان چمکانے کیلئے بھارت کو عسکری تنازعات اور سرحدی کشیدگی کی طرف دھکیلنے سے گریز نہیں کرتے ۔ یہ رجحان نہ صرف بھارت کے معاشی وسائل کو برباد کرتا ہے بلکہ خطے میں امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ جنگی مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال سرمایہ کاری، تجارت اور عوامی فلاحی منصوبوں پر منفی اثر ڈالتی ہے اور ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک ایسا ملک تنقید کی زد میں آتا ہے جو جارحانہ پالیسیوں کو اپنا کر ہمسایوں کے ساتھ تعلقات خراب کرتا ہے ۔ دوسری جانب انڈیا کے اندر مختلف مذہبی، لسانی اور نسلی گروہوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور تقسیم کی سیاست کرنا کسی بھی صورت میں ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ ایک مضبوط اور متحد بھارت تبھی ممکن ہے جب وہاں کے شہری، چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان، سکھ ہوں یا عیسائی، سب اپنے آپ کو برابر کا شہری سمجھیں ۔ جب حکومت اپنی پالیسیوں اور بیانات سے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بناتی ہے یا دوسرے کو مراعات دیتی ہے تو معاشرے میں بدگمانی، نفرت اور بے اعتمادی جنم لیتی ہے۔ یہ خلیج وقت کے ساتھ گہری ہوتی جاتی ہے اور ملک کے اندرونی ڈھانچے کو کمزور کر دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اندرونی خلفشار اور سماجی تقسیم نے بڑے بڑے ممالک کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ اگر مودی حکومت اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے اور محض ووٹوں کی سیاست کیلئے اس تقسیم کو ہوا دیتی ہے تو یہ بھارت کے مستقبل کیلئے نہایت خطرناک ہوگا۔ایک ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی تنازعات اور بداعتمادی کی فضا موجود ہے، وہاں مزید کشیدگی پیدا کرنے کی بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے