بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.6°C
Tuesday, 25 August 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الاول 1448

غیر مساوی تعلیمی نظام کیساتھ مستقبل نہیں بن سکتا

Tuesday, 25 August, 2026

ہے۔اسکے برعکس پاکستان کم شرح خواندگی، ناقص تعلیمی نتائج اور اسکولوں سے باہر بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے مسئلے سے دوچار ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور یونیسکو کے اندازوں کے مطابق تقریبا 2 کروڑ 50 لاکھ بچے، جن کی عمریں 5 سے 16 سال کے درمیان ہیں، اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ اعداد محض اعداد و شمار نہیں بلکہ لاکھوں ضائع ہوتے ہوئے بچپن ہیں۔ پانچ سے نو سال کی عمر کے وہ بچے جو پرائمری سطح پر بنیادی خواندگی اور حساب سیکھنے کے مرحلے میں ہونے چاہئیں، اسکولوں سے باہر ہیں۔ تقریبا 10 سے 12 سال کے بچے، جو مڈل اسکول کی تعلیم حاصل کر رہے ہونے چاہئیں، بھی بڑی تعداد میں تعلیم چھوڑ رہے ہیں، جبکہ 13 سے 16 سال کی عمر کے بہت سے بچے ثانوی تعلیم تک پہنچ ہی نہیں پاتے یا اسے مکمل نہیں کر پاتے۔
بحران اعلی سطح پر مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس کے مطابق پرائمری سطح پر تقریبا 35 فیصد، لوئر سیکنڈری سطح پر تقریبا 28 فیصد اور اپر سیکنڈری سطح پر تقریبا نصف بچے اسکول سے باہر ہیں۔ گویا بچہ جوں جوں تعلیمی نظام میں آگے بڑھتا ہے، اس کے اسکول سے باہر ہونے کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔ جو ملک اپنے بچوں کو ثانوی تعلیم تک برقرار نہیں رکھ سکتا، وہ مستقبل میں مطلوبہ تعداد میں سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر، اساتذہ، منتظمین، کاروباری افراد اور باشعور جمہوری شہری پیدا نہیں کر سکتا۔اس ناکامی کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے متعدد تعلیمی پالیسیاں بنائیں، اسکول تعمیر کیے اور مختلف پروگرام شروع کیے، لیکن بحران برقرار ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب کو یکساں طور پر رسائی اور معیاری تعلیم کے مسائل کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت بھی ایک قومی تعلیمی ایمرجنسی کے لیے مطلوبہ حکمت عملی اور مثر رابطہ کاری فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تعلیم سیاسی فوائد دیر سے فراہم کرتی ہے۔ سڑکیں، پل اور دیگر نمایاں منصوبے فوری سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن جاتے ہیں، جبکہ ایک تعلیم یافتہ بچہ کئی دہائیوں بعد ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ مختصر انتخابی ادوار طویل مدتی تعلیمی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان آج تک اس سوال پر قومی اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکا کہ ہمارا تعلیمی نظام کس قسم کا شہری پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ انتشار قومی یکجہتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ دینی مدارس ہمارے معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بہت سے مدارس مفید دینی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ تاہم جہاں مذہبی تعلیم جدید سائنس، سماجی علوم، ٹیکنالوجی اور تنقیدی فکر سے الگ ہو جائے، وہاں طلبہ عصری علم سے دور ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدارس بذاتِ خود انتہاپسندی کے ذمہ دار ہیں؛ اصل مسئلہ متوازن اور جدید تعلیم کی عدم موجودگی ہے، جو بعض حالات میں فرقہ واریت، عدم برداشت اور فکری تنہائی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان کو اس لیے اپنے تعلیمی ڈھانچے کی بنیادی ازسرنو تشکیل کی ضرورت ہے۔ طویل المدت مقصد ایک ایسا قومی تعلیمی نظام ہونا چاہیے جو یکساں معیار، مساوی مواقع اور مشترکہ شہری بنیاد پر قائم ہو۔ قومی سطح پر تعلیمی معیار مقرر کرنے کا مطلب لازما ہر نجی ادارے کو سرکاری تحویل میں لینا نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کو نصاب، اساتذہ کی تربیت و تصدیق، رسائی، امتحانات اور احتساب کے یکساں معیارات مقرر کرکے تمام تعلیمی اداروں، بشمول مدارس، کو ایک مربوط ضابطے کے تحت لانا چاہیے۔ یونیورسٹیوں کو بھی اپنے ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ تعلیمی نفسیات، تدریس کے جدید طریقوں، ڈیجیٹل لرننگ، تنقیدی فکر، کلاس روم مینجمنٹ، خصوصی و جامع تعلیم اور مضمون پر عبور کو استاد کی تربیت کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
تدریس کو ایک باوقار اور مالی اعتبار سے پرکشش پیشہ بنانا ہوگا۔ اساتذہ کو بہتر تنخواہیں دینا محض ان کی فلاح نہیں بلکہ پاکستان کی آئندہ نسل میں سرمایہ کاری ہے۔پاکستان کا نصاب بھی بنیادی نظرثانی کا متقاضی ہے۔ موجودہ نظام میں رٹنے اور امتحان پر ضرورت سے زیادہ زور ہے۔ بچوں کو سوال پوچھنے، شواہد کی بنیاد پر تحقیق کرنے، مسائل حل کرنے، خیالات پیش کرنے اور آزادانہ سوچنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانا ضروری ہے، لیکن سماجی علوم، تاریخ، فلسفہ، ادب، شہریات اور اخلاقیات بھی ایک جمہوری معاشرے کے لیے اتنی ہی اہم ہیں۔ ایک اور بڑا مسئلہ ٹیوشن مافیا ہے۔ پاکستان میں امتحانات کے گرد ایک ایسی معیشت پیدا ہو چکی ہے جس میں والدین کو اسکول کی کمزوریوں کا ازالہ کرنے کے لیے نجی اکیڈمیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر داخلہ امتحانات ایک منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں۔ دور دراز علاقوں کا ایک ذہین طالب علم، جو مہنگی کوچنگ برداشت نہیں کر سکتا، اس طالب علم کے مقابلے میں شدید نقصان میں ہوتا ہے جسے مہینوں خصوصی تیاری کرائی جاتی ہے۔یہی مسئلہ CSS اور دیگر مسابقتی امتحانات میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جب کوچنگ کامیابی کی شرط بن جائے تو مسابقتی امتحان حقیقی معنوں میں مسابقتی نہیں رہتا بلکہ مالی استطاعت کا امتحان بن جاتا ہے۔ داخلہ اور مسابقتی امتحانات میں رٹنے کے بجائے فہم، تجزیاتی صلاحیت اور تخلیقی فکر کو جانچنا چاہیے۔پاکستان کو ایک تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے، محض ایک اور تعلیمی نعرے کی نہیں۔ حکومت کو تعلیم میں سرمایہ کاری نمایاں طور پر بڑھانا، اعلی ثانوی سطح تک تعلیم مفت کرنا، قومی تعلیمی معیارات قائم کرنا، نصاب کو جدید بنانا، اساتذہ کی سرٹیفکیشن اور بہتر تنخواہوں کو یقینی بنانا ہوگا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ سماجی علوم پر بھی مساوی توجہ دینا ہوگی تاکہ پاکستان ایک مضبوط تکنیکی صلاحیت کے ساتھ صحت مند سماجی ڈھانچہ بھی تشکیل دے سکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *