بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.6°C
Wednesday, 02 September 2026 | پاکستان: 21 ر بیع الاول 1448

معاہد مکہ، پاکستان کا کردار اور ایک نیا مشرقِ وسطیٰ

Wednesday, 2 September, 2026

مشرقِ وسطیٰ ایک اہم تذویراتی موڑ کے قریب پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی اب خطے کی تنازعات سے بھری طویل تاریخ کا محض ایک اور واقعہ نہیں رہی۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے سلامتی کے ڈھانچے پر ایک مقابلے کی شکل اختیار کر رہی ہے اور معاہد مکہ کا ظہور اس کی سب سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے فوجی استقامت، تذویراتی باز ڈیٹرنس اور سفارتی چالوں کے امتزاج سے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کو فضائی طاقت، بحری قوت، انٹیلی جنس، رسد اور عالمی سطح پر فوجی طاقت کے استعمال میں بدستور فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ تاہم فوجی برتری خودبخود سیاسی غلبے میں تبدیل نہیں ہوئی۔ تہران نے یہ صلاحیت ظاہر کی ہے کہ وہ مسلسل دبا برداشت کرتے ہوئے واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے تزویراتی اندازوں کو چیلنج کر سکتا ہے۔یہ بدلتا ہوا توازن خلیجی ریاستوں کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کئی دہائیوں سے ان کا سلامتی کا ڈھانچہ بڑی حد تک امریکی فوجی تحفظ پر قائم رہا ہے۔ لیکن علاقائی تنازعات میں شدت نے بعض خلیجی دارالحکومتوں کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا کسی بیرونی طاقت پر انحصار طویل مدت میں کافی سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے یا نہیں۔معاہد مکہ اسی ازسرِنو جائزے کے نتیجے میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر یہ ایک قابلِ اعتماد علاقائی سلامتی کے نظام کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ بیرونی غلبے والے سلامتی کے نظام سے ایسے نظام کی جانب منتقلی کا اشارہ دے سکتا ہے جو بڑھتے ہوئے علاقائی تعاون اور اجتماعی باز ڈیٹرنس پر مبنی ہو۔ ایران کی جانب سے ایسے انتظام میں شامل ہونے کی مبینہ دلچسپی خاص طور پر اہم ہوگی۔ ایران اور خلیجی ریاستوں کو ایک مشترکہ سلامتی کے فریم ورک میں لانا خطے کے تزویراتی نقشے کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔تاہم مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آیا ایران امریکہ کو فوجی طور پر شکست دے سکتا ہے۔ روایتی پیمانوں کے مطابق ایسا ممکن نہیں۔ واشنگٹن کے پاس بہتر ٹیکنالوجی، فضائی طاقت، بحری صلاحیتیں، انٹیلی جنس اور عالمی فوجی رسائی موجود ہے۔ ایران کی طاقت کہیں اور ہے: جغرافیائی گہرائی، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں، تزویراتی شراکت داریاں، سیاسی استقامت اور تکنیکی طور پر برتر حریف پر اخراجات مسلط کرنے کی صلاحیت۔یہ فرق نہایت اہم ہے۔ جدید تنازعات کا فیصلہ شاذونادر ہی صرف میدانِ جنگ کے اعداد و شمار سے ہوتا ہے۔ تذویراتی فتح کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مخالف کو اس کے سیاسی مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا جائے ۔ اس نقط نظر سے ایران کی مزاحمت علاقائی توازن کا ایک اہم جزو بن چکی ہے ۔ آبنائے ہرمز بدستور دبا کا سب سے خطرناک مرکز ہے۔ عالمی توانائی کی رسد کا ایک بڑا حصہ اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ کسی بھی طویل تعطل کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر سکتی ہیں، جہاز رانی اور بیمے کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لہذا خلیج میں ہونے والے واقعات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے۔اسرائیل صورتِ حال میں پیچیدگی کی ایک اور تہہ شامل کرتا ہے۔ اسرائیل ایران کے میزائل پروگرام اور جوہری عزائم کو بڑے سلامتی کے خطرات سمجھتا ہے، جبکہ تہران اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ تصور کرتا ہے۔ چنانچہ یہ محاذ آرائی غزہ، لبنان، شام، عراق اور دیگر علاقوں کے تنازعات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔جوہری مسئلہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ایران بالآخر جوہری حد عبور کر لیتا ہے تو علاقائی توازن ڈرامائی طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ جوہری باز ڈیٹرنس کے حامیوں کا مقف ہوگا کہ ایسی صلاحیت بیرونی فوجی مداخلت کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ مخالفین خبردار کریں گے کہ اس سے دیگر ریاستوں کے شامل ہونے کے ساتھ علاقائی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی صورتِ حال بین الاقوامی جوہری عدم پھیلا کے نظام پر بے پناہ دبا ڈالے ۔پاکستان ایک منفرد سفارتی مقام رکھتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ ملکر مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں قابلِ ذکر سفارتی اعتبار رکھتے ہیں اور مکالمے، خودمختاری اور اجتماعی سلامتی پر مبنی علاقائی فریم ورک کی حمایت کر سکتے ہیں ۔ چین اور روس بھی ابھرتے ہوئے نظام پر اثر انداز ہوں گے۔ بیجنگ کے خلیج میں توانائی اور اقتصادی مفادات نمایاں ہیں، جبکہ ماسکو اپنی سفارتی اور تذویراتی اثر پذیری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم دونوں کے پاس اس بات کی مضبوط وجوہ موجود ہیں کہ وہ تنازع کو ایک وسیع تر بین الاقوامی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکیں۔انسانی نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومتوں کے تذویراتی حساب کتاب کچھ بھی ہوں، آخرکار سب سے بڑی قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ بے گھر ہونا، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، معاشی مشکلات اور صحت کی سہولیات و ضروری خدمات میں خلل ایسے نتائج پیدا کر سکتے ہیں جو نسلوں تک برقرار رہیں۔اس جنگ سے بین الاقوامی دفاعی صنعت کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ میزائل دفاعی نظام، طیاروں، ڈرونز، بحری پلیٹ فارمز اور نگرانی کی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب نے علاقائی عدم تحفظ کو ایک بڑی تجارتی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس سے ایک پریشان کن سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کوئی تنازع ان لوگوں کیلئے معاشی طور پر پرکشش بن سکتا ہے جو مسلسل عسکریت پسندی سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی کے مسئلے کا جواب بالآخر ہتھیاروں کے نہ ختم ہونیوالے ذخیرے میں نہیں مل سکتا۔ فوجی باز ڈیٹرنس جنگ کو روک سکتی ہے، لیکن وہ اکیلے امن قائم نہیں کر سکتی۔معاہد مکہ اگر ایک قابلِ اعتماد اور جامع علاقائی سلامتی کے انتظام میں تبدیل ہو جاتا ہے تو یہ پرانے سلامتی کے نمونے پر ازسرِنو غور کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ ایران کی ممکنہ شمولیت، خلیجی ریاستوں کے بدلتے ہوئے تذویراتی اندازے اور پاکستان و ترکیہ کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار ایک نئے علاقائی نظام کے آغاز کی علامت بن سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کو ایسے ایک اور چکر کی ضرورت نہیں جس میں ہر فوجی فتح ایک اور جنگ کے حالات پیدا کرے۔اسے ایسے سلامتی کے ڈھانچے کی ضرورت ہے جس میں علاقائی طاقتیں یہ تسلیم کریں کہ مستقل محاذ آرائی بالآخر سمجھوتے سے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ جنگیں میزائلوں، ڈرونز اور طیاروں سے لڑی جا سکتی ہیں لیکن ان کا فیصلہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس کے رہنما میدانِ جنگ کا انتخاب کرتے ہیں یا مذاکرات کی میز کا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *