بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 08 October 2026 | پاکستان: 28 ر بیع الثانی 1448

مقبوضہ جموںوکشمیر میں صحافت کو شدید ریاستی جبر کا سامنا

Thursday, 8 October, 2026

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ علاقے میں زمینی حقائق کو بے نقاب کرنے کی پاداش میں صحافت کو شدید ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ بی جے پی حکومت علاقے میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ، اس نے علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ جو کوئی علاقے میں بھارتی جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے ، اسے ”پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے” جیسے کالے قوانین کے تحت فوراً سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتاہے۔ بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد علاقے میں ایک نئی میڈیا پالیسی نافذ کر دی ، اس پالیسی کے تحت صحافیوں کووہی مواد شائع یانشر کرنے کا پابند بنا دیا گیا ہے جسے علاقے کا محکمہ اطلاعات پیشگی منظور ی دی جا چکا ہو۔علاقے میں مقامی پریس سخت کنٹرول، خوف اور دھمکیوں کے سائے میں کام کر رہا ہے۔ حریت کانفرنس کے بیانات کو بھی روزنامہ اخبارات میں شائع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔حکام رپورٹروں کو تھانوںمیں طلب کرتے ہیں، ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں اور انہیں ایسے حلف ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن میں انسانی حقوق کے مسائل پر رپورٹنگ نہ کرنے یا حکام کے خلاف تنقیدی خبریں شائع نہ کرنے کا وعدہ لیا جاتا ہے۔ فوجی کارروائیوں یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں حقائق پر مبنی رپورٹیں شائع کرنا اب علاقے میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ بھارتی ایجنسیاں پہلے ہی مقامی لوگوں اور نامہ نگاروں کا ذاتی ڈیٹا، موبائل ڈیوائس کی تفصیلات اور مذہبی و خاندانی پس منظر اکٹھا کر چکی ہیں۔ حکام نے صحافیوں کے پاسپورٹ بھی ضبط کر لیے ہیں تاکہ انہیں سفر کرنے یا بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ زمینی حقائق شیئر کرنے سے روکا جا سکے۔ بی جے پی حکومت پریس کی آزادی کے بنیادی اصولوں کو پامال کر رہی ہے جسکا بنیادی مقصد مودی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔ مقامی میڈیا ادارے بڑی حد تک سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتے ہیںاور یہ اشتہارات ان ہی اخبارات کو دیے جاتے ہیں جوبھارتی پالیسی پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔مودی کی میڈیا پالیسی آزاد صحافت پر کاری ضرب بن گئی، بی جے پی کے اقدامات پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ مودی کے نام نہاد جمہوری اقتدار نے بھارتی میڈیا سے حکومت سے سوال کرنے کا حق چھین لیا، سوشل میڈیا پروپیگنڈا میں مصروف مودی کی توجہ عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔مودی حکومت میں بھارت میں سینسرشپ نے انتہائی سنگین صورت اختیار کرلی ہے۔بھارتی شہریوں سے خوفزدہ مودی حکومت نے سیکشن 69 اے کے تحت اختلافی آوازوں کو دبانے کے باقاعدہ اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ مودی حکومت کے خود ساختہ اختیارات بھارتی آئین میں دی گئی آزادی اظہار اور آزاد صحافت پر کھلا وار ہیں۔ بھارت میں خبروں پر اعتماد صرف 39 فیصد رہ گیا جبکہ 52 فیصد لوگ خبروں سے گریز کرتے ہیں۔مودی حکومت کی پالیسیوں سے بھارت میں آزادی صحافت ہر سطح پر مسلسل متاثر ہورہی ہے۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں میڈیا کی آزادی محدود ہوکر زوال کا شکار ہوتی جارہی ہے۔”گودی میڈیا” بھارت کے ان مرکزی ٹی وی چینلز اور اخبارات کے لیے استعمال ہونیوالی ایک طنزیہ اصطلاح ہے جو بھارتی حکومت اور حکمران جماعت کی کھلی حمایت، طرفداری اور پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ یہ لفظ سب سے پہلے سینئر صحافی رویش کمار نے استعمال کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ یہ میڈیا اداروں کی گود میں بیٹھا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بجائے اندھا دھند تعریف کرنا ۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈا، عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے اکثر پاکستان کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں چلانا۔ ملک کے اندر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف فضا گرمانا اور دباؤ بڑھانا۔ اہم اور بنیادی سوالات پوچھنے کے بجائے حکومتی بیانیے کو سچ کے طور پر پیش کرنا ۔ بھارتی گودی میڈیا نے ایک بار پھر پاکستان کو متنازع بیانیے سے جوڑنے کی ناکام کوشش شروع کر دی۔بھارتی میڈیا نام نہاد کالعدم تنظیموں کا نام لیکر پاکستانی سفارتی و دفاعی معاہدوں کو اسرائیل سے جوڑنے کا من گھڑت پروپیگنڈا کر رہا ہے۔اس سے قبل بھی مودی نواز میڈیا مسلسل بے بنیاد اور سنسنی خیز بیانیے کے ذریعے خطے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دیتا رہا ہے۔ مودی حکومت کے زیر اثر بھارتی میڈیا مسلسل بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں مصروف ہے۔ بھارتی میڈیا ابراہام معاہدے سے متعلق بے بنیاد بیانیہ گھڑ کر پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور عالمی ساکھ متاثر کرنے کی مذموم سازش کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا انتہا پسندانہ طرزِ رپورٹنگ صحافتی اصولوں کے بجائے سیاسی پروپیگنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *