غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر پہلے ہی روز حکومت اور بی جے پی ارکان کے درمیان شدید تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ اپوزیشن نے بی جے پی پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال کر اس مطالبے کو دبانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنما ء اور کولگام کے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ارکان پر زور دیا کہ وہ بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مشترکہ مطالبہ کریں۔ خود مقننہ بے اختیار ہو کر رہ گئی ہے اور ریاستی حیثیت کی بحالی میں مسلسل تاخیر نے عوامی مایوسی میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ عوام کے دیرینہ مطالبے کے حق میں اپنی اجتماعی آواز بلند کریں۔کانگریس رہنما اور ڈورو کے رکن اسمبلی غلام احمد میر نے بی جے پی ارکان پر دانستہ ہنگامہ آرائی کرنے کا الزام عائد کیا تاکہ سیاسی جماعتوں کو ریاستی حیثیت بحال نہ کرنے پر بھارتی حکومت سے مشترکہ طور پر سوال اٹھانے سے روکا جا سکے۔ ریاستی حیثیت سے محرومی نے منتخب حکومت کے کام اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا ہے، کیونکہ مقامی حکومت محدود اختیارات کے ساتھ کام کر رہی ہے۔نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بھی بی جے پی ارکان پر ایوان کی کارروائی میں دانستہ خلل ڈالنے کا الزام عائدکرتے ہوئے کہا کہ جب جل جیون مشن سے متعلق ایک کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جانے والی تھی تو بی جے پی ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی ۔ ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے اور اسمبلی کے پہلے روز کی کارروائی پر ہونے والی کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر دیا تھا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیرشاخ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر بھرپور انداز میں اجاگر کرنے پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر رہنماؤں اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صدر اردوان کی جانب سے عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرنا قابلِ تحسین ہے۔ ترکیہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مسلسل حمایت کشمیری عوام کیلئے عزم، حوصلے اور امید کا باعث ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام صدر رجب طیب اردوان اور عوامِ ترکیہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے عالمی برادری کے سامنے کشمیری عوام کی حالتِ زار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی قبضے اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھی مذمت کی۔ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ اور حل طلب تنازع ہے، جس کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانے کیلئے موثر کردار ادا کرے۔بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں وکشمیرکی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک انہیں صرف زبانی یقین دہانیاں دی گئی ہیں۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ انتخابات کے بعد ریاستی حیثیت بحال کر دی جائے گی لیکن تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا۔بھارتی حکومت نے تین مرحلوں کا عمل ترتیب دیا تھا — حد بندی، اسمبلی انتخابات اور ریاستی حیثیت کی بحالی۔ ان کے مطابق، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں بھی یہ یقین دہانی دی گئی تھی، لیکن حلقہ بندی اور انتخابات کے باوجود ریاستی حیثیت آج تک بحال نہیں کی گئی۔5اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے اسے دو یونین ٹیریٹوریز جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا تھا۔مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے دہلی کے جنتر منتر علاقے میں ایک احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے اور اس کیلئے انہوں نے راہول گاندھی سمیت بھارت کے صفِ اوّل کے اپوزیشن راہنمائوں اور حریت راہنما میرواعظ عمر فاروق کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے۔ جنتر منتر کی تحریک صرف ریاستی درجے تک محدود نہ رہے بلکہ آرٹیکل 370 اور 35A کی بحالی، سیاسی قیدیوں کے حقوق اور تنازع کے پْرامن حل کو بھی شامل کرے۔ 2019ء میں حکومت ِ ہند کی جانب سے کیے گئے یک طرفہ اقدامات کے نتیجے میں ریاستِ جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کردیا گیا اور عوام سے اْن کے آئینی تحفظات چھین لیے گئے، جس سے وہ خود کو غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کرنے لگے۔ ایسے میں جموں و کشمیر کے عوام کے سلب شدہ حقوق کی بحالی کیلئے کسی بھی سیاسی اتحاد، تنظیم یا فرد کی جانب سے کی جانے والی ہر مخلصانہ کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ تحریک صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام سے چھینے گئے تمام آئینی تحفظات اور حقوق کی بحالی کیلئے ہونی چاہیے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں