بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 22.6°C
Monday, 07 September 2026 | پاکستان: 26 ر بیع الاول 1448

مودی کا کشمیریوں سے ناروا سلوک

Monday, 7 September, 2026

غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںبھارتی قابض انتظامیہ نے ریاسی اور رام بن اضلاع میں مزید 16کشمیری کارکنوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔ نئی دلی کے نصب کرددہ لیفٹیننٹ گورنر کے بھارتی پولیس نے رام بن ضلع میں گیارہ جبکہ ریاسی ضلع میں پانچ کشمیری کارکنوں کی لاکھوں روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی ہیں۔ غیر کشمیری اور آر ایس ایس/بی جے پی کے ہندوتوا نظریات کے حامی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات نے ریاسی ضلع سے تعلق رکھنے والے پانچ کشمیری کارکنوں کی تقریبا 1.7ہیکٹر اراضی ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان کارکنوں پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رام بن ضلع میں مجموعی طور پر 15کنال اور 3مرلہ اراضی ضبط کی گئی ہے، جبکہ بھارتی پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون سمیت دیگر کالے قوانین کے تحت مزید پانچ کارکنوں کی غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی ہیں۔ بھارتی پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی مبینہ طورپر”بھارت مخالف” اور “آزادی پسند ” سرگرمیوں میں ملوث افراد کیخلاف کی گئی ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جائیدادوں کی ضبطی کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور معاشی طور پر کمزور بنانے کا ایک نیاہتھکنڈہ بن چکی ہے۔ کالے قوانین نے بھارتی فورسز کو کشمیریوں کو گرفتار کرنے، طویل عرصے تک نظربند رکھنے، قتل کرنے اور ان کی جائیدادیں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے ضبط کرنے کے وسیع اختیارات دے رکھے ہیں۔اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے کشمیریوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضے کی مہم مزید تیز کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کشمیری عوام کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے ۔ رواں سال کے دوران بھارتی حکام سو سے زائد کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر چکے ہیں۔ کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد فوج کا قبضہ ہے۔ یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ بھارت نے15لاکھ بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر میں شہریت دی،کشمیری عوام آج بھی اپنے حق خودارادیت کی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر عالمی میڈیا نے متعدد رپورٹس پیش کی ہیں۔مودی حکومت نے 5اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں میڈیا کا داخلہ بند کررکھا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔بھارت کشمیریوں کیخلاف عدالتی دہشتگردی میں بھی ملوث ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں خواتین بیوہ ہوچکی ہیں اورہزاروں کشمیری بھارت کی جیلوں میں قید ہیں کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق خودارادیت کے مطالبے سے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت سے آزادی کا عزم ہرکشمیری کے ڈی این اے میں شامل ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی سمگلنگ میںبھی ملوث ہے،ہمارے آپس میں جتنے مرضی اختلافات ہوں لیکن کشمیری عوام کی حمایت کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ قابض بھارتی فورسز اہلکار گھروں میں داخل ہو کر خواتین، بچوں اور معمر افراد سمیت مکینوں کو سخت ہراساں جبکہ نوجوانوں کو فوجی کیمپوں اور تھانوںمیںپیش ہونے کی ہدایت کر رہے ہیں ۔ بھارتی فوج نوجوانوں پر اپنے لیے بطور مخبر کام کرنے کیلئے بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ بھارتی فوج کی شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما نے آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے حال ہی میں پونچھ میں شاہستار اور راجوری سیکٹر میں ہنجنوالی کا دورہ بھی کیا۔ پونچھ اور راجوری میں بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے علاقے کے لوگوں کی مشکلا ت اور خوف ودہشت کے ماحول میں اضافہ کر دیاہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کلگام میں بھارتی فوج کا آپریشن بری طرح ناکام ہوگیا ، کولگام آپریشن میں بھارتی افواج کو بری طرح ناکامی کا سامنا، 12 دنوں میں 9 بھارتی فوجی ہلاک، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز ناکارہ، بھوکے پیاسے فوجی مٹی کھانے پر مجبور ہو گئے۔ کولگام میں ہونیوالا یہ آ پریشن بھارتی افواج اورکشمیری مزاحمت کاروں کے درمیان طویل ترین لڑا ئی ثابت ہوئی جس میں 12 دنوں میں 9 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز بھی ناکارہ ثا بت ہوئے، آپریشن میں کرنل سمیت بھارتی فوج کے 14 اہلکار شدید زخمی ہوئے ۔ کلگام میں 12 روزہ آپریشن کے بعد بھارتی فوج کو خالی ہاتھ پسپائی اختیار کرنا پڑی،ایک بھارتی فوجی نے اپنے آخری پیغام میں کہا 5 دن سے کھانے پینے کو کچھ نہیں، فوجی مٹی کھا کر زندہ ہیں،، ہلاک فوجی کے رشتہ دار نے انکشاف کیا گولہ باری میں گھری بھارتی فوج مدد سے محر و م، اب بچنے کی امید نہیں،ضروری راشن اور سازوسامان پہنچانے میں ناکامی کا سامنا ہے اور بھارتی فوجی قیادت بے بس ہو گئی، مقتول فوجی کے اہلخانہ کا کہنا ہے حکومت اور فوج صر ف دعوؤں کی حد تک بہادر ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *