بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 30.1°C
Wednesday, 17 June 2026 | پاکستان: 2 محرم 1448

مون سون’ منصوبہ بندی ناگزیر

Saturday, 26 July, 2025

بارش اللہ کی رحمت ہے یہ رحمت صرف ہمارے ہاں ہی نہیں دنیا کے بہت سے شہروں میں زحمت بن جاتی ہے ملک 26 جون سے مون سون کی بارشوں کی زد میں ہے کلاڈ برسٹ اور گھنٹوں تک مسلسل بارشوں کے مناظر قبل ازیں کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتے مگر موسمیاتی تبدیلیوں نے موسموں کی ہیبت کو اس طرح بدل دیا ہے کہ محض تین ہفتے قبل خشک بڑے آبی ذخائر مون سون بارشوں سے بھر گئے ہیں جبکہ قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 83 لاکھ ایکڑ فٹ تک پہنچ گیا ہے پاکستان گلوبل وارمنگ سے متاثرہ دس سرفہرست ممالک میں شامل ہے پچھلی دو دہائیوں کے دوران صرف ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے پاکستان کا تین ارب اسی کروڑ ڈالر کے قریب مالی نقصان ہوا اور دس ہزار کے قریب جانیں اس المیے کی نذر ہو گئیں ملک میں جاری بارشوں میں ریکارڈ اضافہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہے درست مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں شدید اور غیر معمولی بارشیں پہلی مرتبہ نہیں ہورہیں اور نہ یہ آخری بار ہیں ہر سال ساون بھادوں کے مہینوں میں ملک میں سیلاب کا آنا معمول کی بات ہے اصل مسئلہ غیر معمولی بارشوں کا نہیں بلکہ گڈ گورننس کا ہے محکمہ موسمیات سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے کئی ماہ پہلے ہی انتباہ کردیا گیا تھا اور وفاقی وصوبائی انتظامیہ کو مطلع اور متحرک بھی کیا گیا تھا تاکہ سیلانی نالوں اور آبی گزر گاہوں کی صفائی یقینی بنائی جاسکے اس کے باوجود ہر سال کی طرح اس بات بھی جا بجا انتظامی کوتاہی دیکھنے میں آئی حکومتی انتظامات ایک جانب اس حقیت سے انکار بھی ممکن نہیں اکثر شہروں میں سیلابی نالے تجاوزات کی زد میں جس کے باعث ان کی مکمل صفائی نہیں کی جاسکی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر چیز کا الزام گلوبل وارمنگ پر نہ ڈالیں یقینی طور پر عوام کو آنے والی آفات کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے لیکن یہ ناکافی ہے وقت آگیا ہے کہ نالوں اور ندیوں پر گھر بنانے اور ان میں کچرا ڈالنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے اور بڑے شہروں میں نکاسی آب کا منظم انتظام کیا جائے جو اس طرح کے واقعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہو جرمن واچ کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارش شدید سیلاب خشک سالی کا سبب بننے والے غیر معمولی مون سون بارشوں کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت میں اضافہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہندوکش قراقرم ہمالیہ گلیشیئرز لیک آٹ برسٹ یا آلودگی کاربن ذخائر سے دریائے سندھ کے نظام میں آلودگی سے پانی کو خطرات درپیش ہیں درجہ حرارت میں اضافہ کے نتیجے میں گرمی اور پانی کے تناو میں اضافہ خاص طور پر سوکھے اور نیم بنجر علاقوں میں زراعت کی پیداوار پر منفی اثرات پڑنا آب و ہوا کے حالات میں تیزی سے تبدیلی سے جنگلات میں کمی صحت کے خطرات اور آب و ہوا میں تبدیلی کے عوامل شامل ہیں حکومت پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوں بشمول اہم پالیسی اور آب و ہوا سے متعلقہ مداخلتوں کو حل کرنے کی حکمت عملی اپناتے ہوئے پالیسی فریم ورک تیار کرنے کیلئے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ان مسائل پر قابو پایا جاسکے جن میں ہر گزرتے دن کے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی پیدوار کو بارش اور سیلاب سے جو نقصان پہنچ رہا ہے وہ فی کس آمدنی کی نشوونما سے بھی زیادہ ہے یہ نقصان تمام ایشیائی ممالک میں ہونے والا سب سے بڑا نقصان شمار کیا گیا ہے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین موسمیات کا کہنا تھا کہ یہ سیلاب اس امر کی پیشگی اطلاع ہے کہ اب سیلاب پاکستان کے معمولات کا حصہ ہوں گے گزشتہ تین سال کے واقعات اس کی تصدیق کر رہے ہیں دنیا اس وقت بدلتے موسم قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے گزر رہی ہے یہ مسائل بلا تخصیص رنگ و نسل اور ملک و قوم کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں جن پر قابو پانے کے لئے انسانوں کو اپنے اختلافات بھلا کر ہی کام کرنا پڑے گا کیونکہ آج کا انسان اپنا سب سے بڑا دشمن خود ہے اس کی ہوس اور لالچ نے نہ صرف اس کے اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے جو مسائل پیدا کر دئیے ہیں ان سے نبردآزما ہونے کے لیے ہمیں بطورِ انسان ہی کام کرنا پڑے گا کوئی مخصوص گروہ ملک یا قوم وہ بگاڑ احسن طریقے سے ٹھیک نہیں کر سکتی جس کے ذمہ دار سب انسان ہوں ماحولیاتی ماہرین تین عشروں سے متواتر چیخ چیخ کر دنیا کو خبردار کر رہے ہیں کہ ہم ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث میدان حشر کی جانب رواں دواں ہیں آج دنیا بھر میں رونما ہونے والی ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیاں یہ بتا رہی ہیں کہ اگر ہم نے ماحولیاتی ماہرین کے انتباہ پر سنجیدگی سے توجہ دی ہوتی تو دنیا کو آج بد ترین صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا جس کی وجہ سے انسانی بقا شدید خطرات سے دوچار ہے قدرت کے فطری ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں ہم انسان دن بدن ناکام ثابت ہوتے جا رہے ہیں جن کے منفی اثرات کا سامنا موجودہ نسل بھگت رہی ہے اور یہی حال رہا تو آنے والی نسلیں زیادہ شدت سے ان نقصانات کو بھگتیں گی پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے مستقل طور پر متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کام کرنے والے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ ان موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنا بہت بڑا چیلنج ہے نیز کرہ ارض کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کرنے کیلئے مربوط کوششیں ازحد ضروری ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچایا جا سکے قدرتی آفات کا مقابلہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں مگر بہتر حکمت عملی منصوبہ بندی اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس کی تباہ کاریوں کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے سیلاب کو روکنا ہمارے بس میں نہیں لیکن کیا اس کے نقصانات کم سے کم کرنا بھی ہمارے بس میں نہیں ہے؟ کالاباغ ڈیم کو تو ہم نے متنازعہ بنا دیا ہے لیکن چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنانے پر کسنے اعتراض کیا؟ عالمی ادارے بھی پاکستان میں سیلاب سے متعلق اپنی رپورٹوں میں نئے چھوٹے ڈیم کی تعمیر اور نہری نظام کو بہتر بنانے کی تجویز دیتے ہیں مگر آج تک کسی بھی حکومت نے ان کی تجاویز پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جس کا خمیازہ پوری قوم اس وقت بھگت رہی ہے ۔اگلے سال کیلئے ہمیں آج ہی سے بہتر حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے تحت سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے نہری اور آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا جائے ملک بھر میں چھوٹے ڈیموں کا جال بچھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے اور محکمہ موسمیات کے مطابق 21جولائی تا 30جولائی شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی کلاڈ برسٹ کا خطرہ بھی بتایا جا رہا جس سے مزید مزید فلڈ آنے کا خطرہ بتایا جا رہا ہے۔ ان میں دی گئی تجاویز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب فوری اقدامات کے ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے تاکہ آنیوالے وقتوں میں حالات کو قابو میں رکھا جاسکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *