بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.8°C
Thursday, 22 October 2026 | پاکستان: 12 جمادی الاول 1448

نظام کی ناکامی یا ہماری نالائقی

Thursday, 22 October, 2026

گزشتہ دنوں جب پوری مسلم امہ نبیِ آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یومِ ولادت منا رہی تھی، اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال کی بچہ وارڈ کی نومولود نرسری میں لگنے والی آگ نے چودہ معصوم بچوں کی جان لے کر پوری قوم کے لئے فضا سوگوار بنا دی۔ ہر حساس مسلمان اور محبِ وطن پاکستانی رنجیدہ تھا۔ جن اصحاب نے ناشتہ کرتے ہوئے ٹی وی پر خبر سنی انہوں نے ناشتہ کھانا چھوڑ دیا۔ جو بستروں پر سو رہے تھے وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھے۔غرضیکہ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ وہ معصوم اور ننھے بچے جو دنیا میں آئے تھے ان کے جسدِ خاکی چند گھنٹوں بعد تابوت میں لپٹے ہوئے ان کے ورثا کے حوالے کر دیے گئے تھے۔اس کے بعد الزام در الزام کا جو نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا اس نے تو میڈیا پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کوئی وزیر کو موردِ الزام ٹھہرا رہا تھا تو کوئی ڈاکٹروں پر الزام لگا رہا تھا۔کوئی ریسکیو احکام کو کوس رہا تھا تو کوئی پیرامیڈیکل اسٹاف کو بددعائیں دے رہا تھا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں مگر ایک بات عیاں تھی کہ نظام کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔
اس سارے واقعہ پر غور کریں تو لگ رہا تھا کہ اسلام آباد کی ساری مشینری پمز ہسپتال کے نظام کو چلانے پر تلی ہوئی تھی۔ آئی جی صاحب موجود تھے چیف کمشنر تشریف لے آئے تھے وزیر صاحبان پارلیمانی ارکان غرض اسلام آباد کی حکمرانی کے تمام اصحاب موجود تھے۔مگر نظام غائب ۔ ہمارے ہاں جب کوئی اندوہناک واقعہ ہوتا ہے توتمام اتنظامی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور فورا کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ کہیں خبر آتی ہے وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا ۔ کہیں سنائی دیتا ہے کہ وزیراعالی نے انکوائری کا حکم دے دیا ۔ کو ئی کہتا ہے وزیر نے رپورٹ مانگ لی ہے۔ مگر جب سانحہ ہونے سے قبل با اختیا کی جو ذم داری بنتی ہے وہ کوئی انجام دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ کراچی میں سانحہ گل پلازہ ہو اس کے بعد تمام پلازوں میں آگ بچھانے کے آلات کی تنصیب کا حکم جاری ہوا۔ مگر کیا کسی ادارہ نے چیک کرکے رپورت دی کے کتنے پلازوں میں آگ بجھانے اور ایمر جنسی درورازے کھلے رکھنے اوربجلی کی تاروں کی تنصیب اور سپلائی کے نظام کو چیک کیا گیا ہے۔ بالکل بھی نہیں ۔ تین سے چار دن کا شور شرابہ رہا پھر انکوائر رپورٹس آخر فائلوں کی نظر ہو گئیاور فائیلیں الماریوں می بند ہو گئیں۔ اس طرح سانحہ پمز کی رپورٹس بھی فائیلوں کی نظر ہو جائیں گی صرف چند لوگوں کو ان کے عہدوں سے الگ کر کے اور متاثرین کو دمعاوضہ ادا کر کے حکومت سرخرو ہو جائے گی۔ مگر ایسے واقعا ت کے مستقل تدراک کا کوئی خل پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہمارا نظام بے حس ہو چکا ہے اور ڈیلو رنہیں کر رہا جس کی وجہ سے گورننس بہتر نہیں ہو رہی۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے ۔ ایک نظام چل رہا ہے ۔ نظا م چلانے والے چہرے بدلتے رہتے میں مگر نظام نہں بدلا۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اس حساب سے ضروریات بھی برھ رہی ہیں مگر وسائل کم ہوتے جارہے ہیں ضرورت تو اس امر کی تھی کے وقت کے ساتھ ساتھ نظام میں بہتری کے لئے تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں اور ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا جاتا۔ اس وقت ملک میں موجودہ نظام سے تنگ افراد نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی بات کر رہے ہیں۔ ان یونٹس کو کچھ اور بھی نام دیا جا سکتا ہے۔ضروری نہیں کہ انہیں صوبہ کہا جائے یا پکارا جائے۔ پنجاب میں تجربہ کیا گیا اور ملتان میں سیکرٹریٹ بھی بنا دیا گیا جہاں پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے عہدے کا آفیسر بھی تعینات کیا گیا اور ہرڈیپارٹمنٹ نے اپنے افسران تعینات کئے مگر فائل منظوری کے لیے اب بھی لاہور آتی ہے اور سائلوں کے مسائل میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ قانون کی بہتری اور نظام کی کمیاں ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ مگر اشرافیہ جو وسائل پر قابض ہے وہ اپنے اختیارات چھوڑنے کو تیار نہیں۔صدر مشرف نے ماضی میں بیوروکریسی نظام کو منتخب نمائندوں کے تحت کرنے کے لیے ضلعی اور تحصیل سطح پر منتخب نمائندوں کو اختیارات دیے تھے۔ ضلعی ناظم اور تحصیل ناظم کے ماتحت تمام لوکل شاہی اور مالی اختیارات دیے گئے۔ اس نظام کے تحت نتائج آنا بھی نہ پائے تھے کہ ڈپٹی کمشنر جیسیڈی سی او یعنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر بنایا گیا اور وہ ضلعی ناظم کے ماتحت عہدہ تھا۔ بیوروکریسی نے اسے توہین جانا اور یہ نظام جیسے بڑی عرق ریزی اور ریسرچ اور کنسلٹنٹ کے ساتھ تیار کر کے رائج کیا گیا تھا اشرافیہ نے ناکام بنا دیا۔ اور ڈپٹی کمشنر نظام دوبارہ بحال ہو گیا۔ بلدیاتی نظام کسی جمہوری سیاسی جماعت کو اچھا نہیں لگتا اور ہر جماعت برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتی ہے۔ اگر گزشتہ سات دہائیوں میں اس نظام کی آبیاری کی جاتی اور اس کو جمہوری انداز میں چلایا جاتا، تو نہ صرف جمہوریت نشوونما پاتی بلکہ ادارے بھی مضبوط ہوتے اور نئی قیادت باقاعدگی سے ابھرتی۔نظام کی مضبوطی کیلئے اگر نئے انتظامی یونٹس بنائے جاتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ کوئی صوبہ نہیں ٹوٹے گا صرف اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہو جائیں گے۔ دو یا تین ڈویژنز ملا کر ایک یونٹ بنایا جائے جہاں پر گریڈ اکیس کا چیف سیکرٹری ہو اور گریڈ اٹھارہ کے سیکرٹریز اور ڈپٹی کمشنرز ہوں اور ان کے ساتھ سیاسی وزیرِ اعلی اور اس کے وزیر ہوں تو مسائل کم ہو جائیں گے کام کی رفتار میں تیزی آ جائے گی۔ پروٹوکول اور سفر پر اٹھنے والے اخراجات کم ہو جائیں گے۔ وفاق میں گریڈ اکیس اور بیس کے آفیسرز تعینات ہوں جو ان کے ساتھ کوآرڈینیشن رکھتے ہوئے ان کو سپروائز کریں۔ ہر شہر وزیرِ اعلی اور وزیروں کے دسترس میں ہو کیونکہ دو تین گھنٹے کے سفر سے زیادہ دوری نہ ہو گی۔ پھر وزیرِ اعلیٰ کو اپنے لیے بارہ ارب کا جہاز خریدنے کی ضرورت نہ ہو گی۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نظام کے ساتھ ساتھ اپنی نالائقی کو بھی ختم کریں اور وقت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ نظام بدلیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *