بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.1°C
Sunday, 27 September 2026 | پاکستان: 16 ر بیع الثانی 1448

نیویارک میں شطرنج کی بساط۔۔۔!

Sunday, 27 September, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے پینل کی مدت بڑھانے کی قرارداد پیش کی گئی تو روس اور چین نے مل کر اس امریکی مسودے کو ویٹو کر کے مسترد کر دیا۔ روس اور چین اب عالمی فورمز پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کی سیاست کو مزید برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کا موقف ہے کہ یہ نگرانی کے نام پر سیاسی مداخلت ہے۔ جیسے ہی ووٹنگ شروع ہوئی، روس اور چین نے بیک وقت اپنے ویٹو پاور کا استعمال کر کے اس امریکی مسودے کو زمین بوس کر دیا اور اس مانیٹرنگ سسٹم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ ماضی میں روس اور چین اکثر امریکی قراردادوں پر صرف اعتراض کرتے تھے یا ووٹنگ سے الگ ہو جاتے تھے لیکن اب یہ دونوں طاقتیں فرنٹ فٹ پر آ کرجارحانہ انداز میں امریکی بالادستی کو روک رہی ہیں۔ چین کے سفیر فو کانگ نے صاف کہا کہ اب عالمی فورمز پر سیاسی ہیرا پھیری اور دبا کی سیاست کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ امریکہ دہائیوں سے دنیا بھر میں اپنے مخالفین کو دبانے کیلئے اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتا آیا ہے۔ روس اور چین کے اس ویٹو کا مطلب یہ ہے کہ اب انہوں نے امریکہ کی اس کھیل کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وہ دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ یکطرفہ پابندیاں اب عالمی قانون نہیں رہیں۔ نیویارک میں گرنیوالا یہ ویٹو صرف ایک قرارداد کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ کا ورلڈ آرڈر کے زوال کا واضح اعلان ہے۔اب دنیا ایک ملٹی پولر دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں واشنگٹن کی مرضی کے فیصلے پوری دنیا پر مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ بساط الٹ چکی ہے اور اب شطرنج کے مہرے ماسکو اور بیجنگ بھی ہلا رہے ہیں۔ امریکہ کا خیال تھا کہ وہ روایتی انداز میں یہ قرارداد منظور کروا لے گا لیکن شطرنج کی اس بین الاقوامی بساط پر روس اور چین نے بیک وقت اپنے ویٹو پاور کا ایسا مہرہ ہلا دیا کہ امریکی قرارداد اڑ کر رہ گئی اور ایران پر امریکہ کا یہ واچ ڈاگ ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے فوری طور پر بیان جاری کر کے روس اور چین کے اس جرات مندانہ اقدام کی دل کھول کر تعریف کی اور امریکی قرارداد کو سیاسی طور پر متاثرہ چال قرار دیا ۔ تہران کیلئے یہ سفارتی فتح کسی بڑی نعمت سے کم نہیں کیونکہ اب اس کے جوہری اور اقتصادی معاملات پر امریکہ کی براہ راست جاسوسی یا قانونی چوکیداری کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ چین اور روس کا اصولی موقف یہ تھا کہ گزشتہ سال کے بعد پرانی پابندیوں کا جواز ختم ہو چکا ہے لہذا مانیٹرنگ کے نام پر ایران کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں نے روس اور چین کو اب اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ کسی بھی صورت امریکی دادا گیری کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ اب ایران جیسے اپنے اتحادیوں کو امریکی حصار سے نکالنے کا کھلا کھیل کھیل رہے ہیں۔ واشنگٹن کو یہ پیغام دیا گیا کہ اب ورلڈ آرڈر کا دور تمام ہوچکا ہے، جہاں امریکہ جو قانون چاہتا نافذ کر دیتا تھا۔ بساط اب بدل چکی ہے۔ یہ نیا بلاک اب امریکہ کے معاشی اور سفارتی مہروں کو الٹانے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔نیویارک میں گرا یہ ویٹو اس بات کی گواہی ہے کہ اب عالمی شطرنج کا فائنل رائونڈ شروع ہو چکا ہے جہاں اب مہرے واشنگٹن کی انگلیوں پر نہیں ناچتے بلکہ ماسکو اور بیجنگ کی چالیں وائٹ ہاؤس کو شہ مات دینے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ امریکہ نے ایران کو پیادہ سمجھ کر گھیرنا چاہا لیکن روس اور چین کے ہاتھیوں اور گھوڑوں نے پوری بساط ہی الٹ دی۔ امریکی مسودے کا مقصد ایران پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں ایک سال کی توسیع کرنا تھا لیکن سلامتی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین کے ویٹو نے اسے روک دیا۔یہاں شطرنج کی بساط کا استعارہ اس لیے بھی معنی رکھتا ہے کہ سلامتی کونسل میں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کی چالوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں روس اور چین کا ایک ہی معاملے پر ایک ساتھ ویٹو کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے معاملے پر عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات گہرے ہیں کیونکہ امریکہ نے میدانِ جنگ میں روایتی جنگ اور فوجی کی بجائے سفارتی اور اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے ایران کی چوٹی کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا اور انہیں شہید کیا۔عالمی قوانین اور جنگی اصولوں کی رو سے جنگوں میں صرف اور صرف عسکری ہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے لیکن امریکی کارروائیوں نے ان مسلمہ قوانین کا جنازہ نکالتے ہوئے معصوم بچوں اور سکولوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ دنیا واقعی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔جہاں عالمی فیصلوں میں متعدد طاقتوں کا کردار پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔ اسے کوئی یونی پولر نظام کہے، طاقت کا نیا توازن قرار دے یا بڑی طاقتوں کی نئی صف بندی، حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن، ماسکو، بیجنگ کے درمیان اختلافات اب زیادہ کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ روس اور چین کی اس سٹریٹجک چال کو بین الاقوامی سفارتکاری کے افق پر ایک تاریخی اور تعمیری قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی اس عالمی بساط پر دونوں ممالک نے اپنے ویٹو پاور کا غیر معمولی استعمال کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی طاقت کے توازن کو کسی ایک فریق کی لونڈی نہیں بننے دیں گے۔ روس اور چین کے اس جرات مندانہ فیصلے نے نہ صرف مظلوم اور کمزور اقوام کے حقوق کا تحفظ کیا ہے بلکہ یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ عالمی امن کی بقا طاقت کے ناجائز استعمال میں نہیں، بلکہ باہمی احترام اورملٹی پولر دنیا کی پاسداری میں ہے۔ اس چال نے ثابت کر دیا ہے کہ اب عالمی فیصلوں کا رخ صرف امریکہ کی مرضی سے طے نہیں ہوگا بلکہ اس بساط پر برابری اور انصاف کی نئی لکیریں کھینچی جا چکی ہیں۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی اس عالمی بساط پر روس اور چین نے اپنے ویٹو پاور کا غیر معمولی استعمال کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی طاقت کے توازن کو کسی ایک فریق کی لونڈی نہیں بننے دیں گے۔ اسے محض ایک انکار نہیں بلکہ شطرنج کی وہ بہترین اور مدبرانہ چال کہا جائے گا جس نے یکطرفہ تسلط کے عزائم کو مات دیدی ہے۔ نیویارک کی اس بساط پر بیجنگ اور ماسکو نے جو مہرہ ہلایا ہے، اس نے واضح کر دیا کہ اب عالمی سیاست میں کسی ایک کھلاڑی کی بادشاہت کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ یہ ویٹو پاور محض ایک قانونی حق کا استعمال نہیں بلکہ دنیا کو یکطرفہ تسلط کے اندھیروں سے نکال کر ملٹی پولر توازن کی روشنی میں لانے والی ایک تاریخی چیک میٹ ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *