بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.1°C
Saturday, 26 September 2026 | پاکستان: 15 ر بیع الثانی 1448

وزیراعظم کی مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں

Saturday, 26 September, 2026

پاکستان کو اس وقت جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں علاقائی امن، معاشی استحکام اور عالمی سطح پر موثر سفارتکاری ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ عالمی فورم کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے موقف کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہے بلکہ دوطرفہ تعلقات اور معاشی تعاون کے نئے امکانات بھی تلاش کرسکتا ہے ۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے وزیراعظم کی ملاقات میں پاک ایران تعلقات، دفاعی تعاون اور خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے طویل عرصے سے جاری تنازعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ موجودہ علاقائی حالات میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جائے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا براہ راست اثر صرف سیاسی تعلقات پر نہیں پڑتا بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عام شہریوں کی معاشی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔پاکستان کیلئے ایران محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط رکھنے والا اہم ملک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات سرحدی علاقوں کے امن سے لیکر تجارت اور توانائی تک متعدد شعبوں میں مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سفارتی رابطوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ محض ملاقاتیں اور مشترکہ بیانات کافی نہیں، اصل ضرورت ایسے فیصلوں کی ہے جن کے نتائج دونوں ممالک کے عوام اور کاروباری حلقوں کو نظر آئیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئے سب سے اہم اصول یہ ہونا چاہیے کہ قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے تمام ممالک کیساتھ متوازن اور باوقار تعلقات قائم رکھے جائیں۔ دنیا اس وقت مختلف سیاسی اور معاشی دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے مگر پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ کسی غیرضروری کشمکش کا حصہ بننے کے بجائے امن، مذاکرات اور باہمی تعاون کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔ یہی طرزعمل پاکستان کو سفارتی طور پر زیادہ موثر اور معاشی طور پر زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے۔وزیراعظم کی لبنان اور بنگلہ دیش کے رہنمائوں سے ملاقاتیں بھی قابلِ توجہ ہیں۔ جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی، توانائی اور انسانی روابط کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ عالمی معیشت میں علاقائی تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو تجارتی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی برآمدات میں تنوع پیدا کرنا ہوگا، مصنوعات کا معیار بہتر بنانا ہوگا اور عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق صنعتی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا۔یہاں دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید انجینئرنگ، گرین ٹیکنالوجی اور ہائی ویلیو سروسز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت اور بڑی تعداد میں باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ اگر انہیں جدید تعلیم، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان ملکی معیشت کی سمت تبدیل کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، توانائی، آٹو موبائل اور تعمیرات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ وہ نہ صرف سرمایہ رکھتے ہیں بلکہ دنیا کے مختلف معاشی مراکز میں تجربہ، مہارت اور کاروباری روابط بھی رکھتے ہیں۔ تاہم انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کیلئے صرف جذباتی اپیل کافی نہیں ہوگی۔سرمایہ کار وہاں جاتا ہے جہاں اسے پالیسی کا تسلسل، قانون کی بالادستی، شفاف نظام، آسان کاروباری ماحول اور سرمایہ کے تحفظ کا یقین ہو۔ اگر حکومت واقعی بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتی ہے تو اسے سرخ فیتے، غیرضروری اجازت ناموں، پیچیدہ ٹیکس نظام اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو کم کرنا ہوگا۔ سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار بنانا محض ایک حکومتی اعلان نہیں بلکہ مسلسل انتظامی اور قانونی اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔اسی طرح مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کیلئے امکانات بہت وسیع ہیں۔ دنیا میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے اور پاکستان کے نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر، آن لائن خدمات اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر ریاست اس شعبے کیلئے بہتر انٹرنیٹ انفراسٹرکچر، جدید تعلیمی نصاب، تربیتی مراکز اور کاروباری سہولتیں فراہم کرے تو آئی ٹی برآمدات ملکی معیشت کیلئے اہم ذریعہ بن سکتی ہیںلیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشی ترقی صرف سرمایہ کاری کے چند بڑے منصوبوں سے ممکن نہیں۔ اس کیلئے ایک وسیع اور مستقل معاشی پالیسی درکار ہے۔ صنعت کا پہیہ تیز کرنا ہوگا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولت دینا ہوگی، بجلی اور گیس کی دستیابی کو قابلِ اعتماد بنانا ہوگا اور نوجوانوں کیلئے ہنر اور روزگار کے نئے راستے پیدا کرنا ہوں گے۔ پاکستان کی موجودہ سفارتی سرگرمیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک عالمی سطح پر اپنے روابط کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب اصل ضرورت یہ ہے کہ سفارتکاری کو معاشی نتائج سے جوڑا جائے۔ ہر اہم سفارتی رابطے کے ساتھ یہ سوال بھی سامنے ہونا چاہیے کہ اس سے پاکستان کیلئے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، روزگار یا برآمدات کے کون سے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ملکی سلامتی اور معاشی استحکام بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور قومی اداروں کے درمیان موثر تعاون سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کو داخلی طور پر مضبوط ہونا ہوگا تاکہ خارجی سطح پر بھی اس کی آواز زیادہ موثر انداز میں سنی جائے۔آج پاکستان کو محض نئے معاہدوں یا نئی ملاقاتوں کی نہیں بلکہ ان رابطوں کو نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ خطے میں امن کیلئے سفارتی کوششیں جاری رہیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت بڑھے، یورپی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی مضبوط ہو اور بیرون ملک پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کیلئے عملی سہولتیں ملیں تو یہ سب مل کر معیشت کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو معاشی سفارتکاری کے ساتھ مربوط کرے۔ دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کا سب سے مضبوط راستہ صرف سیاسی بیانات نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، علم، ٹیکنالوجی اور باہمی مفاد کے پائیدار رشتے ہیں۔ اگر موجودہ سفارتی سرگرمیوں کو ٹھوس معاشی منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کا سہارا مل جائے تو پاکستان اپنے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ امن، سفارتکاری اور معاشی استحکامیہ تینوں راستے الگ نہیں، ایک ہی قومی منزل کی طرف جاتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف کارروائی
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران آٹھ دہشتگردوں کی ہلاکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا، جس سے ان کے منظم ڈھانچے اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے میں پیشرفت ہوئی ہے۔اس کارروائی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دہشتگردوں نے فورسز سے بچنے کیلئے مسجد کو بطور ڈھال استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دہشتگرد عناصر کی جانب سے ایسے مقدس مقامات کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ اس سے ان کے طرزِ عمل کی سنگینی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسجد کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کارروائی کرنا اس بات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بھی شہریوں، عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔شمالی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں دہشتگردی کا مسئلہ پیچیدہ نوعیت کا ہے جس سے نمٹنے کیلئے صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں بلکہ موثر انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، مقامی آبادی کا تعاون اور انتظامی سطح پر مضبوط اقدامات بھی ضروری ہیں ۔ملک میں پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ دہشتگردی کیخلاف کارروائیوں کا سلسلہ مربوط انداز میں جاری رکھا جائے۔ شمالی وزیرستان کی حالیہ کارروائی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ امن و استحکام کیلئے ریاستی اداروں، مقامی آبادی اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کا اعتماد اور تعاون سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو مزید موثر بنا سکتا ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *