پاکستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے ناسور کا سامنا کرنے والی پاکستانی قوم نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، لیکن اس کے باوجود ریاست اور عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ 2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافے نے ملکی سلامتی کیلئے نئے چیلنجز ضرور پیدا کیے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ہی پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے عزم و استقامت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران ملک بھر میں 3,145 دہشت گردی سے متعلق واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 819 پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ۔ ان واقعات کا زیادہ تر بوجھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے برداشت کیا، جہاں دہشت گرد عناصر نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام کوشش کی۔پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف عزم کسی ایک سال یا ایک حکومت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک طویل قومی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کامیاب عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کے منظم ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات، سرحد پار نقل و حرکت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے دہشت گردی کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔جولائی 2026 اس جنگ کا سب سے سخت مرحلہ ثابت ہوا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق اس ایک ماہ کے دوران 205 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے 401 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑی ماہانہ تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مثر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا بدستور دہشت گردی کا بنیادی ہدف بنے ہوئے ہیں۔ ایک جانب تحریک طالبان پاکستان ریاستی اداروں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر علیحدگی پسند عناصر صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان عناصر کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا، سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور پاکستان کے امن و استحکام کو متاثر کرنا ہے۔سوات، بنوں، شمالی وزیرستان، قلات، نوشکی اور دیگر علاقوں میں ہونے والے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ اب وہ خودکش حملوں، بارودی گاڑیوں، ڈرون ٹیکنالوجی اور گھات لگا کر حملوں جیسے جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی سیکیورٹی ادارے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی اور استعداد کار میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔پاکستانی حکام مسلسل اس امر کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے بعض نیٹ ورکس سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں، غیر قانونی مالی معاونت اور بیرونی سرپرستی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یکساں اور بلاامتیاز پالیسی اختیار کی جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے ۔ اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان کی کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 2,084 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ ریاستی ادارے صرف دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔ م روزانہ دہشت گردوں کا ہلاک ہونا انسداد دہشت گردی کی تاریخ میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ ان کامیابیوں کے پیچھے ہمارے بہادر فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں، فرنٹیئر کور، قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی شبانہ روز محنت اور قربانیاں شامل ہیں۔شمالی وزیرستان سے لیکر بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں تک، پاکستانی سپوت وطن کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔ پوری قوم ان شہدا کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے پاکستان کے امن اور استحکام کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کی طاقت سے نہیں جیتی جا سکتی ۔ اس کیلئے قومی یکجہتی، سیاسی استحکام، موثر حکمرانی، معاشی ترقی، نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع اور سماجی انصاف بھی ضروری ہیں۔ ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات کو انتہا پسندی کے نظریات کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم آزمائشوں سے گھبرانے والی نہیں۔ ماضی میں بھی دہشت گردی کے بدترین دور کا مقابلہ کیا گیا اور آج بھی قومی عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ دشمن عناصر خواہ کسی بھی شکل میں سامنے آئیں، پاکستانی قوم اور اس کے ادارے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔ قومی اتحاد، عوامی تعاون اور مثر حکمت عملی کے ذریعے دہشت گردی کے اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان شا اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی منزل کی طرف مزید تیزی سے گامزن ہوگا اور دہشت گردی کے اندھیروں پر امن و خوشحالی کی روشنی غالب آئے گی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں