کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، خوشحالی اور عالمی سطح پر مضبوط شناخت کے لیے برآمدات میں اضافہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں کی کامیابی کا ایک نمایاں راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے صنعتی، تجارتی اور کاروباری شعبوں کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی معاشی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کیا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے بھی برآمدات میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری طبقے کو سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک(پاک ایکسِم بینک)اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے مشترکہ برآمدی کریڈٹ انشورنس رسک شیئرنگ پول کا قیام ایک خوش آئند اور دوررس اہمیت کا حامل اقدام ہے۔اس منصوبے کی بنیادی روح پاکستانی برآمد کنندگان کو بین الاقوامی تجارت میں درپیش مالیاتی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا اور انہیں نئے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ خزانہ کے تحت پاک ایکسِم بینک اور وزارتِ تجارت کے زیر انتظام ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ نے ایک مشترکہ فریم ورک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایس ایم ایز کے لیے ابتدائی طور پر ایک مخصوص رسک شیئرنگ پول قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام وزیراعظم کے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے وژن سے ہم آہنگ ہے اور ملکی معیشت میں کاروباری سرگرمیوں کے نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے روزگار کی فراہمی، صنعتی پیداوار، مقامی تجارت اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن عالمی منڈیوں میں قدم رکھتے وقت انہیں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ بیرون ملک خریداروں کی جانب سے ادائیگی نہ ہونے کا خطرہ ہے۔ بعض اوقات خریدار مالی مشکلات کے باعث ادائیگی نہیں کر پاتا، جبکہ بعض حالات میں سیاسی بحران، حکومتی پابندیوں یا رقوم کی منتقلی میں رکاوٹیں بھی کاروباری معاملات کو متاثر کرتی ہیں۔ بڑے کاروباری ادارے شاید ایسے نقصانات برداشت کر سکیں، لیکن محدود وسائل رکھنے والے چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے یہ صورتحال شدید مالی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی خدشات انہیں بڑے آرڈرز قبول کرنے اور نئی منڈیوں میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔پاک ایکسِم بینک کی ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس اسکیم اسی مسئلے کا ایک مثر حل فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے تحت بین الاقوامی خریدار کی جانب سے مخصوص تجارتی یا سیاسی خطرات کے باعث ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں پالیسی کی منظور شدہ شرائط کے مطابق برآمد کنندہ کو مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس سہولت سے کاروباری طبقے کا اعتماد بڑھے گا، وہ نئے خریداروں کے ساتھ معاملات طے کر سکیں گے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو وسعت دے سکیں گے۔
اس مشترکہ منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے برآمد کنندگان کو دو مختلف طریقوں سے سہولت فراہم کی جائے گی۔ جامع قلیل مدتی پالیسی کے تحت اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان براہِ راست انشورنس حاصل کر سکیں گے، جبکہ بینک ماسٹر پالیسی کے ذریعے شریک بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے مالی معاونت یافتہ برآمد کنندگان کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس طرح پاک ایکسِم بینک کے ساتھ کمرشل بینکوں اور مالیاتی اداروں کا تعاون بھی مضبوط ہوگا اور کاروباری طبقے تک اس سہولت کی رسائی میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔اس اسکیم کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انشورنس کا تحفظ حاصل ہونے سے ایس ایم ایز کے لیے بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مالیاتی اداروں کو بھی نسبتا بہتر تحفظ یافتہ برآمدی پورٹ فولیو میسر آئے گا، جس سے وہ چھوٹے کاروباری اداروں کے ساتھ زیادہ اعتماد کے ساتھ مالیاتی روابط قائم کر سکیں گے۔ اس طرح یہ منصوبہ صرف برآمد کنندگان کی انفرادی مشکلات کا حل نہیں بلکہ پورے مالیاتی اور تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔پاکستان کی برآمدی صلاحیت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، جراحی کے آلات، زرعی اجناس، خوراک کی مصنوعات، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے عالمی منڈیوں میں آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ تاہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری طبقے کو مالیاتی تحفظ، آسان قرضوں، جدید ٹیکنالوجی، معیاری پیداوار اور عالمی تجارتی تقاضوں سے ہم آہنگ سہولتیں فراہم کی جائیں۔اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اس کی مثر تشہیر بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یکم نومبر 2026 کو مجوزہ آغاز کے پیش نظر ملک گیر آگاہی مہم، بینکوں کی شاخوں میں معلوماتی مواد کی فراہمی، سوشل میڈیا پر تشہیر اور چیمبرز آف کامرس کے تعاون سے روڈ شوز کا انعقاد ایک مثبت حکمت عملی ہے۔ اس کے ذریعے ملک کے مختلف شہروں اور کاروباری مراکز میں موجود چھوٹے برآمد کنندگان کو اس سہولت کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے گا۔تاہم ضروری ہے کہ انشورنس کی شرائط، اہلیت، منظور شدہ حدود اور کلیم کے طریق کار کو انتہائی سادہ اور شفاف انداز میں کاروباری طبقے تک پہنچایا جائے، تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ انشورنس ہر قسم کے کاروباری نقصان کی ضمانت نہیں بلکہ صرف پالیسی میں متعین تجارتی اور سیاسی خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے۔بلاشبہ پاکستان کی معاشی خودمختاری، مالی استحکام اور عالمی تجارتی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ پاک ایکسِم بینک اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا یہ مشترکہ اقدام اسی سمت میں ایک قابلِ تحسین کوشش ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں