ذرا تصور کیجیے، آپ گھر سے نکلتے ہیں مگر جیب میں بٹوا ہے نہ نوٹ، چیک بک اور نہ ہی سکوں کی کھنک۔ بازار سے خریداری، پٹرول کی ادائیگی، بجلی کا بل، بچوں کی فیس، سرکاری ٹیکس، حتی کہ ریڑھی والے سے سبزی خریدنے تک ہر ادائیگی صرف موبائل فون، کیو آر کوڈ یا محفوظ ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے چند سیکنڈ میں مکمل ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں وہ معاشی انقلاب ہے جسے دنیا کیش لیس اکانومی کے نام سے جانتی ہے، اور پاکستان بھی اب اسی راستے پر قدم بڑھا رہا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس تبدیلی کو بروقت قبول کریں گے یا ایک بار پھر وقت کے پیچھے رہ جائیں گے؟وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ اجلاس میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کو واضح پیغام دیا کہ وہ کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے شفافیت بڑھے گی اور پائیدار معاشی ترقی کا راستہ ہموار ہو گا۔کیش لیس اکانومی نوٹوں کے خاتمے کا نام نہیں ایسی دستاویزی معیشت ہے جہاں ہر مالی لین دین کا محفوظ ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ جب ہر ادائیگی ڈیجیٹل ہوگی تو ٹیکس چوری، جعلی لین دین، منی لانڈرنگ، رشوت اور کالے دھن کو چھپانا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک نے نقد رقم پر انحصار کم کرکے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو قومی ترجیح بنایا۔پاکستان میں بھی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ راست جیسے جدید نظام نے لاکھوں افراد کو فوری اور کم لاگت ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی ہے۔ ڈیجیٹل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ یہ پیش رفت خوش آئند ضرور ہے، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی مجموعی معیشت میں نقد رقم کا کردار اب بھی غالب ہے، خصوصا تھوک تجارت، جائیداد کی لین دین بینکنگ تک محدود نہیں اس کے اثرات پورے ریاستی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت کے لیے کرنسی چھاپنے، محفوظ رکھنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔ مالی ریکارڈ محفوظ رہتا ہے، اعدادوشمار زیادہ درست ہوتے ہیں، سرکاری نگرانی بہتر ہوتی ہے، وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے اور عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑتے۔ سب سے بڑھ کر معیشت دستاویزی شکل اختیار کرتی ہے، جس سے ٹیکس نیٹ وسیع ہوتا ہے، ریاست کی آمدنی بڑھتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل میسر آتے ہیں۔اگر اس نظام کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو بھی جوڑ دیا جائے تو نتائج مزید مثر ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت مشکوک لین دین کی فوری نشاندہی، ٹیکس فراڈ کی روک تھام، جعلی انوائسز کی شناخت، سبسڈی کے غلط استعمال کی نگرانی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ چند لمحوں میں کر سکتی ہے۔ جہاں فیصلہ سازی ڈیٹا پر ہوگی، وہاں ذاتی پسند، سفارش اور رشوت کی گنجائش خود بخود محدود ہو جائے گی۔تبدیلی کے اس راستے میں بھی مزاحمت موجود ہے۔ غیر دستاویزی معیشت سے فائدہ اٹھانے والے بعض بااثر کاروباری طبقات، ٹیکس چوری کے عادی عناصر اور بدعنوان افسران فطری طور پر ایسے نظام کے حامی نہیں ہو سکتے جہاں ہر مالی سرگرمی کا ریکارڈ محفوظ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اصلاحات کاغذوں سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔کیش لیس اکانومی میں ایک اہم رکاوٹ عوامی آگاہی اور ڈیجیٹل خواندگی کی کمی ہے۔ آج بھی ملک کے لاکھوں شہری بینک اکانٹ، موبائل والٹ یا آن لائن ادائیگی کے بنیادی طریقوں سے پوری طرح واقف نہیں۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی محدود دستیابی، سائبر سکیورٹی کے خدشات اور بعض مقامات پر بجلی کی عدم دستیابی بھی اس سفر کو سست کر دیتی ہے۔ اس لیے صرف ایپس بنانے سے کام نہیں چلے گا، عوام کا اعتماد بھی حاصل کرنا ہوگا۔اس مقصد کے لیے حکومت کو جامع قانون سازی، مضبوط سائبر سکیورٹی، تیز رفتار انٹرنیٹ، سستے ڈیجیٹل ادائیگی نظام، چھوٹے تاجروں کے لیے مراعات اور تمام سرکاری ادائیگیوں کو مرحلہ وار ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرنا ہوگا۔ ایف بی آر، ریونیو، لینڈ ریکارڈ، پولیس، کسٹمز اور بلدیاتی اداروں میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن کرپشن کے خلاف سب سے مثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ جب ہر فائل، ادائیگی اور ہر منظوری کا الیکٹرانک ریکارڈ موجود ہوگا تو اختیارات کے ناجائز استعمال کے امکانات بھی کم ہوتے جائیں گے۔اس تبدیلی کی بنیاد صرف قانون نہیں تعلیم بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ڈیجیٹل معیشت کی قیادت کریں تو ہمیں اسکول کی سطح سے مالیاتی خواندگی، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ اکیسویں صدی میں صرف رجسٹر، پنسل اور روایتی تدریسی انداز کسی قوم کو عالمی مسابقت میں آگے نہیں لے جا سکتے۔ چین میں چیٹ پے اورعلی پے نے نقد رقم کو غیر معمولی حد تک محدود کر دیا، جبکہ تشہ سویڈن دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نقد رقم کا استعمال انتہائی کم رہ گیا ہے۔ ان ممالک کی کامیابی کا راز صرف جدید ٹیکنالوجی نہیں سیاسی عزم، مثر قانون سازی، عوامی اعتماد اور مسلسل پالیسیوں کا تسلسل ہے۔پاکستان کے پاس بھی موقع موجود ہے۔ اگر حکومت، بینک، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے اور عوام مشترکہ قومی وژن کے تحت آگے بڑھیں تو آئندہ 5 برس میں ملک کی معیشت کا بڑا حصہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل ہو سکتا ہے۔ نتیجے میں کرپشن میں کمی، ٹیکس وصولی میں اضافہ، سرمایہ کاری میں بہتری، کاروباری آسانی اور معاشی استحکام جیسے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔آج دنیا کی دوڑ نوٹ گننے والوں اور ڈیٹا گننے والوں کے درمیان ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم نوٹوں سے چمٹے رہیں گے یا ڈیجیٹل معیشت کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان نقد معیشت سے نکل کر ایک شفاف، دستاویزی، جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی نظام کی طرف بڑھے۔ کیونکہ آنے والے کل میں ترقی کی پہچان جیب میں رکھے ہوئے نوٹ نہیں ہاتھ میں موجود ڈیجیٹل شناخت اور محفوظ مالی نظام ہوگا۔ جو قومیں اس حقیقت کو جلد سمجھ لیں گی، مستقبل ان کا ہوگا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں