امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جون 2026 میں ‘امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ’ کا نام تبدیل کرکے اسے دوبارہ ‘امریکی پیسیفک کمانڈ’ رکھ دیا گیا ہے۔ 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے دور میں خطے میں بھارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اس کمانڈ کے نام میں ‘انڈو’ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے تقریباً چھ سال بعد اس اصطلاح کو ختم کرتے ہوئے اسے پرانے نام پر بحال کر دیا ہے۔پینٹاگون کے واضح بیان کے مطابق نام کی تبدیلی سے کمانڈ کے دائرہ کار، امریکی فوجی حکمت عملی یا زمینی ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ اس پیشرفت کو بین الاقوامی تجزیہ کار خطے کی سیاست میں امریکی ترجیحات کی تبدیلی اور نئی دہلی کی تزویراتی اہمیت کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں۔امریکہ کو ایشیا پیسیفک اور بحر ہند کے خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے بھارت کی شراکت داری اب بھی انتہائی اہم ہے اور خارجہ پالیسی کے ماہرین کے مطابق امریکہ کیلئے بھارت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ بحرالکاہل اور بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی و اقتصادی طاقت کے سامنے امریکہ بھارت کو خطے میں ایک قدرتی اتحادی اور سب سے بڑے توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت پر مشتمل کوآڈ اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ خطے کے دفاع اور سمندری سلامتی کیلئے بھارت کے بغیر آگے بڑھنے کا تصور نہیں کرتا۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان سیمی کنڈکٹرز ، دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور خلائی تعاون کے معاہدے اسٹریٹجک تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔کچھ تجزیوں میں یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے مفادات ہر سطح پر سو فیصد نہیں ملتے، لیکن خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں امریکہ کی جانب سے بھارت کی اہمیت کو کم سمجھنا خارجہ پالیسی کے حقائق کے منافی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔بھارتی میڈیا میں اس حوالے سے بعض خبریں شائع ہوئی ہیں کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کے زیرِ اثر علاقوں کے حوالے سے جو نقشہ شائع کیا گیا ہے، اس میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس نقشے میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی بھارت کے حصے کے طور پر ہی دکھایا گیا ہے۔محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام بحال کرنے کا مقصد اِس کمانڈ کے تاریخی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے کیونکہ یہ کمان ‘بحرالکاہل میں خدمات انجام دینے والے تمام افراد میں فخر اور اجتماعی جذبے کو فروغ دیتی ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی کے ڈھانچے کے قیام میں اس کے اہم کردار سے لیکر کورین جنگ ، ویتنام جنگ اور بے شمار انسانی ہمدردی پر مبنی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی ہم آہنگی تک، یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام دہائیوں پر مشتمل عسکری ورثے اور دیرپا علاقائی شراکت داریوں کی نمائندگی کرتا ہے۔کمانڈ کا بنیادی مشن اور علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ایک آزاد اور کھلے خطے کو برقرار رکھنے کیلئے اس کا غیر متزلزل عزم تبدیل نہیں ہوا ۔ بھارت میں کئی سیاسی رہنماؤں، دفاعی تجزیہ کاروں اور عام صارفین نے اس امریکی اقدام پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور نے اس پیشرفت پر سوال کیا کہ آیا یہ اقدام ‘کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل ہے؟’انڈین دفاعی تجزیہ کار پروین سواہنی اس اقدام کو ‘انتہائی اہم’ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد بھارت کے پاس کوئی سٹریٹجک کردار نہیں رہا۔ ‘سادہ الفاظ میں یہ کہ ایشیا پیسیفک خطے میں اب امریکہ کوبھارت کی کوئی جغرافیائی سیاسی ضرورت نہیں رہی۔’بھارت کا نام نہاد ‘بیک یارڈ’ کہلائے جانے والے جنوبی ایشیائی خطے میں ‘چین اور پاکستان اب جغرافیائی، سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ رکھیں گے۔ کانگریس جماعت میں تحقیق کے شعبے سے وابستہ امیتابھ دوبے نے 2018 میں اس کمان کا نام انڈو پیسیفک رکھنے کی امریکی منطق دہرائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اْس وقت امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ‘ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بحرِ ہند کی اہمیت بڑھ رہی ہے، برصغیر کی اہمیت بڑھ رہی ہے اور یقینی طور پر خودبھارت کی بھی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ اس لیے میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہم حقیقت کی عکاسی کریں اور یہ حقیقت بدل رہی ہے۔”یہ عجیب ہے’ کہ ٹرمپ نے 2018 میں اپنے پہلے دور صدارت کے دوران خود ہی نام تبدیل کیا تھا اور اب 2026 میں دوسرے دورِ صدارت کے دوران اپنے ہی فیصلے کو واپس کیا۔ ٹرمپ 2.0 فعال طور پر انڈو پیسیفک کو ایک جغرافیائی تذویراتی فریم کے طور پر ازسرِنو دیکھ رہے ہیں ۔امریکہ کے مطابق یہ کمان اس لیے اہم ہے کیونکہ اس خطے میں ‘دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں سے دو واقع ہیں جبکہ 14 میں سے 10 سب سے چھوٹی معیشتیں بھی یہیں موجود ہیں۔اس کے زیرِ اثر علاقے میں ‘دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک، سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک’ شامل ہیں۔ایشیا پیسیفک کے ایک تہائی سے زیادہ ممالک چھوٹے جزیرہ نما ممالک ہیں جن میں دنیا کی سب سے چھوٹی جمہوریہ اور ایشیا کی سب سے چھوٹی ریاست بھی شامل ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کمان کا مقصد امریکہ، اس کے عوام اور اس کے مفادات کا تحفظ اور دفاع کرنا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں