

واشنگٹن/تہران: امریکا نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت پر دی گئی عارضی رعایت بھی واپس

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی نوعیت کے مذاکرات بدستور جاری ہیں اور یہ بات چیت پہلے سے جاری سفارتی عمل کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔میڈیا سے

تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی جامع معاہدے پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ابھی نہیں ہوا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران

تل ابیب :اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے ہوجانے کے باوجود لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے صاف انکار کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم

نیویارک :امریکی فوج کے مشرقِ وسطیٰ میں ذمہ دار کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر آج ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی تمام بحری آمدورفت پر عائد ناکہ بندی ختم کردی گئی۔عالمی

تہران :سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مستقبل میں آمنے سامنے مذاکرات کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوگا کہ ایران دشمن کا مؤقف قبول کر لے گا۔ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری تحریری

تہران:ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے کی تفصیلات اور آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر اہم وضاحتیں جاری کی ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری

اسلام آباد:امریکی حکام نے ایران کے ساتھ طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی مزید تفصیلات سے آگاہ کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاہدے کی اس

تہران :واشنگٹن: امریکی حکام نے امریکی ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے ہی دستخط کر دیے ہیں، اور یہ

واشنگٹن: امریکا نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ زیر غور مجوزہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات تک رسائی کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد دونوں اتحادی ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر نئی بحث