بھارت کی انتخابی فہرستوں سے لاکھوں ووٹروں کے نام خارج کیے جانے پر بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں،جن کی قیادت نوجوان کر رہے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹیاس تحریک میں پیش پیش ہے،جبکہ کانگریس جیسی پرانی اور مستحکم اپوزیشن جماعتیں بھی اس میں سرگرمی سے حصہ لے رہی ہیں۔ان تمام گروہوں کو جو چیز یکجا کرتی ہے،وہ یہ شبہ ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کیا ہے۔اس سال کے اوائل میں، نوجوانوں کی زیرِ قیادت سی جے پی نے امتحانات میں بے قاعدگیوں پر وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف ایک بڑی مہم چلائی تھی۔یہ تحریک وزیر کو ہٹانے میں کامیاب رہی،اور اس میں شامل نوجوانوں کے جوش و خروش نے بی جے پی حکومت کو حیران کر دیا۔اس بار بھی،بھارتی حکمرانوں نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے؛راہول گاندھی اور سی جے پی کے رہنماں سمیت ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے،اور دہلی میں احتجاج کیلئے مشہور مقام جنتر منتر تک رسائی بھی بند کر دی گئی ہے۔انتخابی فہرستوں سے تقریبا 130 ملین نام ہٹا دیے گئے ہیں۔بھارتی انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے نام خارج کیے گئے ہیں،ان میں وہ ووٹرز شامل ہیں جو وفات پا چکے ہیں،کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں،یا جن کا سراغ نہیں مل سکا۔تاہم، بھارتی اپوزیشن نے اس وضاحت کو مسترد کر دیا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ خارج کیے گئے ووٹرز میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔اس کے علاوہ دیگر پسماندہ یا حاشیے پر دھکیلے گئے گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔مزید برآں،میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی الیکشن کمشنر جن کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے نے اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام خارج کرنے کیخلاف کمیشن کے اندر سے اٹھنے والے اعتراضات کو نظر انداز کر دیا۔انتخابی فہرستوں سے اس طرح ناموں کا اخراج،بی جے پی حکومت کی جانب سے کمزور اور پسماندہ گروہوں کو حاشیے پر دھکیلنے کی پالیسی کے عین مطابق ہے ۔ ماضی میں بھی،مسلمانوں کے ووٹ خارج کرنے کیلئے قانونی جنگاور مشکوک ہتھکنڈوں کا سہارا لیا گیا ہے؛نیشنل رجسٹر آف سٹیزنزکے ذریعے لاکھوں افراد کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کر دیا گیا تھا۔اس سے پہلے،بی جے پی اور اس کے ہندوتوا نظریے کے حامی،بھارتی مسلمانوں کے حقوق پامال کر کے بھی بچ نکلتے تھے،لیکن اب ان کی یہ چالیں کارگر ثابت نہیں ہو رہیں۔ایسا لگتا ہے کہ بھارت کی دیگر برادریاں بھی ہندوتوا کے کھوکھلے وعدوں اور جائز و ناجائز طریقوں سے بھارت کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوششوں سے تنگ آ چکی ہیں۔امید ہے کہ اس ہنگامہ خیزی کے بیچ سے ایک ایسا منصفانہ نظام جنم لے سکے گا،جس میں ہندوستان کی تمام برادریوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔
ملتان میں ٹرین کا حادثہ
پاکستان کے کئی پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں میں،ریل کا سفر نقل و حمل کا ایک محفوظ اور کم خرچ ذریعہ ہے۔لیکن ہمارے ملک میں ریل کا سفر خطرناک ہو سکتا ہے،جیسا کہ منگل کی صبح ملتان کے قریب پشاور جانے والیرحمان بابا ایکسپریسکے پٹری سے اترنے کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے۔درحقیقت ہمارے ریلوے نیٹ ورک پر ٹرینوں کا پٹری سے اترنا اور دیگر حادثات بہت عام ہیں، کیونکہ دہائیوں سے ریلوے کو درکار فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔اس المناک حادثے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے،جس کی وجہ مکینیکل خرابیبتائی جا رہی ہے ۔ وفاقی وزیرِ ریلوے کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔بلاشبہ،جب ریلوے نیٹ ورک کی مجموعی حالت کی بات ہو تو تحقیقات کیلئے بہت کچھ موجود ہے۔میڈیا میں آنیوالے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ٹرین حادثات کے کم از کم 35 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2025 میں ایسے 95 واقعات پیش آئے تھے۔وہ بہتری لانے کیلئے کام کر رہے ہیں ،جیسے کہ اسٹیشنوں کو ڈیجیٹل بنانا اور وائی فائی کی سہولت فراہم کرنا۔لیکن جب بنیادی ڈھانچے کی مکمل اصلاح کی بات آتی ہے خاص طور پر سگنلنگ کے نظام اور پٹریوں کو جدید بنانے کی تو ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔پاکستان کے پاس اپنے ریلوے نظام کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک منصوبہ موجود ہے؛تاہم اس میں فنڈز کی شدید کمی ہے جس کیلئے اربوں ڈالر درکار ہیں اور ساتھ ہی اس جدید کاری کے منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے ریاست کی جانب سے ٹھوس عزم کا بھی فقدان ہے۔شاید سرکاری حلقوں میں اس لیے سستی پائی جاتی ہے کیونکہ اشرافیہ اب ریل کا سفر نہیں کرتی۔وزیراعظم نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ ایم ایل ون منصوبے پر پیشرفت دیکھنا چاہتے ہیں؛اس کے آغاز کیلئے جنوری 2027 کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔تاہم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس میگا پروجیکٹ کیلئے پہلے بھی کئی بار تاریخوں کا اعلان کیا گیا جو گزر گئیں۔مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور قومی ریلوے نیٹ ورک میں انتہائی ضروری بہتری لانے کیلئے حکام کو چاہیے کہ وہ وقت کاتعین کریں،فنڈز کا بندوبست کریں اور بغیر کسی تاخیر کے کام کا آغاز کریں۔ایک جدید مسافر اور مال بردار ریل نیٹ ورک نمایاں معاشی فوائد لا سکتا ہے اور ساتھ ہی ملک کے اندر نیز پڑوسی ریاستوں کے ساتھ رابطوں کو بہتر بناسکتا ہے۔
روسی مساوات
عالمی طاقت کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے دوبارہ تشکیل پا رہا ہے۔پرانے اتحاد تبدیل ہو رہے ہیں،اثر و رسوخ کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں،اور جغرافیائی سیاسی نظام تیزی سے بدل رہا ہے ۔ پاکستان محض ایک خاموش تماشائی بنے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اسے ایک فعال اور کثیر جہتی کردار ادا کرنے والا فریق بننا ہوگا،جو طاقت کے مختلف اور مسابقتی مراکز کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔جیسا کہ کہاوت ہے:”اگر آپ میز پر شامل نہیں ہیں،تو پھر آپ خود ‘مینوکا حصہ بن سکتے ہیں۔”اس حساب کتاب میں،شاید روس کے ساتھ تعلقات سب سے زیادہ توجہ کے طلبگار ہیں۔چین ہمارا ‘آہنی بھائی’ ہے،ایران ہمارا ثقافتی پڑوسی اور خطے میں ابھرتی ہوئی طاقت ہے، خلیجی ممالک ہمارا روحانی اور مذہبی مرکز ہیں،جبکہ امریکہ اور نیٹو ہمارے دیرینہ اسٹریٹجک اور عسکری شراکت دار ہیں۔تاہم،روس پاکستانی سفارت کاری کا وہ بڑا’نامکمل باب’ہے جسے ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔کبھی حریف اور بھارت کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حامی رہنے والا ماسکو،اب اسلام آباد کو اپنی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کو نئے سرے سے تشکیل دینے کا موقع فراہم کر رہا ہے ۔ یہ دیکھنا حوصلہ افزا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادتیں اس موقع کی اہمیت کو سمجھ رہی ہیں۔روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کا دورہ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ان کی ملاقات،اور مجرموں کی حوالگی،منظم جرائم اور سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے مجوزہ معاہدے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلقات اب محض سفارتی خوش اخلاقی سے آگے بڑھ کر عملی تعاون کی جانب گامزن ہیں۔اس سمت میں پیش قدمی کرنے پر دونوں ملکوں کی قیادتیں تعریف کی مستحق ہیں۔توانائی، سیکیورٹی، تعلیم اور تجارت کے شعبوں میں تعاون ان تعلقات کو مضبوط بنا سکتا ہے جو طویل عرصے سے اپنی پوری صلاحیت تک نہیں پہنچ سکے تھے۔اس کے پیچھے کارفرما جغرافیائی اور اسٹریٹجک منطق سے انکار ممکن نہیں۔یوریشیا کے ممالک آپس میں قریب آ رہے ہیں۔چین، روس، ایران اور پاکستان اس وسیع خطے میں انتہائی اہم مقامات پر واقع ہیںجو منڈیوں، وسائل، تجارتی راہداریوں اور اسٹریٹجک مفادات کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ان کے درمیان تعاون اب ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس سے پاکستان کے دیگر موجودہ تعلقات کمزور پڑ جائیں گے۔کثیر جہتی سفارت کاری کا مطلب ہی یہ ہے کہ’دو میں سے کسی ایک’ کے انتخاب کی مجبوری سے بچا جائے۔پاکستان کو ماسکو کے ساتھ تعلقات کو اتنی ہی سنجیدگی سے استوار کرنا چاہیے جتنی سنجیدگی وہ بیجنگ، واشنگٹن اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ تعلقات میں برتتا ہے ۔ بدلتی ہوئی دنیا میں،تزویراتی اہمیت ان اقوام کو حاصل ہوتی ہے جو ہر ابھرتے ہوئے طاقت کے مرکز کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں