بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.9°C
Friday, 16 October 2026 | پاکستان: 6 جمادی الاول 1448

جمہوری تماشے!

Friday, 16 October, 2026

المیہ ہمارا یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی احتساب، شفافیت اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے تو فوراً جمہوریت کے خطرے میں ہونے کا شور بلند ہونے لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت چند سیاسی شخصیات، خاندانوں اور اقتدار کے ایوانوں تک محدود رہنے والے عناصر کا نام ہے؟ کیا عوام کو صرف ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، جبکہ حکومت سازی، پالیسیوں کی تشکیل اور قومی وسائل کی تقسیم کے فیصلے چند مخصوص افراد کرتے رہیں؟ اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر عوامی حکمرانی اور شخصی اقتدار میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟ جمہوریت کا اصل مفہوم عوام کی حکمرانی، قانون کی بالادستی، آزادی اظہار، سیاسی جواب دہی اور شہریوں کے مساوی حقوق سے عبارت ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کو اکثر اقتدار کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب اقتدار میں موجود لوگوں سے سوال کیا جائے تو اسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا جاتا ہے، اور جب مخالفین کے خلاف کارروائی ہو تو احتساب کے نام پر اس کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو جمہوری اقدار پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ احتساب اگر حقیقی جمہوری اصول ہے تو اس کا اطلاق بلاامتیاز ہونا چاہیے؛ نہ کوئی شخص اپنے منصب کی وجہ سے قانون سے بالاتر ہو اور نہ کسی سیاسی اختلاف کی بنا پر قانون کو انتقام کا ہتھیار بنایا جائے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کا سفر بار بار سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی تنازعات، اقتدار کی رسہ کشی اور عوامی مینڈیٹ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات سے متاثر ہوا ہے۔ کبھی پارلیمان کی بالادستی موضوعِ بحث بنتی ہے، کبھی انتخابی شفافیت، کبھی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور کبھی ریاستی اداروں کے اختیارات۔ ان تمام معاملات میں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا ریاست کا نظام عوام کی خواہشات اور آئینی اصولوں کے مطابق چل رہا ہے، یا عوام کو محض سیاسی نعروں اور وعدوں کے ذریعے مطمئن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے؟سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، لیکن اگر انہی جماعتوں کے اندر قیادت کی منتقلی، فیصلہ سازی اور تنظیمی انتخابات کا عمل شفاف نہ ہو تو جمہوری کلچر کیسے مضبوط ہو سکتا ہے؟ ہمارے سیاسی منظرنامے میں موروثی قیادت اور خاندانی اثرورسوخ ایک اہم بحث ہے۔ جب جماعتوں کی قیادت مسلسل چند خاندانوں کے گرد گھومتی رہے، ٹکٹوں کی تقسیم میں وفاداری اور ذاتی تعلقات کو اہمیت حاصل ہو اور عام کارکن کے لیے قیادت تک پہنچنے کے مواقع محدود ہوں تو سیاسی عمل میں مساوی شرکت کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی امین ہوتی ہیں۔ ان کی اصل قوت شفاف تنظیمی ڈھانچے، اہل قیادت، نظریاتی وابستگی اور کارکنوں کی حقیقی شرکت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جمہوری نظام کے استحکام کیلئے پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ، انتخابی اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کا اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہنا ضروری ہے۔ اسی طرح سیاسی قیادت پر بھی لازم ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھے، تنقید کو برداشت کرے اور اپنی کارکردگی کا جواب عوام کے سامنے دے۔ جمہوریت محض انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں؛ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں اقتدار رکھنے والوں کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے اور شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کا حقیقی حق حاصل ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ معاشی ناہمواری بھی ہے۔ ایک طرف دولت، کاروباری مواقع اور وسائل تک رسائی چند طبقات کیلئے نسبتاً آسان ہے جبکہ دوسری طرف عام شہری مہنگائی، بیروزگاری، کم آمدنی، ناقص تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل سے نبردآزما ہے۔ جب ایک مزدور اپنے بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہو، جب نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں دربدر ہو اور جب عام آدمی انصاف کے حصول کیلئے طویل انتظار پر مجبور ہو تو اس کیلئے جمہوریت کی کامیابی کا پیمانہ سیاسی تقریریں نہیں بلکہ اس کی زندگی میں آنے والی بہتری ہوتی ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا معاشی انصاف کے بغیر سیاسی جمہوریت اپنی تمام تر معنویت برقرار رکھ سکتی ہے؟ یقیناً سیاسی آزادی اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن اگر عام شہری کو معاشی تحفظ، معیاری تعلیم، صحت اور انصاف میسر نہ ہو تو اس کی عملی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں دولت اور اثرورسوخ فیصلوں پر غیر معمولی اثر انداز ہوں، وہاں مساوی مواقع کا تصور محض نعرہ بن کر رہ جانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، ٹیکس کے شفاف نظام، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے شہریوں کو باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنائے ۔ جمہوریت کے نام پر عوام کو خواب دکھانا آسان ہے لیکن ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کیلئے دیانت دارانہ حکمرانی، مضبوط ادارے اور واضح احتساب درکار ہیں۔ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن، نااہلی اور بدانتظامی کے الزامات عائد کرتی رہتی ہیں، مگر عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں بہتری لانے کیلئے عملی اقدامات کیا کیے گئے؟ قومی خزانے کے استعمال میں شفافیت کتنی ہے؟ تعلیم اور صحت کیلئے وسائل کس انداز میں خرچ کیے جا رہے ہیں؟ قانون کا اطلاق عام شہری اور بااثر شخص پر یکساں کیوں نہیں دکھائی دیتا؟ یہ سوالات کسی ایک جماعت یا حکومت کے خلاف نہیں بلکہ پورے سیاسی اور انتظامی نظام کے سامنے رکھے جانے چاہییں۔جب کوئی حکمران تنقید برداشت کرنے کے بجائے اختلاف کرنیوالوں کو دشمن قرار دینے لگے، جب دولت مند طبقہ اپنے معاشی اثرورسوخ کو عوامی مفاد پر ترجیح دے اور جب سیاسی یا مذہبی وابستگی کو سچائی جانچنے کا پیمانہ بنا لیا جائے تو معاشرے میں سوال اٹھانے اور خود احتسابی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم کسی بھی معاصر سیاسی شخصیت یا جماعت کے بارے میں فیصلہ محض تاریخی کرداروں سے تشبیہ دے کر نہیں بلکہ اس کے طرزِ عمل، پالیسیوں اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ تاریخ کا اصل سبق یہی ہے کہ اقتدار کی قوت عارضی ہوتی ہے، لیکن عدل، دیانت اور انسانی حقوق کی اہمیت مستقل رہتی ہے۔ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ سیاسی اور سماجی تقسیم ہے۔ زبان، نسل، علاقہ، فرقہ اور جماعتی وابستگی کی بنیاد پر اختلافات کو اس حد تک بڑھا دیا جاتا ہے کہ مشترکہ قومی مفادات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سیاسی کارکن اپنے مخالف کو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اس کی تضحیک پر اتر آتا ہے، سوشل میڈیا پر افواہیں اور غیر مصدقہ الزامات پھیلتے ہیں اور سنجیدہ مکالمے کی جگہ الزام تراشی لے لیتی ہے۔ اس طرزِ سیاست سے نہ جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور نہ قومی یکجہتی۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کی خوب صورتی ہے، لیکن اختلاف کو نفرت میں تبدیل کرنا اجتماعی نقصان کا باعث بنتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری روایات کو فروغ دیں، انتخابات کے عمل کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، پارلیمان کو عوامی مسائل پر بحث کا حقیقی مرکز بنایا جائے اور احتساب کے اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد، قانونی تقاضوں کا پابند اور شفاف رکھا جائے۔ آزاد صحافت، ذمہ دارانہ اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی بھی اسی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ اسی طرح عوام کو بھی شخصیات کے سحر سے نکل کر منشور، کارکردگی، پالیسیوں اور کردار کی بنیاد پر سیاسی قیادت کا جائزہ لینا ہوگا۔جمہوریت کے نام پر ہونے والے تماشے اسی وقت ختم ہوں گے جب عوام کو محض ووٹر نہیں بلکہ ریاست کا بااختیار شہری تسلیم کیا جائے گا۔ اقتدار کسی کی خاندانی جاگیر نہیں، دولت کسی کی ابدی اجارہ داری نہیں اور شرافت کسی طبقے کا مخصوص اعزاز نہیں۔ ریاست کی اصل کامیابی اس میں ہے کہ اس کا کمزور ترین شہری بھی عزت، انصاف اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *