بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.9°C
Friday, 16 October 2026 | پاکستان: 6 جمادی الاول 1448

ٹی ٹی پی: سرحد پار سے آنیوالا خطرہ

Friday, 16 October, 2026

پاکستان دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کی قیمت اس کے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوجی جوانوں نے اپنے خون سے ادا کی ہے۔ اس جنگ کا سب سے سنگین چیلنج آج تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے، جسے ریاستِ پاکستان “فتنہ الخوارج” کہتی ہے۔ پاکستان کا مقف واضح ہے: یہ گروہ پاکستانی عوام کا دشمن ہے، اور اس کی سب سے بڑی طاقت وہ سرحد پار پناہ گاہیں ہیں جو اسے افغان سرزمین پر میسر ہیں۔ٹی ٹی پی 2007 میں وجود میں آئی اور اس کی قیادت اب نور ولی محسود کے پاس ہے۔ اس نے بارہا مساجد، بازاروں، اسکولوں اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے دردناک زخم، 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ، اسی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ اس سانحے کے بعد پوری قوم نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایک ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے کا عہد کیا، اور ریاست آج بھی اسی عزم پر قائم ہے۔اس سال کے اعداد و شمار اور آزاد تھنک ٹینک PICSS کے مطابق ستمبر 2026 میں 225 عسکریت پسند حملے ریکارڈ ہوئے جو بارہ سال میں کسی ایک ماہ کی سب سے بلند تعداد ہے، جبکہ جولائی میں 112 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ یہ محض اعداد نہیں، ہر عدد کے پیچھے ایک ماں، ایک بیوہ اور ایک یتیم بچہ ہے۔ 8,000 سے زائد پولیس اہلکاروں کی قربانیاں اس جدوجہد کی گواہ ہیں، اور پاکستان کی پولیس آج بھی سب سے پہلے خطرے کا سامنا کرتی ہے۔ستمبر میں کوہاٹ میں پولیس کمپلیکس کی مسجد پر کار بم حملے میں 23 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، اور چند روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ ہوا۔ ایک ایسی جگہ، جہاں لوگ عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں، نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان گروہوں کا اسلام یا کسی بھی اخلاقی اصول سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کا اصولی موقف یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیتی مراکز اور رسد کا نظام افغانستان میں موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 6,000 ٹی ٹی پی جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں، اور اسی طرح القاعدہ اور داعش خراسان جیسے گروہوں کی موجودگی کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے بارہا افغان عبوری حکومت کو ثبوت اور معلومات فراہم کیں، لیکن ٹھوس کارروائی نظر نہیں آئی۔ کابل اس مقف سے اختلاف کرتا رہا ہے، مگر پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ کوئی پڑوسی ملک اپنی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔پاکستان کا یہ بھی مقف ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ بیرونی سرپرستی کے بغیر اتنے منظم نہیں ہو سکتے۔ بیانیے میں انہیں “بھارت کے سرپرست” اور “پراکسی” کہا جاتا ہے، خصوصا بلوچستان کے تناظر میں، جہاں کارروائیوں کو “فتنہ الہندوستان” کے خلاف آپریشن قرار دیا جاتا ہے۔ اس بیانیے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک منظم بیرونی دبا کا سامنا ہے۔اس خطرے کے جواب میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز ہمیشہ کی طرح ثابت قدم ہیں۔ عزمِ استحکام اور ردالفتنہ-3 جیسے آپریشنز کے تحت شمالی وزیرستان، مستونگ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق صرف اکتوبر 2026 کے آغاز میں درجنوں دہشت گرد مارے گئے اور بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ ان دعوں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے، مگر ریاست کا عزم اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانی قربانیاں اپنی جگہ حقیقت ہیں۔اکتوبر 2025 میں جب سرحدی کشیدگی نے دس روزہ لڑائی کی صورت اختیار کی تو پاکستان نے واضح کر دیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا ہدف عام افغان نہیں بلکہ وہ عناصر ہیں جو پاکستان میں خونریزی کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان آج بھی افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن امن کی بنیاد باہمی ذمہ داری پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں، پورے خطے کا ہے۔ اگر عسکری گروہوں کو پناہ گاہیں ملتی رہیں تو اس کے اثرات وسطی ایشیا، چین اور پورے جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں تشدد سرمایہ کاری اور تجارت کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اور استحکام کے بغیر کوئی علاقائی ترقی ممکن نہیں۔ اسی لیے پاکستان بار بار علاقائی تعاون اور قابلِ تصدیق اقدامات پر زور دیتا ہے۔ پاکستان کی اس جدوجہد کو صرف طاقت کے استعمال تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ پولیس کو جدید آلات اور تربیت، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کا خاتمہ، انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ، اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں کا اعتماد جیتنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کامیابی کا اصل پیمانہ مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد نہیں، بلکہ وہ دن ہے جب پاکستان کے بازار، مساجد اور اسکول مکمل طور پر محفوظ ہوں گے۔پاکستان کے عوام نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ شہدا کا لہو ریاست کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے کے ممالک اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی مشترکہ ذمہ داری سے ہی ممکن ہے، اور پاکستان کے امن کا مطلب پورے خطے کا امن ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *