پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ یہ سیاسی بصیرت، آئینی جدوجہد، فکری پختگی اور عزمِ مسلسل کی ایک ایسی داستان ہے جس نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ نظری پاکستان نے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کے حصول کیلئے فکری رہنمائی فراہم کی اور قائداعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت میں یہ خواب کسی تشدد، دہشت گردی یا خون ریزی کے ذریعے نہیں، بلکہ دلیل، مذاکرات، سیاسی حکمت اور منظم جدوجہد کے نتیجے میں حقیقت بنا۔ اس عظیم جدوجہد میں مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں، لیکن ان کی منزل ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں انسانی وقار، آزادی، تحفظ اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ حاصل ہو۔ یہی تاریخی ورثہ پاکستان کے تصورِ امن کی بنیاد ہے۔ امن کمزوری نہیں، بلکہ حکمت، صبر، تدبر اور ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کیلئے غیر متزلزل عزم کا نام ہے۔اگست 1947 میں آزادی کے بعد پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ پرامن تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، امن کی خواہش کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قومی خودمختاری اور دفاع کے حق پر سمجھوتا کر لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک طرف وطن کی سرحدوں اور خودمختاری کی محافظ ہیں تو دوسری طرف علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں پاک بحریہ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، کیونکہ آج کے دور میں سمندر صرف پانی کی وسعتوں کا نام نہیں، بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل، معاشی ترقی اور تزویراتی سلامتی کی بنیادی گزرگاہ ہیں۔دنیا کی معیشت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے وابستہ ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل سے لے کر خوراک، صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک، عالمی تجارت کی روانی سمندروں کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر بحری قزاقی، دہشت گردی، غیر قانونی اسمگلنگ یا عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی ان راستوں کو متاثر کرے تو اس کے اثرات کسی ایک ساحل یا ملک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس لیے سمندری تحفظ کسی ایک ریاست کی انفرادی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ تمام بحری اقوام کا مشترکہ فریضہ ہے۔اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے پاک بحریہ نے 2007 میں کثیرالقومی بحری مشق امن کا آغاز کیا۔ اس اقدام کا بنیادی نعرہ تھا: امن کے لیے متحد۔ یہ نعرہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے تصور کی ترجمانی کرتا ہے جس کے تحت مختلف سیاسی نظاموں، جداگانہ تزویراتی مفادات اور مختلف سلامتی ترجیحات رکھنے والے ممالک ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اس مشق کا مقصد صرف بحری قوت کا مظاہرہ کرنا نہیں، بلکہ مختلف ممالک کی بحری افواج کو ایک دوسرے کے قریب لانا، مشترکہ تربیت کے ذریعے پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور سمندری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یوں پاکستان نے سمندر کو تقسیم اور رقابت کی علامت بنانے کے بجائے اقوام کے درمیان رابطے اور اعتماد کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔امن مشق کا سفر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ عالمی برادری میں اس اقدام کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مارچ 2007 میں منعقد ہونے والی پہلی مشق میں 28 ممالک نے شرکت کی، جب کہ 2017 میں یہ تعداد 34 اور 2019 میں 46 تک پہنچ گئی۔ امن 2023 میں 49 ممالک کی شرکت نے اس سلسلے کو مزید وسعت دی۔ پھر فروری 2025 میں شمالی بحیر عرب میں منعقد ہونے والی نویں مشق میں 58 ممالک کی شرکت نے اسے ایک نمایاں عالمی بحری سرگرمی کے طور پر اجاگر کیا۔ مختلف ممالک کے بحری جہازوں، خصوصی دستوں، دفاعی حکام اور مبصرین کی شرکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سمندری سلامتی کے مشترکہ تقاضے قومی سرحدوں اور سیاسی اختلافات سے کہیں آگے کی حقیقت ہیں۔ان مشقوں کی اصل کامیابی شریک ممالک کی تعداد یا بحری جہازوں کی کثرت میں نہیں، بلکہ ان روابط میں پوشیدہ ہے جو مختلف قوموں کے درمیان قائم ہوتے ہیں۔ جب مختلف ممالک کے بحری اہلکار ایک دوسرے کے ساتھ تربیت حاصل کرتے ہیں، تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں اور مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو پیشہ ورانہ ہم آہنگی کے ساتھ باہمی اعتماد بھی فروغ پاتا ہے۔
(……جاری ہے)







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں