بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 18.3°C
Friday, 16 October 2026 | پاکستان: 6 جمادی الاول 1448

مودی کا سیاسی مستقبل ؟

Friday, 16 October, 2026

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا سیاسی اقتدار اور کرشمہ مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوا، لیکن حالیہ برسوں (خصوصاً 2024 کے عام انتخابات اور موجودہ 2026 کے حالات) میں اس میں واضح گراوٹ اور تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں اور عوامی جائزوں کے مطابق، مودی اب پہلے کی طرح ناقابلِ شکست نظر نہیں آتے، بلکہ ان کے سیاسی دبدبے کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت کے مقامی سروے India Today–CVoter Mood of the Nation (August 2026) کے مطابق، مودی اب بھی وزیرِ اعظم کے لیے پہلی پسند ہیں، لیکن انہیں اگلے وزیرِ اعظم کے طور پر دیکھنے کی عوامی شرح 48.7 فیصد پر آ گئی ہے، جو جنوری 2026 میں 55فیصد تھی۔ طویل مدتی ٹریکرز ظاہر کرتے ہیں کہ 2021 میں جو مقبولیت 70 فیصد تھی، وہ اب کم ہو کر 58فیصد تک گر چکی ہے۔2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی واضح اکثریت کھو بیٹھی تھی اور اسے حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں کا سہارا لینا پڑا۔ مودی، جو گزشتہ 10 سال سے یکطرفہ اور جارحانہ فیصلے کرنے کے عادی تھے، اب انہیں نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو جیسے اتحادیوں کی مرضی کو شاملِ حال رکھنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے سخت فیصلوں کی طاقت کمزور ہوئی ہے۔2026 میں مودی سرکار کو بھارت کے اندر شدید عوامی غصے اور احتجاج کا سامنا ہے۔بے روزگاری، مہنگائی، دیہی علاقوں میں خشک سالی اور اجرتوں میں جمود کی وجہ سے مودی کے معاشی ماڈل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نوجوانوں میں امتحانی پیپرز کے لیک ہونے اور ملازمتیں نہ ملنے پر گہری مایوسی پائی جاتی ہے۔ راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اب پہلے سے زیادہ منظم اور جارحانہ انداز میں مودی حکومت کو ٹف ٹائم دے رہی ہیں، جس سے بی جے پی کا سیاسی تسلط کمزور ہوا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے بھارت کو عالمی سطح پر ناگزیر بنا دیا ہے، حالیہ تنازعات کی وجہ سے دباؤ میں ہے۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں تعطل، کینیڈا کے ساتھ سفارتی کشیدگی، اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں بھارت کے روایتی اثر و رسوخ میں کمی جیسے عوامل نے مودی کے بین الاقوامی امیج کو متاثر کیا ہے۔نریندر مودی کا اقتدار مکمل طور پر زوال پذیر نہیں ہوا کیونکہ وہ اب بھی بھارتی سیاست کا سب سے بڑا چہرہ ہیں۔ تاہم، ان کے اقتدار کا سنہری اور ناقابلِ تسخیر دور اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، اور وہ اپنے تیسرے دورِ حکومت میں ایک کمزور اور سمجھوتہ کار وزیرِ اعظم کے طور پر ابھرے ہیں۔اگر ہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شخصیت، ان کی جماعت بی جے پی اور ان کے ماضی کے بیانات کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت نے نفرت، اشتعال اور شدت پسندی کو اپنی سیاست کا محور بنایا ہوا ہے۔درحقیقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت شدید ذہنی کیفیت اور سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ بھارتی عوام کو ایک بار پھر جنگی جنون میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دنیا بھر میں جمہوری اقدار اور بین الاقوامی آداب کی روشنی میں، ریاستی سربراہان کو ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ وہ دنیا کے سامنے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پورے نظام کا نظریاتی عکس ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ نریندر مودی اپنے منصب کی حرمت کو بار بار پامال کرتے نظر آتے ہیں۔ نریندر مودی اور بی جے پی کی سیاست کا محور ہی نفرت اور تعصب ہے۔ اس جماعت نے اپنی بنیاد ہی ہندو انتہا پسندی پر رکھی ہے۔ پاکستان دشمنی ان کے سیاسی منشور کا لازمی حصہ ہے۔داخلی مسائل، معاشی بحران، بیروزگاری اور بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کے لیے بی جے پی ہمیشہ بیرونی دشمن کھڑا کرتی ہے، اور پاکستان اس کے لیے سب سے آسان ہدف ہوتا ہے۔آج بھارت میں بی جے پی کی مقبولیت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، اس لیے ایک بار پھر جنگی جنون کو ہوا دے کر ووٹرز کو اپنی جانب مائل کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔مودی کے اشتعال انگیز رویے کے پیچھے ایک بڑی وجہ پہلگام واقعہ اور اس کے بعد 10 مئی کو پاکستان کے ساتھ ہونے والی جنگ میں بھارتی فوج کی شکست ہے۔ پہلگام میں پیش آنے والا واقعہ (جس کی مکمل چھان بین ابھی باقی ہے) کو مودی حکومت نے فوری طور پر پاکستان سے جوڑ دیا اور اس کے نتیجے میں جنگ چھیڑ دی گئی۔ لیکن یہ جنگ بھارت کے لیے ہر لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوئی، نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے مکمل تدبر، عسکری مہارت اور تحمل کے ساتھ دشمن کی ہر چال کو ناکام بنایا۔ پاکستانی افواج نے دفاعی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔یہی شکست مودی حکومت کے لیے سیاسی، عسکری اور سفارتی محاذوں پر زبردست دھچکہ ثابت ہوئی، جس کا بدلہ وہ اب اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *