بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 18.3°C
Friday, 16 October 2026 | پاکستان: 6 جمادی الاول 1448

امتِ مسلمہ کا اتحاد اور بڑی طاقتوں کے عزائم

Friday, 16 October, 2026

تاریخ ایک سخت گیر استاد ہے، مگر جو قومیں اس کے اسباق سے سیکھنے سے انکار کر دیتی ہیں، وہ اپنے ماضی کے المیوں کو بار بار دہرانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ عالمِ اسلام جسے قدرت نے بے پناہ قدرتی وسائل ، تذویراتی اہمیت کے حامل جغرافیے، مشترکہ عقیدے اور ایسی تہذیب سے نوازا جس نے کبھی علم و حکمت کے چراغ سے پوری دنیا کو منور کیا تھا۔ بدقسمتی سے اکثر باہمی انتشار، کمزوری اور طاقت ور اقوام کے عزائم کا ہدف بنتا رہا ہے۔ غور طلب سوال یہ ہے کہ آیا یہ تمام مصائب محض ہماری داخلی کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں یا بیرونی طاقتیں بھی اپنے تذویراتی مفادات کی تکمیل کیلئے مسلم دنیا کے اختلافات اور باہمی تنازعات سے مسلسل فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔قرآنِ حکیم اہلِ ایمان کو ایک ایسی تنبیہ کرتا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی سور المائدہ کی آیت 51 میں ارشاد فرماتا ہے: اے ایمان والو! یہود و نصاری کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بنا؛ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور سرپرست ہیں۔ اور تم میں سے جو کوئی انہیں اپنا سرپرست بنائے گا، تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یہ آیت مسلمانوں کو اس امر کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات اور اتحاد کے معاملات میں بیدار مغز رہیں اور ایسے اتحادوں سے محتاط رہیں جو امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات اور اس کی خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔مشرقِ وسطی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علاقائی رقابتوں، بیرونی مداخلتوں اور سیاسی غلط فہمیوں نے بارہا مسلم معاشروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔ ستمبر 1980 میں عراق کے ایران پر حملے سے شروع ہونے والی ایران عراق جنگ آٹھ برس تک جاری رہی، جس میں دونوں ممالک کو انسانی جانوں اور معاشی وسائل کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد 1990 میں عراق کے کویت پر حملے نے خلیجی خطے کو ایک اور تباہ کن تصادم سے دوچار کر دیا۔ ان واقعات کے پس منظر میں مخصوص علاقائی عزائم اور سیاسی فیصلے کارفرما تھے، لیکن اس دوران بیرونی طاقتوں نے بھی پیدا ہونے والے عدم استحکام میں اپنے مفادات کی راہیں تلاش کیں۔ اس سارے المیے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کیخلاف لڑتے ہوئے اپنے وسائل کھوتے رہے، جبکہ ان کے عوام نے اپنے پیاروں کی جدائی، بے گھری اور معاشی تباہی کا بوجھ اٹھایا۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان رقابت نے بھی خطے کے سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ مسلکی اختلافات، علاقائی بالادستی کی خواہشات اور بالواسطہ جنگوں نے بیرونی مداخلت کے لیے راستے ہموار کیے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے خلیجی بادشاہتوں کے ساتھ وسیع تر دفاعی اور سلامتی کے تعلقات قائم کیے، جبکہ مشرقِ وسطی میں اسرائیل کی سلامتی امریکی پالیسی کا ایک مرکزی جزو رہی۔ ان انتظامات کو اگرچہ تحفظ کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے، تاہم ان کے نتیجے میں تزویراتی انحصار بھی جنم لیتا ہے اور بیرونی طاقتوں کو علاقائی معاملات پر نمایاں اثرانداز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کسی بھی قوم کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جو طاقت اس کی محافظ بننے کا دعوی کرتی ہے، اس کے اپنے مفادات بھی ہو سکتے ہیں، جو لازما اس کے اتحادیوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہوتے ۔عرب سپرنگ کے بعد رونما ہونیوالے واقعات نے بھی کئی تلخ اسباق چھوڑے۔ 2010 میں شروع ہونے والی عوامی تحریکوں نے عرب دنیا کے متعدد ممالک میں برسوں سے قائم سیاسی نظاموں کو چیلنج کیا۔ مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کو جولائی 2013 میں فوج نے اقتدار سے ہٹا دیا۔ لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے میں معاون ثابت ہونے والی مداخلت کے بعد طویل بدامنی نے جنم لیا، جبکہ شام اندرونی دھڑوں اور متعدد بیرونی طاقتوں کے مابین ایک تباہ کن میدانِ جنگ بن گیا۔ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ان تمام واقعات کو کسی ایک مرکز سے چلائی جانے والی سازش کا نتیجہ قرار نہ دیا جائے؛ ان کے اسباب میں آمرانہ طرزِ حکومت، عوامی محرومیاں، داخلی رقابتیں اور بین الاقوامی مداخلت سب شامل تھے۔ تاہم ان کے نتائج نے اس خدشے کو تقویت ضرور دی کہ بیرونی مداخلت، خواہ اسے کتنے ہی خوش نما مقاصد کے ساتھ پیش کیا جائے، مسلم معاشروں کو پہلے سے زیادہ منقسم اور کمزور بنا سکتی ہے ۔عراق اس امر کی شاید سب سے واضح مثال ہے کہ بڑی طاقتوں کی یقین دہانیوں کو آزادانہ تحقیق اور تنقیدی جائزے کے بغیر قبول کرنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کا ایک بنیادی جواز بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کو قرار دیا گیا تھا۔ بعد کی تحقیقات میں وہ ذخائر برآمد نہ ہو سکے جنہیں جنگ کے جواز کے طور پر نمایاں کیا گیا تھا۔ اس حملے نے عراق کے موجودہ سیاسی نظام کو تباہ کر دیا، برسوں پر محیط تشدد کو جنم دیا اور ایسے نتائج مرتب کیے جن کے اثرات عراق کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیل گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا سبق دیتا ہے کہ طاقت ور حکومتوں کے اعلانات کو بھی تنقیدی نگاہ سے پرکھنا ضروری ہے، کیونکہ اندھے اعتماد کی قیمت بعض اوقات پوری پوری نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے ۔ 2020 میں اعلان کردہ ابراہیمی معاہدوں نے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کے قیام یا معمول پر لانے کے ذریعے علاقائی سفارت کاری میں ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ ان معاہدوں کے حامیوں نے انہیں امن اور تعاون کے ایک نئے امکان کے طور پر پیش کیا جبکہ ناقدین کو خدشہ تھا کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے سے تنازع کی بنیادی وجہ بدستور برقرار رہے گی۔ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتبار پیش رفت پر سعودی عرب کا اصرار علاقائی سفارت کاری کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی مقبوضہ قوم کے حقوق اور امنگوں کو نظرانداز کرکے پائیدار امن کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ یمن کی اذیت ناک صورتِ حال بھی ایک اہم تنبیہ ہے۔ حوثیوں، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان تنازعے نے عام شہریوں کو شدید مصائب سے دوچار کیا اور بارہا علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ حوثیوں نے سعودی سرزمین کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ مقامی تنازعات، بیرونی سرپرستی اور علاقائی بالادستی کی کشمکش مل کر پوری پوری آبادیوں کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہیں۔ اس کا حل انتقام اور جوابی انتقام کے لامتناہی سلسلے میں نہیں، بلکہ ایسے منصفانہ سیاسی تصفیے میں پوشیدہ ہے جو شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرے اور قومی خودمختاری کا احترام یقینی بنائے۔پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کے گرد پھیلے ہوئے خطرات سے پوری طرح باخبر رہنا چاہیے۔ بھارت کے ساتھ پیچیدہ تعلقات، افغانستان سے جنم لینے والا عدم استحکام اور سرحد پار سرگرم عسکریت پسند گروہوں کا خطرہ مسلسل چوکسی، دانش مندانہ سفارتکاری اور موثر دفاعی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔آج وقت کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو محض نعروں کے بجائے عملی تعاون کی بنیاد پر ازسرِنو استوار کیا جائے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *