

اگر آپ کو دن بدن وہ باتیں کہنا پڑیں جو آپ محسوس نہیں کرتے، ان لوگوں کے سامنے جھکنا پڑے جن سے آپ نفرت کرتے ہیں، اور ان چیزوں پر خوشی ظاہر کرنی پڑے جو آپ کیلئے نحوست کے سوا
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں تنخواہ داروں کیلئے ریلیف کا اعلان کیا ہے، پچاس ہزار روپے تک ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ 51 ہزار سے ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ پر ایک فیصد ٹیکس ہوگا،
زرداری نے تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر نے یہ فیصلہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیش نظر کیا۔بیان کے مطابق صدر آصف زرداری کے فیصلے کا مقصد
نفع، تنخواہ، اجرت وہی مگر اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوچکاہے۔ مہنگائی نے پاکستانیوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔غریب و سفید پوش طبقے کےلئے جینا مشکل ہوچکا ہے۔ ہر سو مہنگائی کا طوفان ہے، معاشی بے یقینی ہے،