

کراچی: پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے دعویٰ کیا ہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے پہلے ہی سال منافع بخش ادارہ بن جائے گا۔ عارف حبیب نے کہا کہ صرف ان روٹس پر پروازیں چلائی جائیں
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) نے تقریبا چار سال بعد بالآخر برطانیہ کے لیے اپنی براہِ راست پروازیں بحال کر لی ہیں۔ یہ ایک خوش آئند اور دیرینہ انتظار کا لمحہ ہے، جو نہ صرف قومی وقار کی بحالی کی علامت
آپریشنل مسائل کے باعث قومی ایئرلائن پی آئی اے کی کراچی سے لاہور، اسلام آباد اور جدہ جانے والی 5 پروازیں منسوخ کردی گئیں۔فلائٹ شیڈول کے مطابق 20 ملکی اور غیر ملکی پروازیں بھی تاخیر کا شکار ہوئی ہیں۔ کراچی
پی آئی اے کی مسقط سے پشاور جانے والی پرواز فنی خرابی کے باعث کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گئی۔ایئربس اے 320 میں فنی خرابی کے باعث طیارہ چند منٹوں میں اچانک 36 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے اتر
آپریشنل مسائل کے باعث پی آئی اے کی 6 ملکی اور غیر ملکی پروازیں منسوخ جبکہ 11 تاخیر کا شکار ہوئیں۔فلائٹ شیڈول کے مطابق پی آئی اے کی کراچی سے اسلام آباد اور فیصل آباد کی 4 پروازیں اور اسلام
قومی ایئر لائن پی آئی اے کے آپریشنل مسائل کے باعث آج بھی کراچی، اسلام آباد اور پشاور کی 6 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔فلائٹ شیڈول کے مطابق مختلف ایئر پورٹس کی 13 ملکی اور غیر ملکی پروازیں تاخیر کا
پی آئی اے کو طیاروں کو مینٹس کے لیے طویل عرصے تک گرانڈ کرنے سے 21 ارب 81 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ہوائی جہازوں کی معمول کی مینٹس میں 44 سے 239 دن کا
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی آئی اے طویل عرصے سے قوم کیلئے باعث فخر رہی ہے۔ قومی پرچم بردار کے طور پر، یہ آسمانوں میں پاکستان کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں قابل فخر ایئر لائن حکومت
تحریر !ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے قومی خزانے پر ایک بڑا بوجھ ہیں جو مجموعی طور پر سالانہ 458 ارب روپے نقصان کررہے ہیں۔ ان اداروں میں PIA، اسٹیل ملز، ریلوے اور واپڈا (ڈسکوز) قابل
قومی ایئرلائن پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ادارے کی تنظیم نو اور نجکاری کی منظوری دے دی۔پی آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 83 واں اجلاس